640

سرکاری ملازمین کیلئے ہیلتھ انشورنس سکیم پر کام تیز کرنیکی ہدایت 

پشاور ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے شعبہ صحت میں مکمل شدہ نئے منصوبوں خصوصاً پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، خیبرٹیچنگ ہسپتال میں شعبہ حادثات کے نئے بلاک اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں اضافی وارڈز کو فعال کرنے کی ہدایت کی ہے اور اس سلسلے میں آلات کی تنصیب سمیت تمام انتظامات تیزرفتاری سے مکمل کرنے کی ہدیت کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مکمل شدہ منصوبوں کو عوامی سہولت کیلئے استعمال میں لانا چاہئے۔انہوں نے سرکاری ملازمین کیلئے ہیلتھ انشورنس سکیم پر کام کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ صوبائی حکومت کی اپنی انشورنس کمپنی کی ضرورت سے بھی اصولی اتفاق کیا ہے اور اس سلسلے میں ہوم ورک کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

وزیرخزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا، وزیر مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب، وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اﷲ ، صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اوردیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو شعبہ صحت میں صوبائی حکومت کی مکمل شدہ نئی سکیموں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو اگاہ کیا گیا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں اضافی وارڈز تعمیر کئے گئے ہیں، فزیکل کام مکمل ہے تاہم آلات کی خریداری اور تنصیب کے بعد ان وارڈز کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے 30 اپریل 2019 تک آلات کی تنصیب سمیت تمام انتظامات مکمل کر کے وارڈز کو فعال بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے واضح کیا کہ جس وارڈ میں انتظامات مکمل ہوتے جائیں وہ استعمال میں لائے جائیں۔ تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت دی جا سکے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پشاور انسٹیٹیوٹ فار کارڈیالوجی کی عمارت بھی مکمل ہے جسے 30 جون2019 تک فعال کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ خیبرٹیچنگ ہسپتال کا نوتعمیر شدہ کیجولٹی بلاک بھی مکمل ہے تاہم آلات اور مشینری کی تنصیب کا کام باقی ہے۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ دونوں منصوبوں کو ٹائم لائن کے اندر فعال بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے آلات کی خریداری اور تنصیب کے عمل کو تیز تر اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اس سلسلے میں متعلقہ ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز کا فالواپ اجلاس بلانے کی ہدیت کی۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عوامی مفاد میں تعمیر کی گئی عمارتوں کو بروقت استعمال میں لانے کیلئے مؤثر اقدامات کئے جائے ۔

انہوں نے سیدو گروپ آف ہستال کی اپگریڈیشن ، داسو ہسپتال ، نوشہرہ میدیکل کالج، برن سنٹراور دیگر سکیموں کو بھی فعال کرنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے شعبہ صحت میں منصوبوں کی عوامی اہمیت اور علاقے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحات کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہسپتالوں میں ہنگامی ضروریات سے نمٹنے کا اپنا سسٹم موجود ہونا چاہئے تاکہ عوام کو خدمات کی بروقت فراہمی کے سلسلے میں کسی قسم کا بہانہ نہ رہے۔ ہسپتالوں میں صفائی کا بہترین نظام ہوکیونکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو سہولت دے اور صاف ماحول فراہم کرے۔ اس عمل میں کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔

وزیراعلیٰ نے وویمن اینڈچلڈرن ہسپتال رجڑ میں ڈاکٹروں اور دیگر سٹا ف کی غیر حاضری کا بھی نوٹس لیا اور ان کے خلاف کاروائی کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدیت کی۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے والے اہل کار سرکاری خزانے سے تنخوا لینے کا جواز نہیں رکھتے ، انہیں ڈیوٹی کا پابند بنایا جائے۔