246

ترجیحات اور منصوبہ بندی

وزیراعظم عمران خان نے متعلقہ اداروں کو طورخم بارڈر 24گھنٹے کھلا رکھنے کیلئے انتظامات مکمل کرنے کا حکم دیا ہے‘ اس مقصد کیلئے 6ماہ کی ٹائم لائن دی گئی ہے‘ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے باہمی تجارت بڑھانے میں مدد ملے گی‘ وہ پشاور سے ملائشیاء کیلئے پروازیں بھی جلد شروع کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں‘ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ سیاحت کے فروغ میں ان کی حکومت کی جانب سے دی گئی نئی ویزا پالیسی سنگ میل ثابت ہوگی‘ وطن عزیز کو درپیش معاشی چیلنجوں کے تناظر میں وزیراعظم کی ہدایات ‘مسائل کے احساس وادراک کی عکاس ضرور ہیں تاہم اہداف کو پانے کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے‘ اقتصادی امور ڈویژن کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ 6ماہ میں 2ارب 31کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرضہ لیا‘ صرف ماہ دسمبر 2018ء میں حاصل قرضے کا حجم 42کروڑ 26لاکھ ڈالر ہے‘ تجارت کیلئے وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ اکانومی کو درپیش مشکلات کے باعث عوام کیلئے فوری ریلیف ممکن نہیں‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ فی الحال بھارت کیساتھ تجارت بھی ممکن نہیں وزیر خزانہ اسد عمر معاشی اہداف کے حصول کو سرمایہ کاری کیساتھ مشروط کرتے ہیں‘ اکانومی قرضوں تلے دب کر رہ گئی ہے جبکہ عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں انتہائی نالاں ہے‘ مہنگائی کے ساتھ ملاوٹ نے زندگی اجیرن کررکھی ہے‘ بنیادی شہری سہولیات کے فقدان کیساتھ سروسز کا حصول انتہائی دشوار ہے‘ بعض اہم اداروں کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ انہیں تنخواہیں ادا کرنے کیلئے بھی حکومت ہی پیکج پر پیکج دیئے جارہی ہے‘ اس ساری صورتحال میں وزیراعظم افغانستان اور ملائشیاء سمیت دیگر ممالک سے تجارت بڑھانے اور سرمایہ کاری لانے کا وژن رکھتے ہیں تو یہ لاکھ قابل اطمینان سہی‘ اس پر عمل درآمد کیلئے پورے ماحول کو تبدیل کرنا ہوگا‘ ہمیں اپنی صنعتوں کو فروغ دینے کیلئے سرمایہ کاروں کو تحفظ‘ مراعات اور سروسز فراہم کرنا ہوں گی‘ ہمیں پیداواری لاگت کم کرنا ہوگی‘ غیر روایتی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہوگا‘ سمگلنگ کا خاتمہ کرنا ہوگا‘ توانائی بحران ختم کرنا ہوگا‘ یہ سب ٹھوس منصوبہ بندی اور بہتر سیاسی فضاء میں ممکن ہے۔

جہاں تک سیاحت کے شعبے کا تعلق ہے تو دنیا میں اسے صنعت کا درجہ دیاگیا ہے اور کئی ممالک کی اکانومی کا دارومدار ہی سیاحت پر ہے‘ ٹوارزم انڈسٹری کسی ایک محکمے کی ورک فورس اور وسائل سے نہیں چل سکتی‘ اس کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطے اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے‘ ہمارے ہاں باہمی رابطوں کا فقدان عام ہے‘ دستور میں ترمیم کے بعد بعض محکموں اور اختیارات کی منتقلی کا کام ابھی تک نہیں ہوسکا‘ ایسے میں ٹوارزم انڈسٹری کیلئے درجنوں سٹیک ہولڈرز کے درمیان کس طرح باہمی رابطہ اور وسائل یکجاکرکے مشترکہ اقدامات کو ممکن بنایاجاسکتاہے‘ خیبرپختونخوا سیاحت کے حوالے سے پوٹیشنل کاحامل ضرور ہے تاہم یہاں کاانفراسٹرکچر اور سیاحتی مقامات پر سہولیات کی فراہمی ایک میگا پراجیکٹ ہے جبکہ ہمارے ہاں ایک عام سڑک کی تعمیر میں کئی کئی سال گزر جاتے ہیں‘ ہم پی ٹی ڈی سی سے جڑے بعض معاملات ابھی تک یکسو نہیں کرپائے‘ خیبرپختونخوا میں تو سیاحتی مقامات پر میونسپل سروسز تک معیاری نہیں، مارکیٹ میں سیزن کے دوران ریٹ اس حدتک بڑھ جاتے ہیں کہ لوگ کھانے پینے کی اشیاء ساتھ لے جانے پر مجبور ہوتے ہیں‘ سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک چھت تلے جمع کرنا ہوگا‘ تمام محکموں کے وسائل اور افرادی قوت یکجا کرکے انہیں اہداف دیئے جائیں تو ثمر آور نتائج ممکن ہوسکتے ہیں۔