409

بچے کیوں بچ گئے

سانحہ ساہیوال کی بات بڑھتے بڑھتے تین بچوں کے بچ جانے سے لیکراسامہ بن لادن کے قتل تک جا پہنچی ہے‘ پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ دس سالہ عمیر‘ سات سالہ منیبہ اور چار سالہ ہادیہ کو گاڑی سے نکال کرباہر کھڑا کر دینے کے بعدانکے والد خلیل ‘ والدہ نبیلہ اور تیرہ سالہ بہن اریبہ کو ایس ایم جی رائفل کی پینتالیس گولیوں سے کیوں بھون دیا گیا یہ سب کچھ لکھ دینا کتنا آسان ہے اوراس وحشت اور بربریت کو اپنے جسم پر سہنا کتنا مشکل ہے‘جس سوچ اور اندیشے نے پورے ملک کوسوگوار کیا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس دشت بے اماں میں کسی کی جان و مال محفوظ نہیں یہاں ہر عام شہری فیئرگیم ہے جو بچ گیا ہے وہ اپنی باری کے انتظار میں ہے‘مجھے توسانحہ ساہیوال کی خبریں پڑھ کر یونہی لگتا ہے حقیقت میں ہو سکتا ہے حالات اتنے خراب نہ ہوں‘ بہت عرصہ پہلے نیویارک کے علاقے بروکلین میں ایک ادیب دوست کے گھر ڈکیتی کی واردات ہوئی میں اظہار افسوس کیلئے گیا تو بڑی عاجزی سے اس نے کہا کہ یار یوں لگتا ہے جیسے اس گھر کے درو دیوار نہیں ہیں اور میں سڑک پر بیٹھا ہوا ہوں‘اس بات کو پورے چونتیس برس ہو گئے ہیں آج میں سانحہ ساہیوال کے بعد سوچتا ہوں کہ میرے ملک کے بائیس کروڑ لوگ بھی سڑکوں پر بیٹھے ہوئے ہیں‘ کسی دہشت گرد کا جی چاہے‘ ریاست کے کسی اہلکار کا موڈ خراب ہویاکوئی سر پھرا اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہے سب کو کھلی چھٹی ہے۔

مکمل آزادی ہے کہ وہ جسے چاہے نشانہ بنا لے بعد میں جو ہو گا دیکھا جائیگا ہفتہ انیس جنوری کو دوپہر بارہ بجے ساہیوال ٹول پلازہ پر سی ٹی ڈی کے پانچ اہلکاروں نے خون کی جو ہولی کھیلی اسنے ان گنت سوالوں کو جنم دیا ہے ان میں سے کوئی سوال بھی نیا نہیں ہے سب وہی پرانی باتیں ہیں ‘ پنجاب پولیس کی رسوائے زمانہ سفاکی‘ جعلی پولیس مقابلوں کی وحشت‘ جے آئی ٹی اور جوڈیشل انکوائریوں کے دلاسے ‘ صوبائی اور مرکزی حکومت کے متضاد بیانات‘ پولیس کی پہلی اور دوسری ایف آئی آر‘ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی گردان اور دو چار سرکاری افسروں کی معطلی یہ سب کہانیاں سنتے سنتے ہم بوڑھے اور ہمارے بچے جوان ہو گئے ہیں‘ مجھے اس نئے سانحے کی تہہ تک پہنچنے والا اہم سوال یہی لگتا ہے کہ عمیر‘منیبہ اور ہادیہ کو گاڑی سے نکالنے کے بعد ایس ایم جی کی پینتالیس گولیاں اندر بیٹھے ہوئے تین افراد پر کیوں برسائی گئیں‘یہ سوال بعض کالم نگاروں نے پوچھا ہے مگر وہ اسکا تسلی بخش جواب نہ دے سکے‘ واقعات کی ڈورانکے ہاتھ سے نکل گئی یا پھر انہوں نے اسے قابل توجہ نہ سمجھا‘ میرے لئے یہ سوال اسلئے اہم ہے کہ اسکا تعلق مجرموں کی نفسیات کے علاوہ ہمارے ریاستی اداروں کے مائنڈ سیٹ سے بھی ہے‘ بچے کیوں بچ گئے یہ وہ سوال ہے جسکا صحیح جواب آپکو ہمارے کریمینل جسٹس سسٹم کی تاریک دنیا کے اندر لیجائیگا۔

