358

آٹھویں جماعت کے طالبعلم کے قتل کا سراغ 

پشاور۔کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے چند روز قبل حیات آبادمیں آٹھویں جماعت کے طالب علم کے اندھے قتل میں ملوث ملزم کا سراغ لگا لیا قاتل طالب علم کا قریبی رشتہ دارنکلا جس نے حسد میں آکر 17 سالہ ابوہریرہ کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران جرم کا اعتراف کرلیا ہے جس کی نشاندہی پر اس کے قبضے سے آلہ قتل اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی ہے۔

اس ضمن میں گزشتہ روز اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس (اے ایس پی) حیات آباد سرکل نجم الحسنین نے ایس ایچ او حیات آباد کامران مروت کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایاکہ 21 جنوری کو خضر خان ولد سہیل خان اور ابو ہریرہ ولد کریم اللہ ساکنان بنوں حال فیز 3حیات آبادسودا سلف خریدنے کے لئے مارکیٹ جا رہے تھے کہ اس دوران ایک نا معلوم موٹر سائیکل سوار نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں دونوں لگ کر شدید زخمی ہو گئے دونوں مجروحین کو بغرض علاج معالجہ ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستہ میں مجروح ابو ہریرہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا مجروح خضر خان کی مدعیت میں نا معلوم ملزم کیخلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ۔

اے ایس پی نے بتایا کہ اعلیٰ افسران نے طالب علم کے اندھے قتل کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایس پی کینٹ وسیم ریاض کی سربراہی قائم خصوصی ٹیم نے تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی معاونت سے کم عمر طالب علم کے اندھے قتل میں ملوث اصل ملزم کو بے نقاب کرتے ہوئے ملزم عمیر ولد ذبیح اللہ سکنہ بنوں کو گرفتار کر لیا گیا جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران تفتیشی ٹیم کے روبرو اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول ابو ہریرہ اُس کا قریبی رشتہ دار تھا جسے حسد کی بنیاد پر قتل کردیا، ملزم کی نشاندہی پر اس کے قبضہ سے آلہ قتل اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

گرفتار ملزم عمیرنے میڈیا کو بتایا کہ ’’مقتول ابوہریرہ کی فیملی انتہائی امیر تھی اور اسی امیری کی وجہ سے وہ گاؤں کو چھوڑ کر حیات آباد جیسے پوش علاقے میں شفٹ ہوگئے تھے ابوہریرہ کی فیملی جب پشاور شفٹ ہوگئی تو میں اپنی غریبی کی وجہ سے احساس کمتری میں مبتلا ہوگیا اوران کو غم میں مبتلا کرنے کیلئے منصوبہ بندیاں کرنے لگا پھر اسی منصوبہ بندی کے تحت موقع ملتے ہی اسے 21 جنوری کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ۔

دوسری جانب سی سی پی او پشاور قاضی جمیل الرحمان نے اندھے قتل کا سراغ لگانے والی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انعامات اور توصفیے اسناد دینے کا اعلان کیا ہے سی سی پی او نے بتایاکہ محکمہ پولیس میں تفتیش کا نظام انتہائی بہتر ہوچکاہے جس کی بدولت روزانہ کی بنیاد پر کیسز کا سراغ لگایاجارہاہے ۔