308

انصاف کاترازو

فوجی عدالتیں چار سال قبل میاں نواز شریف کے دورحکومت میں ملک میں دہشت گردی کی لہر کی بدولت جنم لینے والی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قائم کی گئی تھیں‘قیام کے دو سال بعد سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے انکی مدت میں مزید دو سال کی توسیع کی منظوری دی تھی اور یہ میعاد حال ہی میں ختم ہو گئی ہے‘تاہم‘اب جبکہ ہماری فوج تین ہزار جانباز سپاہیوں کی جانوں کی قربانی دیکر دہشت گردوں کی کمر توڑ چکی ہے توکچھ لوگ باجواز طور پر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان عدالتوں کی میعاد میں مزید توسیع کی اب ضرورت کیا ہے؟ پاکستان کیوں جنوبی ایشیاء کا واحد وہ ملک بنا رہے جہاں ملزمان کو مقدمات کا سامنا بدستور بند دروازوں کے پیچھے کرنا پڑتا ہے حالانکہ دنیا کے سامنے ہم اپنے پر امن اور معتدل ہونے کا پرچار کرتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض جمہوری دساتیر جنگ جیسی صورتحال میں سویلین افراد پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کی اجازت دیتے ہیں‘اور طالبان کیخلاف جنگ بلا شبہ ایک ایسی ہی صورتحال تھی‘ تاہم عمومی اصول یہی ہے کہ حتیٰ الوسع فوجی عدالتوں سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ ان میں سویلین معیار کے مطلوبہ قانونی عمل کو نہیں اپنایا جاتا ‘انکے طریق ہائے کار غیر واضح رہتے ہیں‘سویلین کورٹس میں اپیل کا حق نہیں ملتا اور جج کیلئے یہ ضروری بھی نہیں ہوتا ہے کہ انہوں نے قانون کی کوئی باقاعدہ تعلیم یا تربیت حاصل کی ہو‘پاکستان میں تیز ی سے کام کرنیوالی اور ثوابت کے حوالے سے نرم قواعد رکھنے والی انسداد دہشت گردی کی عدالتیں فوجی عدالتوں سے بچنے کیلئے ہی قائم کی گئی تھیں‘تاہم مطلوبہ نتائج کے حصول میں یہ ناکام اسلئے ہوئیں کہ سرکاری وکلاء ثوابت جمع کرنے اور انہیں پیش کرنے کی مطلوبہ مہارت سے محروم ہوتے ہیں۔

اور پھر گواہوں اور ججوں کی حفاظت کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا اسی لئے اس نظام کے نقائص دور کرنے کی بجائے ہمیں ان خصوصی عدالتوں کی طرف واپس جانا زیادہ آسان حل معلوم ہوتا ہے‘جن جرائم پر مبنی مقدمات کی سماعت ان عدالتوں میں ہو سکتی ہے ان کی فہرست کافی طویل اور ہیبت ناک ہے‘ زیادہ متنازعہ اور پریشان کن وہ شقیں ہیں جن میں غیر واضح قسم کے جرائم کا ذکر کیا گیا ہے مثال کے طور پر اغواء برائے تاوان یا کوئی ایسا اقدام جوعوام میں بے چینی‘ سراسیمگی کا مؤجب بنتا ہو اور نقص امن کا سبب ہو‘یا اگر کسی بھی ایسے اقدام کی مالی معاونت کی گئی ہو‘ وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی قسم کی بعض اور باتیں ہیں جو انسداد دہشت گردی عدالتوں کے لئے وضع کئے گئے نظام میں بھی موجود ہیں اور اگر ان کی پشت پر کارفرما مقصد کو سیاسی طور پر مشکوک نہ سمجھاجائے تویہ فوجی عدالتیں غیر ضروری معلوم ہوتی ہیں‘حقیقت یہ ہے کہ پی پی پی اگران عدالتوں کی مخالفت کر رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ متعلقہ ایکٹ میں جن اقدامات کو دہشت گردی قرار دیا گیا ہے ان میں سے کسی کے بھی سلسلے میں مالی رقوم کی ترسیل اور وصولی بھی قابل دست اندازی سمجھی جائے گی۔ اسی شق کے تحت چار سال قبل پارلیمان کی منظوری کیساتھ باقاعدہ طو ر پر کرپشن اور دہشت گردی کا ایک ربط بتاتے ہوئے سندھ میں وہاں کی منتخب حکومت کو تقریباً یرغمال بنا لیا گیاتھا۔