مجھے یہ جواب یوں معلوم ہوا کہ میں 1978میں ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں پشاور ٹیلیوژن کے ساتھیوں کیساتھ ضیاء ا لحق کے ملٹری کورٹ کی دی ہوئی سزا کاٹ رہا تھا اس جیل میں میرے محلے شالیکوبان کا ایک ایسا قاتل بھی تھا جس نے دن دیہاڑے میرے ایک دوست کے نوجوان بھائی کو چاقو کے پے در پے وار کر کے قتل کیا تھا‘ یہ واردات اتنی لرزہ خیز تھی کہ لوگ اسکا ذکر کرنے سے بھی گھبراتے تھے منیر اب زندہ نہیں رہا مگر ڈیرہ جیل میں اسنے مجھے اپنے طریقہ واردات کے بارے میں جو کچھ بتایا وہ مجھے آج بھی یاد ہے ہم دونوں کا تعلق کیونکہ ایک ہی محلے سے تھا اورہم اپنے شہر سے بہت دور ایک جیل میں تھے اسلئے بہت جلد ہماری بات چیت شروع ہو گئی‘ میں نے اس سے دور رہنے کی کوشش کی مگر ممکن نہ ہوسکا‘ گرمیوں کی ایک چلچلاتی دوپہر میں منیر سے ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہوئے وہ تمام سوالات میری زبان پر آگئے جو اس واردات کے بعد ہم محلے کی بیٹھکوں میں ایک دوسرے سے پوچھتے رہتے تھے میں نے اس سے پوچھا کہ مقتول کو تم نے چاقو کا وار کر کے گرا دیا تھا وہ تمہارا دشمن بھی نہ تھا کیا اسے زخمی کر دینا کافی نہ تھا قتل کر دینے کی کیا ضرورت تھی‘ بارہ سال قید بامشقت کاٹنے والے قیدی نے صرف اتنا کہا کہ ہاں تم ٹھیک کہتے ہو اسکے بعد کچھ دیر خاموشی رہی پھر وہ اٹھا اور اٹھ کر چلا گیا اسکے بعد کئی دن تک وہ مجھے نظر نہ آیا میں اپنی حماقت پر خاصا پشیمان تھا اسکے چند دن بعد میری ٹرانسفر پشاور جیل کر دی گئی۔

جیل کے اندر اس قسم کی باتیں بہت جلد پھیل جاتی ہیں میرے جانے سے پہلے منیر مجھ سے ملنے آیا کچھ دیر پشاور کی باتیں ہوتی رہیں پھر وہ کہنے لگا تم جا رہے ہو میں تمہیں ناراض نہیں کرنا چاہتا اپنے سوالوں کے جواب سن لو اس دن تندور پر اسنے بہت سے لوگوں کے سامنے میری بے عزتی کی‘ میں وہاں سے نکلا اور گلی کے موڑ پر اسکا انتظار کرنے لگا وہ جب قریب آیا تو میں نے چاقو نکال کر اس پر ایک وار کیا وہ گر پڑا اور کراہنے لگا میں واپس ہوا دو چار قدم لئے تو اسکی آواز آئی کہ ظالم تم نے مجھے مار ڈالا ہے‘ یہ سن کر مجھے احساس ہواکہ اسنے میرے خلاف پولیس کو بیان دیدیا اور بعد میں مر گیا تو مجھے پھانسی ہو جائیگی لہٰذا سے راستے سے ہٹا دینا ضروری ہے بس یہ سوچ کر میں مڑا اور اسے ختم کر دیا‘ڈیرہ جیل کی گرم دوپہروں میں اسوقت کے نامی گرامی قیدیوں سے ایسی ایسی کہانیاں سنی ہیں کہ اب تک وہ باتیں یاد ہیں اور وہ کردار سامنے بیٹھے نظر آ رہے ہیں‘انسداد دہشت گردی کے محکمے والوں نے دس سالہ عمیرکو تو چھوڑ دیا مگر تیرہ سالہ اریبہ کو قتل کر دیاوہ اریبہ کو بھی گاڑی سے نکال کر اسکے ماں باپ کو اپنی وحشت کا نشانہ بنا سکتے تھے مگرThere was a method in the madness انکے پاگل پن میں ایک نظم و ضبط تھااریبہ انکی دانست میں اصل کہانی سنا سکتی تھی۔

