247

قومی دولت کا استعمال؟

وزیراعظم عمران خان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بڑے ٹیکس چوروں سے ریکوری کیساتھ نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ہدایت کی ہے‘ عین اسی روز جب وزیراعظم ایف بی آر میں اصلاحات اور ریکوریز سے متعلق ہدایات دے رہے تھے‘ وفاقی حکومت نے کاروباری طبقے کیلئے 47ٹیکسوں کی تعداد کم کرکے 16پر لانے کا اعلان کیا‘ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ آن لائن ٹیکس ادائیگی کی سہولت فراہم کرنے کیساتھ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن اب ون ونڈو کے ذریعے ہوگی‘ اسی روز بینک دولت پاکستان نے رئیل سٹیٹ سیکٹر میں دولت چھپائے جانے کے حوالے سے بعض اعتراضات اٹھائے جبکہ اسی دن چیئرمین قومی احتساب بیورو وفاقی سیکرٹریز سے خطاب کرتے ہوئے سوال اٹھاتے ہیں کہ 95ارب ڈالر کا قرضہ کدھر گیا‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس رقم سے متعلق پوچھناکیا جرم ہے‘ وزیراعظم کے احکامات ہوں یا پھر وزارت تجارت کی جانب سے ٹیکسوں میں چھوٹ احتساب بیوروکی طرف سے 95ارب ڈالر کے خرچے کا حساب مانگا جائے یا پھر سٹیٹ بینک رئیل سٹیٹ کے کام میں ٹیکسوں سے متعلق سوال پوچھے‘ ہر ایک کا تعلق معیشت سے ہے۔

جس میں کرپشن اور ناقص منصوبہ بندی کیساتھ انتہائی بدانتظامی نے آج ملک کو کھربوں روپے کے قرضوں تلے دبا دیاہے اور ایک قرضے کی قسط چکانے کیلئے دوسرا قرضہ لیاجارہا ہے‘ حکومت دوست ممالک سے امدادی پیکج بھی لے رہی ہے‘تیل ادھار پر اٹھایا جارہا ہے جبکہ گردشی قرضوں نے پورے منظرنامے کو متاثر کررکھاہے‘ یہاں 95 ارب ڈالر کا حساب بھی درست سہی اور بزنس کمیونٹی کیلئے ٹیکسوں میں بڑی چھوٹ بھی اصلاح احوال کی کوشش سہی تاہم اتنے بڑے بگاڑ کو سنوارنے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے‘ وزارت تجارت اس بات کی یقین دہانی کرا رہی ہے کہ توانائی کی منسٹری لوڈشیڈنگ کے حوالے سے باقاعدہ آگاہ کرے گی اور یہ کہ چاروں صوبوں میں خصوصی یونٹ قائم ہوں گے‘ جب تک توانائی بحران حل نہیں ہوتا‘ صنعتوں کیلئے مکمل آپریشن ممکن نہیں‘ اسی طرح بدانتظامی اور محکمانہ رابطوں کے فقدان کا نوٹس لے کر بھی ریفارمز یقینی بنانا ہوں گی‘ اس سب کیساتھ غریب اور متوسط شہریوں کی مشکلات کا احساس بھی ضروری ہے‘ دیکھنا یہ بھی ناگزیر ہے کہ یہ شہری حکومت کی جانب سے صنعتوں کو ملنے والی مراعات کا کوئی فائدہ حاصل کرپاتے ہیں یا یہ کہ سب کچھ سرمایہ کار کے بینک بیلنس میں اضافے کا ذریعہ ہی بنے گا۔

صوبے کی پہلی ہیلتھ پالیسی

خیبرپختونخوا کابینہ نے صوبے کی پہلی ہیلتھ پالیسی منظور کرلی ہے‘ پالیسی کے خدوخال میں دیگر پوائنٹس کیساتھ احتساب وشفافیت ‘ہیومن ریسورس اور گورننس مینجمنٹ کی بہتری شامل ہے‘ خیبرپختونخوا حکومت علاج کی سہولت فراہم کرنے کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتی ہے‘ اس مقصد کیلئے بہت سارے اقدامات اٹھائے بھی گئے‘ صحت انصاف کارڈز کی فراہمی قابل تعریف بھی قرار دی گئی‘ شفا خانوں کے انتظامی امور میں بہتری کیلئے ایک کے بعد دوسرا تجربہ کیاگیا‘ اس سب کے باوجود لوگوں کو مطلوبہ ریلیف نہ ملا جس کا عملی منظر وزیراعلیٰ خود اپنے اچانک دوروں میں دیکھ چکے ہیں صوبے کی حکومت کو ہیلتھ پالیسی میں دیگر نکات پر عمل درآمد کے ساتھ گورننس سے جڑے ایشوز کو پہلی ترجیح قرار دینا ہوگا‘ تب ہی اس پالیسی کو ثمر آور گردانا جاسکتا ہے۔