275

تعلیم اور روزگار

صبا نے جب لمز(LUMS) میں داخلہ لیا تو ہمیں بڑی تشویش ہوئی کہ گھر سے اتنا دور ہاسٹل میں کیسے رہے گی‘تاہم وہ بہت جلد ہی لاہور میں مانوس ہوگئی بلکہ جب کبھی ہم اس سے ملنے جاتے تو وہ ہماری رہنمائی کرتی‘جب اسکا کورس درمیان میں پہنچا تو چھٹی پر گھر آئی‘تاہم یہاں بھی کاغذات کا ایک پلندہ لیکرآئی‘ایک دن میں نے پوچھا کہ ان کاغذات میں کیا کررہی ہو تو بولی کہ دوسال بعد جب وہ لمزسے فارغ ہوگی تو اسکا ارادہ کوئی معمولی ملازمت کرنے کا ہے۔ میری حیرت دیکھتے ہوئے ہنس پڑی کہ بقیہ تعلیم وہ اپنے پیسوں سے کریگی اور اس طرح سے عملی زندگی کا تھوڑا بہت تجربہ بھی دیکھ لے گی‘ میں نے کہا کہ اس میں تو ابھی دو سال ہیں تو جو اب دیا کہ ان دو سال میں وہ مختلف کمپنیوں کے بارے معلومات حاصل کرکے ان میں سے چند ایک کا انتخاب کریگی اور پھر وہاں درخواست دے گی‘دوسال کا عرصہ مجھے بہت بڑا لگا اس چھوٹے سے کام کیلئے۔ تاہم وہ عرصہ پلک جھپکتے ہی گزر گیا اور صبا نے لمز کا کورس ختم ہونے سے چھ ماہ قبل ہی کراچی میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت حاصل کرلی‘ان چار پوسٹوں کیلئے ہزاروں درخواستیں آئی تھیں لیکن اپنا ہوم ورک کرنے کی وجہ سے صبا اگلے دو سال کراچی میں اچھی تنخواہ پر کام کرتی رہی‘ اسی تنخواہ کی بچت سے نہ صرف اس نے بقیہ تعلیم مکمل کی بلکہ اب ماشاء اللہ بیرون ملک فائنینس کی کنسلٹنٹ ہے۔

صبا مجھے یوں یاد آئی کہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہوئی جس میں ایک انجینئر کی پرائمری سکول کے ٹیچر کی پوسٹ پر تعیناتی کی خبر ہے۔ یہ افسوس کی بات بھی ہے اور فکر کی بھی۔ اس میں قصور کس کا ہے؟میرے خیال میں پہلا قصور انجینئر کا ہے کہ یا تو اسے اپنی تعلیم سے دلچسپی نہیں تھی کہ اس نے ٹیچر کی جاب کیلئے درخواست دی اوریاوہ تعلیم کے دوران اپنے مستقبل کیلئے مناسب پلاننگ نہیں کر پایا۔کم از کم کسی انجینئرنگ فرم کیساتھ مفت ہی میں کچھ وقت گزارلیتا اور تجربے کے ہتھیار سے مسلح ہو جاتا‘دوسرا قصور ہماری یونیورسٹیوں اور کالجوں کا ہے جو دھڑا دھڑ گریجویٹ تو پیدا کررہے ہیں لیکن فارغ التحصیل ہونے کے بعد انکی کوئی رہنمائی نہیں کرپارہے۔ نہ تو طلبہ کو کسی شعبے میں داخلے سے قبل علم ہوتا ہے کہ اس میں کیا سکھایا جاتا ہے ‘ سیکھنے کے بعد عملی زندگی میں کیا کرنا ہوتا ہے‘ کیا اس پیشے سے طالب علم کو کوئی شغف بھی ہے کہ نہیں‘اس میں مستقبل میں کیا سکوپ ہے اور نہ ہی تعلیمی ادارے اس طرف توجہ مبذول کرتے ہیں‘یہ سب باتیں سکول کے زمانے ہی سے طلبہ کے ذہن میں آنی چاہئیں‘ لیکن بدقسمتی سے ابتدا ہی سے بچوں پر رٹّے کا وہ بوجھ لاد دیا جاتا ہے کہ وہ کچھ سیکھنے کی بجائے حفظ اور گائیڈ بکس کے پیچھے پڑ جاتا ہے‘ مقصد صرف اور صرف نمبر حاصل کرنا ہوتا ہے‘ یہ جانے بغیر کہ وہ کہاں جارہے ہیں۔ منزل معلوم نہیں اور صبح سے شام دوڑے جارہے ہیں۔

