318

ٹیسٹ کیس

ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی کاروائی کے نتیجے میں چار شہریوں کی ہلاکت کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے‘ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے زندگی کے ہر طبقے کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کو اس حوالے سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس واقعے نے نہ صرف ہمارے اداروں کی کارکردگی کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے بلکہ کروڑوں لوگ خصوصاً والدین اور بچے خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں‘ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے اہلکاروں نے غیرذمہ داری اور جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہو‘ ماضی میں بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں اور اگر ہماری یہی روش رہی تو آئندہ بھی ایسے سانحات دیکھنے کو ملتے رہیں گے‘المیہ محض یہ نہیں ہے کہ معصوم بچوں کی موجودگی میں مین شاہراہ پر دن دیہاڑے انکے والدین کو گولیاں ماری گئیں بلکہ صدمہ یہ ہے کہ ان کو ٹھوس ثبوتوں ا ور شواہد کے بغیر دہشت گرد بھی قرار دیا گیا اور دوسرے دن بعض وزراء نے جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے سے قبل پھر سے وہی الزامات اور دلائل دہرائے جو کہ سی ٹی ڈی کی پریس ریلیزمیں موجودتھے‘واقعے پروزیراعظم سمیت سبھی نے افسوس اور دکھ کا اظہار کیا اور انکوائری کا اعلیٰ سطحی حکم بھی دیا جا چکا ہے تاہم سی ٹی ڈی اور بعض وزراء اب بھی اپنے یک طرفہ اور مشکوک موقف پر قائم ہیں۔

حالانکہ ان کے اپنے ہی بیانات اور الزامات واضح تضادات سے بھرے پڑے ہیں‘واقعے کے دوران ریکارڈ کی گئی تین سے زائد ویڈیوز اور عینی شاہدین کے بیانات نے صورتحال بالکل واضح کردی ہے اور یہ تلخ حقیقت سب جان چکے ہیں کہ اس واقعے کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا جارہا ہے اور مزید تحقیقات کی آڑ میں اگر مگر جیسے الفاظ سننے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی ہے‘سب سے بڑا سوال اب بھی یہی ہے کہ اگر گاڑی میں واقعتا دہشت گرد تھا یا تھے تو یہ اجازت کس قانون نے دے رکھی ہے کہ سب کو گرفتار کرنیکی بجائے چھلنی کر دیا جائے ؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اتنی اہم اور خصوصی فورس کی ٹریننگ اور ڈیلنگ کا اگر یہ حال ہے تو عام پولیس کی ٹریننگ اور کارکردگی کا کیا عالم ہوگا ماورائے قانون جعلی پولیس مقابلوں اور کاروائیوں کا سلسلہ بے پناہ سانحات کو جنم دینے کا سبب بنتا جارہا ہے اور روزانہ عام شہری اسکا نشانہ بنتے آرہے ہیں‘ واقعے کے دوسرے روزساہیوال ہی میں عوام نے چند پولیس اہلکاروں کا جو حال کیا وہ خطرناک عوامی رد عمل کے علاوہ اداروں پر عوام کے عدم اعتماد بلکہ نفرت کا کھلا اظہار تھا۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی مسلسل پامالی اور اداروں کا اپنے اختیارات سے تجاوز کا مسئلہ کم اور حل ہونے کی بجائے جس رفتار سے بڑھتا جارہا ہے اس پر اقوام متحدہ نے بھی اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا ہے اب اس مسئلے کا نوٹس لینا ہی چاہئے ورنہ عوام پولیس اور حکمرانوں کیخلاف مزاحمت پر اتر آئیں گے‘ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 440 شہری پولیس مقابلوں میں مارے جاتے ہیں ‘اس سلسلے میں کہا گیا ہے کہ صرف سال 2015کے دوران پولیس مقابلوں میں تقریباً دو ہزار افراد مارے گئے پولیس کے ان مقابلوں میں سندھ اور پنجاب سرفہرست ہیں‘2016ء کے دوران صرف پنجاب میں291 پولیس مقابلے کئے یا کر ائے گئے‘سندھ خصوصاً کراچی ایسے مقابلوں یا کاروائیوں کیلئے بہت بدنام ہے‘ اس ضمن میں محض ایک پولیس آفیسر راؤ انوار کی مثال کافی ہے جسکے بارے میں جے آئی ٹی نے خود رپورٹ دی کہ انکے ہاتھوں 400 سے زائد ماورائے عدالت یا ماورائے قانون ہلاکتیں ہوئیں ‘سزا اور جزا کا عمل اس عرصہ کے دوران کیا اور کیسے رہا اس کی مثال بھی راؤ انوار کی صورت میں دی جا سکتی ہے جو آج بھی آزاد گھوم رہا ہے‘سانحہ ساہیوال موجودہ حکومت خصوصاً وزیراعظم عمران خان کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے اگر انصاف ہوتا نظر نہیں آیا اور ادارہ جاتی تحفظ کے نام پر ماضی کو دہرایا جاتا رہا تومعاشرتی اور نفسیاتی طور پر اسکے انتہائی سنگین اور منفی نتائج اور اثرات مرتب ہوں گے اور متعلقہ اداروں کے علاوہ موجودہ حکمرانوں پر سے بھی عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا ۔