413

اداروں کی کارکردگی؟

وزیراعلیٰ محمود خان نے میاں راشد ہسپتال پبی کے اچانک دورے میں ہیلتھ سیکٹر کیلئے اصلاحات ٗفنڈز کے اجراء اور مراعات کی فراوانی کے بے ثمر نتائج خود ملاحظہ کئے ہیں‘وزیر صحت ہشام انعام اللہ خان بھی مردان کے ہسپتالوں میں جاکر خدمات کی فراہمی کا جائزہ لے چکے ہیں ٗمیڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعلیٰ کی پبی ہسپتال آمد پر ایم ایس اورڈی ایم ایس سمیت اکثر ڈاکٹر غیر حاضر تھے‘معلوم یہ بھی ہوا ہے کہ ہسپتال کے80میں سے صرف3ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود تھے ہسپتال میں ڈیوٹی روسٹر بھی نہ پایا گیا‘ سرکاری ہسپتالوں میں صورتحال شاید اس سے بھی بدتر ہوتی اگر وزیر اعلیٰ اچانک چھاپوں کا سلسلہ شروع نہ کرتے وزیر اعلیٰ کے دوروں کا ہی نتیجہ ہو سکتا ہے کہ 80میں سے3ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود پائے گئے ٗ تمام تر سروسز کا نہ ملنا اور لوگوں کیلئے مجبوراً اپنے اثاثے فروخت کرکے نجی شعبے میں جانا انتہائی تشویشناک ہے ٗ اس سے زیادہ تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں چارجز کے حوالے سے کوئی قاعدہ موجود نہیں جس کی جو مرضی آئے وہ کر رہا ہے‘پرائیویٹ کلینکس سے جعلی ڈاکٹر گرفتار ہو رہے ہیں توبعض لیبارٹریاں غیر مستند عملہ چلارہا ہے آپریشن ایسے تھیٹرز میں ہو رہے ہیں جہاں سہولیات مقررہ معیار کی حامل نہیں‘چیک اینڈ بیلنس میں صرف رجسٹریشن فیس جمع کرکے رسید حاصل کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔

‘ہیلتھ سیکٹر کسی بھی ریاست میں انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ریاست کے ادارے اگر مہیا وسائل میں اعلیٰ خدمات فراہم نہ کرسکیں تو پرائیویٹ سیکٹر کو اس میں سرمایہ کاری کا کہا جاتا ہے نجی شعبہ معیاری خدمات پر اس بات کا مستحق ہے کہ اسے بھرپور سپورٹ دی جائے‘تاہم یہ سب صرف ان اداروں کیلئے ہو جو واقعی میں معیاری سروسزدے رہے ہوں ‘سرکاری شعبے میں چلنے والے اداروں میں کارکردگی کی مانیٹرنگ کیلئے فول پروف نظام ہونا چاہئے جبکہ کارکردگی کیساتھ رویوں کو بھی مانیٹر کیا جائے‘ پرائیویٹ شعبے میں معیار اور چارجز کے درمیان توازن لانا ہوگا اس سب کیلئے نئے جذبے سے کام کی ضرورت ہے‘ اب تک کے اقدامات کے نتائج تو وزیر اعلیٰ خود دیکھ بھی رہے ہیں جبکہ عام شہری یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ ہمارے طبی ادارے تو اتنے عرصے میں سالڈ ویسٹ کو محفوظ طور پر ٹھکانے لگانے کا انتظام تک نہیں کر پا رہے۔

بلدیاتی نظام کا خاکہ

خیبر پختونخوا کیلئے مجوزہ لوکل گورنمنٹ سٹرکچر میں ویلج کونسلوں کی شرح 86فیصد رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے‘ اس طرح نیبر ہڈ کونسلیں14فیصد رہ جائیں گی‘وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں صوبائی دارالحکومت کو اربن اور رورل تحصیلوں میں تقسیم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ٗبلدیاتی سیٹ اپ میں تحصیل اور ضلع کونسلوں کے درمیان تقسیم کار کا واضح ہونا ضروری ہے ٗ اس میں کوئی شک نہیں کہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کیلئے اقدامات اٹھائے گئے تاہم ضروری ہے کہ اب تک پورے سسٹم کے آپریشن میں آنیوالی رکاوٹوں کا جائزہ لیا جائے بلدیاتی سسٹم کا جو خاکہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں پیش کیا گیا اس میں مجسٹریسی نظام کو ختم کر دیا گیا تھا اس کے نقصانات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب بیورو کریسی اس کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے نئے سیٹ اپ میں ضروری ہے کہ اس مطالبے کا جائزہ لیتے ہوئے مجسٹریسی نظام دوبارہ بحال کر دیا جائے۔