اس وقت تعلیم کی کمی کا ایک احساس کمتری تیسری دنیا کے عوام کو پاگل بنائے ہوئی ہے‘ ترقی یافتہ ممالک اپنی تعلیم بیچ رہے ہیں اور غریب ممالک کا اوسط طبقہ اپنی ساری جمع پونجی اپنے بچوں کی تعلیم برائے تعلیم پر خرچ کرتا جارہا ہے‘میرے ایک دوست کے بیٹے نے انگلینڈ میں بارہویں جماعت یعنی اے لیول میں بڑے اچھے گریڈ لے لئے تو فیصلہ کیا کہ بس اب اسے بزنس شروع کرنا ہے۔ تاہم وہاں کی حکومت نے ان کیلئے نئے بزنس شروع کرنے کی بھی تربیت کا اہتمام کیا ہے اور چھ ماہ کیلئے یونیورسٹی نے اسے داخلہ بھی دیدیا ہے۔ حکومت تمام تعلیم یافتہ افراد کو ملازمت ہرگز نہیں فراہم کرسکتی‘ملازمت ویسے بھی ترقی کرنیکی سب سے سست رفتار ٹرین ہے‘اس پر سوار ہونے کیلئے کچھ زیادہ بے صبری ظاہر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں‘ ہاں البتہ حکومت اور تمام تعلیمی اداروں کا فرض بنتا ہے کہ کم از کم طلبہ کی رہنمائی کیلئے مناسب فورم بنائے‘ بھارت میں ہر اخبار اور ہر چینل طلبہ کے کیرئیر کونسلنگ کے پروگرام باقاعدگی سے رکھتا ہے‘ میں نے وہاں ہر اخبار میں کم از کم ایک کالم اسی پیشہ ورانہ رہنمائی پر دیکھا ہے۔

یہاں میں نے کئی اخباروں کو خود سے پیشکش کی ہے کہ اگر ضرورت ہو تومیں چند ساتھیوں کیساتھ مل کر ایک کالم اس پر شروع کرسکتا ہوں جہاں مختلف درجے کے طلبہ اپنی پسند کی فیلڈ میں معلومات حاصل کرنا چاہیں تو ہم انکے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کریں لیکن سیاسی اور جرائم کی چیختی چنگاڑتی سرخیوں میں کہاں جگہ ملتی ہے ‘اب لے دے کے ایک حکومت کی طرف سے رہنمائی کی ایک ایسی ہی کوشش ہو رہی ہے‘اس میں نیشنل انکیوبیشن سنٹر (National Incubation Centre) نے تیسری دفعہ درخواستیں طلب کی ہیں جس میں مختلف سٹارٹ اپ پروگر اموں کی نہ صرف رہنمائی ہوگی بلکہ ان کو مناسب مدد بھی دی جائے گی‘یاد رہے کہ دنیا کے تقریباً تمام کامیاب ادارے انہی چھوٹی چھوٹی سٹارٹ اپ کمپنیوں ہی سے ابھرے ہیں‘ اس سلسلے میں www.nicpeshawar.pk کی ویب سائٹ پر درخواستیں دی جاسکتی ہیں۔

میرے ایک اور دوست سہیل انجم اس سلسلے میں بہت سوچ رکھتے ہیں کہ ہم طلبہ کیلئے کوئی ایسی آن لائن رہنمائی کی سروس شروع کرسکیں ۔ تاہم مختلف یونیورسٹیاں سب سے بہتر پوزیشن میں ہیں کہ وہ نہ صرف رہنمائی کے یہ پروگرام سارا سال جاری رکھ سکیں بلکہ گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں میں باقاعدہ سمر کیمپ یا ورکشاپ منعقد کریں۔ ہم بھی طب کی فیلڈ میں ہر سال نئے زیر تربیت سپیشلسٹوں کیلئے کیرئیر کونسلنگ کی ایک ورکشاپ پی جی ایم آئی کے تعاون سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اب تک دو ورکشاپ کرچکے ہیں‘ اس سلسلے میں طلبہ کو بھی آگے آنا چاہئے اور یہ مطالبے اپنے تعلیمی اداروں کے کرتادھرتا لوگوں کے سامنے رکھیں۔ ویسے بھی ان کو اپنے کورس کے علاوہ انٹر نیٹ سے اس قسم کا مواد خود بھی بہت آسانی کیساتھ مل سکتا ہے۔