اسلئے اسکاراستے سے ہٹا دیا جانا ضروری تھا‘ دس سالہ عمیر چھوٹا تھا اورریاستی دہشت گردوں کے نظام فکر کے مطابق کہانی نہ سنا سکتا تھا مگر پھر ہوا یوں کہ عمیر ہی نے سارا بھانڈا پھوڑ دیا‘ اسکی گواہی کو خلق خدا نے نا قابل تردید مان لیا‘پنجاب کے وزیرقانون راجہ بشارت نے پہلے سی ٹی ڈی والوں کا دفاع کیا اسکے بعد انہوں نے ہر روز ایک نیا بیان دیکر خفت مٹانے کی کوشش کی‘ منگل بائیس جنوری کے اخبار میں انکا بیان تھا کہ’’ ساہیوال آپریشن درست فیملی بیگناہ ہے‘‘ فیملی تو نیست و نابود ہو چکی اب تین چھوٹے بچوں اور انکے مقتول والدین کو آپ بیگناہ کہیں یا گناہگار اس سے کیا فرق پڑ تا ہے لیکن آپکے حسن کرشمہ ساز نے کچھ نہ کچھ کرتب اور پھرتیاں تو دکھانی ہیں آپ وزیر قانون جو ہوئے‘ اب کچھ بات کرتے ہیں اس تعلق کی جو بعض دانشوروں نے سانحہ ساہیوال اور اسامہ بن لادن کے قتل کے درمیان جوڑا ہے۔

اسلام آباد کے ایک نامور صحافی نے رابرٹ گیٹس کی کتاب Duty‘ ہیلری کلنٹن کی Hard Choices اور Leon Penatta کیWorthy Fights کے حوالے دیکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ صدر اوباما کو انسانی جانوں کے زیاں کا اتنا احساس تھا کہ وہ کئی دن تک یہ سوچتے رہے کہ بن لادن کیخلاف آپریشن کیا جائے یا نہیں‘عرض خدمت یہ ہے کہ باراک اوباما نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں428ڈرون حملے کرکے ہزاروں بچوں‘ بوڑھوں‘ عورتوں اور جوانوں کو ہلاک کروایا تھااسے اگر آپ پاکستانیوں کی جانوں کے بارے میں فکر مند ہونے کا کریڈٹ نہ دیں توبڑی مہربانی ہو گی‘ اسنے ایبٹ آباد پردو مئی 2011 کی رات حملہ کرنے سے پہلے کئی روز تک اپنے مشیروں سے مشاورت کی تھی اور تنہائی میں سوچ بچار بھی کی تھی وہ سوچ بچار یہ تھی کہ یہ آپریشن اگر ناکام ہو جائے تو نہ صرف یہ کہ اسکی پوری صدارت کو ناکام قرار دیا جائیگا بلکہ نومبر2012 میں ہونیوالے صدارتی انتخابات میں بھی اسے بری طرح شکست کھانی پڑیگی لہٰذا اوباما کو پاکستانیوں کا ہمدرد قرار دینے سے پہلے چند دوسرے حقائق کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے ۔