330

بایو ہیکر جو مسلسل 180 سال تک زندہ رہنا چاہتا ہے

کیلیفورنیا: امریکی ماہر ڈیو ایسپرے سلیکن ویلی میں اپنا کاروبار چلاتے ہیں لیکن ان میں دنیا میں سب سے زیادہ عرصے تک زندہ رہنے کا جنون ہے۔ 180 سال تک زندہ رہنے کی خواہش نے انہیں بایوہیکر بنادیا ہے جس کے تحت وہ ہرطرح کے جتن کررہے ہیں تاکہ اپنی عمر طویل کرسکیں۔

بایوہیکر ایسے لوگوں کو کہتے ہیں جو ڈاکٹروں کی پرواہ کئے بغیر خود کو بہتر بنانے کے لیے اپنے ہی جسم پر تجربات کرتے رہتے ہیں۔ ڈیو کو دنیا کا سب سے بہادر بایوہیکر کہا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ہر نئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ 1990 سے ہی انہوں نے روزانہ ڈیڑھ گھنٹے ورزش کو اپنا معمول بنایا، پھر غذائی عادات کو تبدیل کیا اور ہر طرح کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جو اب بھی متنازعہ ہے لیکن وہ اپنے ڈاکٹروں کی کوئی بات ماننے کو تیار نہیں۔

پہلے انہوں نے کم کاربوہائیڈریٹس (لوکارب) غذائیں کھانا شروع کیں اور اپنا وزن 50 پونڈ تک کم کیا۔ اس کے بعد انہوں نے یورپ سے 1200 ڈالر کی ادویہ منگوائیں جو ان کے بقول بہت مفید ثابت ہوئیں۔ لیکن اس کے بعد خود کو بدلنے کا سلسلہ مزید تیز ہوتا گیا۔

اب تک وہ اپنی صحت بڑھانے کے لیے درجنوں غذائیں، غیرروایتی طریقے، آلات اور دیگر اشیا آزما چکے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ مراقبے کے لیے تبت بھی گئے۔ روزانہ وہ ٹیسٹوسٹیرون ہارمن اور جڑی بوٹیوں کا معجون بنا کر پیتےہیں۔ ای ای جی مشین کے ذریعے دماغ کو عدم ردِ عمل کے قابل بناتےہیں۔

سب سے بڑھ کر انہوں نے اپنے کولہوں سے نصف لیٹر گودا (بون میرو) نکلوایا ، اس میں سے اسٹیم سیل نکالے اور انہیں اپنے جوڑوں اور کھوپڑی تک میں داخل کرایا۔ اسی بنا پر وہ اسٹیم سیل کی طویل ترین تھراپی کرنے والے واحد شخص بھی ہیں۔ وہ روشنی کو برا جانتے ہوئے باہر نکلتے ہوئے پیلا چشمہ پہنتے ہیں اور اپنے کمرے میں خاص آکسیجن چیمبر بنایا ہوا ہے۔

ایک مرتبہ وہ برف کے ٹکڑوں پر سوئے اور جب اٹھے تو ان کا جسم جھلسا ہوا تھا۔ اسی طرح ایک مرتبہ انفراریڈ شعاعوں سے علاج کے بعد کئی گھنٹوں تک ان کی زبان لڑکھڑاتی رہی۔ اگرچہ وہ اب تک اپنے جسم پر دس لاکھ ڈالر خرچ کرچکے ہیں لیکن ان کی حرکتوں کی تائید نہ ہی سائنس کرتی ہے اور نہ ہی وہ 180 سال زندہ رہنے کے لیے کوئی مددگار عمل ہے۔