282

علاقائی امن

حالیہ ٹیسٹ سیریز میں آسٹریلیا کو اسی کی سرزمین پر ہراکر بھارت نے یہ کارنامہ سرانجام دینے والی برصغیر کی اولین ٹیم ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے‘اس جیت پروزیر اعظم عمران خان نے بھارتی کرکٹ ٹیم اور اس کے کپتان ویرات کوہلی کو مبارکباد دی ہے ،جس کی وجہ سے ٹوئٹر پرانہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ بھارت سے کبھی بھی وزیراعظم تو کیا کسی عام سیاسی لیڈر نے بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کسی غیر معمولی کامیابی پر کوئی مبارکباد نہیں بھیجی حالانکہ اس میدان میں پاکستان کی غیر معمولی نوعیت کی فتوحات بھی کچھ کم نہیں رہی ہیں‘ اگر میاں نوازشریف نے ایسا کیا ہوتا تو ان پر جھٹ سے بھارت نوازی کا الزام لگا دیا جاتا اور اسٹیبلشمنٹ کے ٹرولز ان پر بھارتی ایجنٹ ہونے کی کالک بھی مل دیتے‘یہ تو واضح ہے کہ خان صاحب اورمیاں صاحب کیلئے معیار الگ الگ رکھا جا رہا ہے‘بھارت کے حوالے سے ہمارے لیڈران حال ہی میں جو بیانات دیتے رہے ہیں اور جو اقدامات انہوں نے کئے ہیں ان سے انکی دوستانہ فیاضی کے اس تازہ ترین اظہار کی وجوہات کی وضاحت ہوجاتی ہے‘وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریب حلف برداری میں نوجوت سنگھ سدھو کو مدعو کیا تھا جن سے جنرل قمر جاوید باجوہ نے بڑے جوش کے ساتھ معانقہ بھی فرمایا تھا‘ اس معانقے کی بڑی تشہیر بھی ہوئی تھی‘ اسی معانقے کے دوران کرتارپور کاریڈور کھولنے کی بات بھی کہی گئی تھی‘جسے قبول کرنے سے تو مودی حکومت بھی انکار نہیں کر پائی‘اسکے بعد ماہ ستمبر میں خان صاحب نے بھارتی وزیر اعظم کو خط لکھا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے گئے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کی تجویز دی۔

مودی صاحب پہلے تو اس ملاقات پر راضی ہوئے لیکن پھر انہوں نے پاکستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے کی پالیسی کو جاری رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے یہ پیشکش مسترد کر دی‘ یہ ردعمل خان صاحب کیلئے حیران کن تھا‘ انہیں حیرت تھی کہ کوئی مذاکرات سے خائف کیسے ہو سکتا ہے‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کئی بار بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے لیکن بھارت نے یہ پیشکش مسترد کر دی خان صاحب کے کہنے کے مطابق اب پاکستان بھارت میں امسال ہونے والے انتخابات کی تکمیل کا انتظار کریگا تاکہ اسکے بعد اسکی پیشرفت کا اسے مثبت جواب حاصل ہو سکے۔ دوسری طرف بھارت لائن آف کنٹرول پر بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ہر روز وہاں سے بھارتی شیلنگ کی خبریں آتی ہیں جن میں سویلین اور فوجیوں کی جانیں یکساں طور پر ضائع ہو رہی ہیں‘بھارت خود یہ تسلیم کر چکا ہے کہ حالیہ برسوں میں بیرونی دراندازی میں کمی آئی ہے لیکن اسکے باوجود کشمیریوں کیخلاف اسکی جارحیت جاری ہے۔اب حال ہی میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان بھی سامنے آیا ہے‘ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے مشرقی ہمسائے (بھارت) کے ساتھ مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے کیونکہ مغربی ہمسائے کیساتھ تعطل کے خاتمے کی وہ سر توڑ کوشش کرچکا ہے۔

