263

لشمینیا بے قابو ٗ محکمہ صحت نے الرٹ جاری کر دیا

پشاور۔ پشاور سمیت صوبے بھر میں خطرناک جلدی مرض لشمینیا کے 21ہزا ر سے زائد کیسز رپورٹ ہونے کے بعد مرض کا وبائی شکل اختیار کرنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے محکمہ صحت نے اس حوالے سے الرٹ بھی جاری کیا ہے ۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے انجکشن کولازمی ادویات کی فہرست میں شامل کئے جانے کے باوجود ملک کے کسی سرکاری ہسپتال میں یہ انجکشن موجود نہیں ہے عام مارکیٹ میں انجکشن کی قلت ہونے سے متاثرہ مریض مشکلات سے دوچار ہے اور 600 روپے میں ملنے والا عام انجکشن بلیک میں 1600سے 2ہزارروپے میں فروخت ہو رہاہے سینڈ فلائی نامی مکھی کے کاٹنے سے لاحق ہونے والے خطرناک جلدی مرض لیشمینیا کے بارے میں ماہرین نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ بیماری پڑوسی ملک سے منتقل ہو ئی ہے ۔

موسم شدیدسرد ہونے کے بنا پر سینڈ فلائی سفرکرکے پاکستان میں داخل ہو جاتی ہے اوریہاں مرض پھیلاتی ہے افغانستان کے قریب سرحدی علاقوں سے یہ مریض تیزی سے بندوبستی اضلاع میں پھیل رہا ہے ماہرین جلد کے مطابق لیشمنییا کا مرض جنوبی امریکہ ٗ افریقہ سمیت ایشیاء کے مختلف ممالک میں رپورٹ ہوتا ہے پشاور سمیت صوبے بھرمیں اب تک 21ہزار سے زائد کیسز اس حوالے سے رونما ہو چکے ہیں اس بیماری کی روک تھام کے لئے تمام ادارے ناکام ہو چکے ہیں۔