پی پی پی حکومت کے سرکردہ عناصر کو ہدف بنایا جانے لگا ۔ اس کے بعد پھر جلد ہی آصف علی زرداری سمیت پی پی پی کے لیڈران ملک سے باہر چلے گئے اور جو باقی بچے تھے انہیں انسداد دہشت گردی عدالتوں میں گھسیٹا جانے لگا تھا اس وقت زرداری صاحب ان سرگرمیوں کیخلاف آواز اٹھا رہے تھے لیکن میاں صاحب بڑے جوش و خروش سے ان کی کی حمایت کرتے رہے‘اب البتہ بہت کچھ بد ل چکا ہے۔اب خود میاں نواز شریف بھی زیر عتاب ہیں‘ اس صورتحال میں گمان تو یہی بنتا ہے کہ شاید زرداری و میاں صاحبان ان عدالتوں کی میعاد کی توسیع پورے جوش و خروش سے کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ان عدالتوں کی میعاد میں توسیع کی جو کوشش ہو رہی ہے اس کی مخالفت کے آثار دونوں ہی جماعتوں میں نہیں دیکھے جا رہے۔وجہ کیا ہے؟ یہ بات سمجھنی تو بالکل آسان ہے کہ پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت کیوں کر رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہی اسے حکومت میں لانے کی ذمہ دار ہے تو وہ کیوں اپنے محسنوں کوناراض کرنے کی جرات کرے گی؟تاہم نون لیگ اور پی پی پی کیلئے نہایت گھٹن کا ماحول ہے‘مسلم لیگ کیلئے مشکل ہے کہ وہ اسی آئینی ترمیم کی مخالفت کرے جو اس نے متعارف ہی خود کی تھی۔ کسی حد تک شور صرف پی پی پی کی طرف سے مچایا جا رہا ہے اور اسکا مقصد یہ ہے کہ اس ترمیم کے لئے حمایت کے بدلے زرداری صاحب کی جان بخشی حاصل کی جائے‘یعنی ان عدالتوں کے نظام پر تمام تر اعتراضات کے باوجود امکان یہی ہے کہ چند ایک تبدیلیوں کیساتھ ان کی مدت میں توسیع کر دی جائے گی۔ پچھلا چار سالہ ریکارڈ دیکھا جائے تو فوجی عدالتوں میں کل سات سو تینتیس مقدمات دائر کئے گئے جن میں سے دو سو چوراسی مقدمات میں دہشت گردوں کو سزائے موت سنائی گئی جن میں سے در اصل سزا پانے والوں کی تعداد محض چھپن ہے ایک سو بیانوے کو تا حیات قید بامشقت کی سزا دی گئی۔

دو بری کئے گئے اورچون مقدمات ایسے ہیں جو کہ نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر ختم کر دئیے گئے‘پچھلے چار سالوں کے دوران ایک سو پچاسی مقدمات ایسے تھے جن پر کوئی کام نہیں ہوا جن دہشت گردوں کو سزائیں سنائی گئی ہیں ان میں سے نوے فیصد کو سزا ان کے ایسے اعترافی بیانات کی بنیاد پر سنائی گئی جو انہوں نے غائب ہونے کے بعد ریکارڈ کروائے ‘ یہ وہ نکتہ ہے جہاں انصاف کا ترازو توازن بالکل کھو دیتا ہے اور سویلین افراد کو شدید خوف اور ڈر کا شکار کر دیتا ہے‘اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ جو چاہے وہ جلد یا بدیر حاصل کر کے ہی رہتی ہے ۔ تاہم اگر سویلین افراد اس ترمیم کی موجودہ صورت میں بعض شقوں کی تبدیلی پر اسے آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو انصاف کے ترازو کو درست کرنے میں یہ بھی ایک بڑی کوشش سمجھی جائے گی۔