280

افغانستان کا بحران

خبریں تومتضادہیں لیکن افغان طالبان اورامریکہ کے درمیان کئی مہینوں سے جاری مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار دکھائی دینے لگے ہیں اور خدشہ ہے کہ اگر طالبان افغان حکومت کیساتھ مذاکرات سے انکار کے اپنے تکرار پر قائم رہے تو صدارتی عمل کا تسلسل خطرے میں پڑ جائے گا‘ امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دوحا قطر میں چھ روز تک جو مذاکرت کئے اسکا کچھ حلقوں کے مطابق تاحال کوئی نتیجہ نہیں نکلا‘ زلمے نے کابل میں افغان صدر کیساتھ ہونیوالی ملاقات کے دوران اعتراف کیا کہ فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ یا فارمولہ طے نہیں پایا ہے ‘ دوسری طرف افغان صدر اشرف غنی نے چوتھی بار افغان طالبان کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش کر دی جو کہ حسب سابق مسترد کر دی گئی پاکستان اس تمام پراسیس میں ایک بار پھر مرکزی حیثیت حاصل کر چکا ہے اورمتعلقہ حکام کا موقف ہے کہ پاکستان کی کوششوں اورسہولت کاری کا مقصد مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانا ہے تاکہ افغانستان میں امن قائم ہو‘ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان امریکہ کی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو امریکہ کل تک پاکستان کو مسئلے کی جڑ قرار دے رہا تھا اب اسے مسئلے کے حل کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھ رہا ہے اور تعریفی بیانات عروج پر ہیں‘تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ ہر صورت میں افغانستان سے باعزت انخلاء کا ارادہ کر چکا ہے اور اس مقصد کیلئے غیر اعلانیہ طور پر افغانستان کو عملاً طالبان کے حوالے کرکے جا رہا ہے امریکہ کا موقف ہے کہ وہ عراق ‘ شام اورافغانستان سے اسلئے نکل رہا ہے کہ فوجی اخراجات کم کئے جائیں‘تاہم یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں اگر امریکہ نکل گیا تو ڈھائی لاکھ افغان فوج کے اخراجات کون پورے کرے گا۔

کیونکہ اس کاپورا انحصار امریکہ پر ہے اور افغانستان اقتصادی طور پر یہ اخراجات نہیں اٹھا سکتا‘سابق افغان صدر حامد کرزئی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ سال2002ء سے 2004ء تک افغان طالبان مذاکرات اور سیاسی عمل کا حصہ بننے کیلئے نہ صرف تیار تھے بلکہ خود رابطے بھی کر رہے تھے مگر امریکہ مذاکرات سے گریز کرتا رہا اور اعلان کرتا رہا کہ دہشت گردوں کیساتھ بات نہیں ہوسکتی‘ اگر امریکہ نے اس وقت یہ پیشکش مانی ہوتی تواس کے اربوں ڈالر بچ جاتے اور ہزاروں لوگوں کی زندگی بھی بچ جاتی‘ تاہم غرور اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیاگیا اور اب جب نکل رہا ہے تو صورتحال یوں دکھائی دے رہی ہے کہ اگرمتبادل عسکری ‘ اقتصادی اور انتظامی نظام ہمیں نہ دیا گیا تو ملک میں خدانخواستہ پھر سے خانہ جنگی اور انارکی کی صورتحال پیدا ہو جائے گی‘ اسی خوف او ر خدشے کا سیاسی اور عوامی سطح پر کھلے عام اظہار کیا جا رہا ہے‘ اورعام تاثر یہ ہے کہ امریکہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر کر رہا ہے کیونکہ یہی اس کی تاریخ رہی ہے کہ جنگیں لڑنے کے بعد متاثرہ ممالک کوسول وار اور بدامنی کی لپیٹ میں رہنے دیا جائے ‘سترہ سالہ عالمی انویسمنٹ اسلئے افغانستان کو استحکام نہ دے سکی کہ امریکہ کی تمام توجہ فوجی حل پر مرکوز رہی اور سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی ترقی کو بری طرح نظر انداز کیا گیا‘طالبان مورال کے حوالے سے آج جس مقام پر کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

اس کی تمام تر ذمہ داری امریکی پالیسی پرعائد ہوتی ہے اور جن قوتوں یا لوگوں نے طالبان فری افغانستان کے خواب دیکھے تھے وہ سخت پریشانی کا شکار ہیں‘ یہ تاثر پھر سے عام ہو گیا ہے کہ امریکہ کی دوستی یا پالیسیوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا جو حلقے ممکنہ منظر نامے سے پریشان ہیں ان میں پاکستان کے وہ قوم پرست بھی شامل ہیں جنہوں نے سوویت یونین کی طرح امریکہ سے بھی غیر حقیقت پسندانہ توقعات وابستہ کی ہوئی تھیں اور جن کا خیال تھا کہ طالبانائزیشن کا نہ صرف افغانستان سے خاتمہ ہو جائے گا بلکہ اس کی آڑ میں امریکہ اورپاکستان پر بھی چڑھ دوڑے گا مگر بازی الٹ گئی ہے اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ جب طالبان ماضی کی طرح نئی شکل میں نمودار ہوں گے تو اس صورتحال سے پاکستان کے لبرل اور قوم پرست حلقے متاثر اور مذہبی حلقے مستفید ہوں گے ۔