‘ شاہ محمود قریشی صاحب افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی کیلئے عالمی حمایت کے حصول کی کاوشوں کے تحت آج کل اس خطے کے ممالک کے دورے پر ہیں‘ ابھی دو دن پہلے یہ خبر بھی اخباروں میں آئی تھی کہ جی ایچ کیو میں کور کمانڈرز کے اجلاس کے دوران ملک میں سکیورٹی کی صورتحال اور خطے کے جغرافیائی اور دفاعی ماحول کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی گئی لیکن ساتھ ہی خطے میں قیام امن کی کاوشوں کیلئے حمایت پربھی زور دیا گیا‘ اس خبرکا اہم حصہ یہ ہے کہ ملک میں سکیورٹی صورتحال اور پاکستان کی جانب سے کی گئی امن پیشرفت کو جغرافیائی اوردفاعی حالات کیساتھ مربوط سمجھا گیا ہے‘ اسوقت تمام تر توجہ افغان جنگ کے اختتامی مراحل پر مرکو ز ہے جس میں امریکہ‘ روس‘ چین‘ افغان حکومت اور طالبان متحرک حصہ لے رہے ہیں لیکن خطے میں امن پیشرفت کا حوالہ دیکر بھارت کو بھی اس میں اشارتاً شامل سمجھا گیا ہے ۔

بھارت کیساتھ فاصلے بہرحال پاٹنے ہوں گے تاکہ جیسا کہ وزیر خارجہ صاحب بھی کہہ چکے ہیں افغانستان میں کچھ کرنے کیلئے انہیں فرصت میسر ہو سکے‘اصل بات یہ ہے کہ سویلین حکومت تو صرف ان ہدایات پرعمل پیرا ہے کہ جو اپنی اندرونی و بیرونی حکمت عملیوں کی حفاظت کی غرض سے اس کیلئے اسٹیبلشمنٹ نے مرتب کی ہیں سوال یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے ا ن پر کیا ردعمل ظاہر ہو سکتا ہے فی الحال تو یہ سوچنا محال ہو گا کہ وزیر اعظم مودی کوئی مثبت جواب دیں گے۔ بھارت میں پاکستان مخالفت توعام حالات میں بھی ایک معمول ہی ہے لیکن جب انتخابات ہوں اور پھر حکمران بی جے پی کے پاس کچھ اوردکھانے کو بھی نہ ہو توایسے میں پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائیوں کی اہمیت اور ضرورت بہت ہی بڑھ جاتی ہے‘یہی وجہ ہے کہ خان صاحب نے پاکستان کی امن پیشرفت کے مثبت نتائج کے ظاہر ہونے کیلئے بھارتی انتخابات کے بعد تک انتظار کی بات کی ہے‘ دوسری طرف پاکستانی فوج بھی لائن آف کنٹرول کی ہر خلاف ورزی کا اس وقت تک بھرپور جواب دیتی رہے گی جب تک جنگ بندی کیلئے دوطرفہ طور پر موزوں وقت نہ آ جائے‘اپنی پہلی حکومتی میعاد میں تو وزیراعظم مودی نے پاکستان کیخلاف ڈوول کے جارحانہ دفاع کے نظرئیے پربے تکان عمل کیا ہے۔

کشمیرمیں حریت کی تحریک کے خاتمے کے کوئی آثار ہی نہیں اسلئے تو بھارت نے جارحانہ دفاع کے اسی نظرئیے کے تحت بلوچستان‘ کراچی اور فاٹا میں پراکسی دہشت گردی کو فروغ دیاہے‘تین حقائق ایسے ہیں کہ جو بی جے پی کے انتہا پسندمنصوبہ کاروں اور قوم پرستوں کو بھی واضح نظر آرہے ہیں۔ پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ جس چیز کو بھارت پاکستانی در اندازی ٹھہراتا ہے اس میں کمی کے آثار نمایاں ہیں اسکے باوجود کشمیریوں کا جذبہ حریت‘جیسا کہ سب جانتے بھی ہیں ‘ بدستور قائم ہے‘تیسری حقیقت یہ ہے کہ وادی میں بھارتی فوج انسانی حقوق کی جو خلاف ورزیاں کر رہی ہے اس پر دنیا نے اب تشویش کا اظہار شروع کر دیا ہے‘ ان تمام عوامل کو اگر یکجا دیکھا جائے تو بھارت کی اگلی حکومت کے پاس پاکستان کی غیر مشروط مذاکرات کی دعوت پر مثبت جواب دینے کی کافی وجوہات موجود ہیں‘ دونوں ممالک اختلافات کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت محسوس کر سکتے ہیں تاکہ اپنے اندرونی مسائل سے بہتر طور پر نمٹنا ان کیلئے پھر ممکن ہو سکے۔سو‘ اگر باقی سب خیریت رہی تو سال 2019ء میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں برف پگھلنے کے امکانات بہت روشن ہیں ۔