347

ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

گزشتہ روز مجھے خیبر میڈیکل کالج کے پہلے سال کے طلبہ و طالبات کو طب کی تعلیم میں پیش آنے والی مشکلات اور انکے حل کے بارے میں گفتگو کا موقع دیا گیا‘میں نہایت مشکور ہوں کالج کی انتظامیہ کا کہ مجھے اس مشکل کام کے قابل سمجھا‘اس تعلیم کی طوالت‘ مضامین کی بھرمار‘ روزانہ کی بنیاد پر نت نئی ایجادوں‘ جدید دواؤں کی دریافت اور نئی بیماریوں کی جانکاری کے سبب یہ سب سے طویل تعلیمی سلسلہ سمجھا جاتا ہے‘اس میں کام کے قواعد بھی تھکادینے والے ہیں اور اوقات کار بھی بہت طویل ہیں‘اسوقت بھی ہمارے ملک میں آبادی کے لحاظ سے ڈاکٹروں اور نرسوں کی تعداد کہیں درجے کم ہے ایک اور عنصر جو اس کمی کی وجہ بنتا جارہا ہے باوجود اسکے نت نئے میڈیکل کالج کھلتے جارہے ہیں‘ ان کالجوں میں طالبات کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہے‘اگرچہ پوری دنیا میں طالبات کا تناسب میڈیکل تعلیم میں بڑھتا جارہا ہے‘ بلکہ امریکہ میں تو پچھلے سال ہی پہلی مرتبہ میڈیکل کالجوں میں طالبات کی تعداد طلبہ سے بڑھ گئی ہے‘پاکستان میڈیکل کونسل کے مطابق ہمارے ملک میں میڈیکل کالجوں میں طالبات کا تناسب ستر فیصد تک پہنچ گیا ہے‘تاہم ان طالبات کی ایک قلیل تعداد ہی بعد میں اپنے پیشے سے منسلک رہتی ہے۔ اسکی کئی وجوہات ہیں جن میں خاندان کا پروان چڑھانا‘گھریلو ذمہ داریاں اور سسرال کی جانب سے کام میں رکاوٹ شامل ہیں۔

لڑکیوں اور خواتین کی ان مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے اپنی گفتگو کا ایک حصہ صرف اس موضوع کیلئے مختص کیا اور لیکچر کے آخر میں ہی اس پر بولنے لگا‘میں نے ایک کارٹون دکھایا جس میں ایک طرف ایک مرد ڈاکٹر گلے میں سٹھیتوسکوپ لٹکائے ہاتھ سینے پر باندھے ہوئے ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں تو ایک ڈاکٹر ہوں‘ تاہم دوسری جانب ایک لیڈی ڈاکٹر ہے جسکے چھ ہاتھ ہیں۔ ایک ہاتھ سے سر پر ایک پرات میں گھر ‘ بچہ اور کچن سنبھالا ہوا ہے ‘دوسرے ہاتھوں میں کتابیں‘ سٹھیتوسکوپ‘ کڑچھا‘ بیلن اور سبزی کا تھیلا پکڑے ہوئے ہے۔ جب میں نے تمام طلبہ کو بتایا کہ لڑکیوں کو نسبتاً زیادہ کام کرنا پڑتا ہے تو ایک لڑکا بول اٹھا کہ شاید لڑکوں میں ہْنر زیادہ ہے‘ میں ہنس پڑا اور پوچھا کہ کیا وہ بچہ پیدا کرسکتا ہے‘ اس پر سارا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا ۔

اس مثال سے میں صرف یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اب اس اکیسویں صدی میں بھی ہمارے نہ صرف پرانے زمانے کے لوگ عورت کو اوصاف میں مرد سے کمتر سمجھتے ہیں بلکہ نئی نسل کے لڑکے بھی یہی ذہنیت رکھتے ہیں‘ گھر میں والدین بھی بیٹوں اور بیٹیوں میں یہی فرق روا رکھتے ہیں‘اچھے خاصے جوان بیٹوں کیلئے کھانا گرم کرنا ہو تو چھوٹی بیٹی کو ہی پکاریں گے‘ بھائی کیلئے کپڑے استری کرنے کیلئے بہن چھوٹی ہی کیوں نہ ہو‘ کو بلایا جائے گا‘ یہ معمول چونکہ بچپن سے بچوں کی عادات میں ڈال دیا جاتا ہے اسلئے جوانی اور بڑھاپے تک یہی معمول چلنا ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔

پچھلے دنوں ایک نوجوان ماں اپنے ایک بچے کو گود میں لئے اور دوسرے کو ہاتھ سے پکڑ کر لائی۔ بڑے بچے نے ہیٹر کو غلطی سے پکڑ لیا تھا اور ہاتھ کو جلادیا تھا ان کیساتھ نانی اور ماموں بھی تھے‘ماموں یعنی خاتون کے بھائی باربار اپنی بہن کی لاپرواہی کی شکایت کررہے تھے کہ بچوں کا خیال نہیں رکھتی۔ میں نے ایک دو دفعہ تو نظرانداز کیا لیکن جب وہ مسلسل اپنی بہن کو لاپرواہ کہتا رہا تو مجھ سے رہا نہیں گیا‘میں نے اس سے پوچھا کہ کبھی کسی بچے کا خیال رکھنے کا تجربہ ہوا ہے‘کبھی گھر میں برتن دھوئے ہیں یا کپڑے استری کئے ہیں‘اس پر وہ نوجوان کھسیانا ہوکر خاموش ہوگیا۔

جب خواتین صرف گھروں میں مصروف ہوتی تھیں تو مرد ان کو بے کار سمجھتے تھے حالانکہ گھریلو کام کافی مشقت کے کام ہوتے ہیں‘ صرف کھانا پکانے سے لیکر برتن دھونے تک بندے کو تھکاکے رکھ دیتا ہے اور یہ کام خواتین دن میں تین مرتبہ گھر کے تمام افراد کیلئے کرتی ہیں‘ گھر کی صفائی ہو یا کپڑے دھوکر استری کرنا‘ بچوں کو سکول کی تیاری کروانا‘جوتے پالش کرانا‘ چھوٹے بچوں کو کھلانا یہ سب کام مسلسل توجہ چاہتے ہیں اور اگر اس پر ان کو طعنہ ملے کہ وہ کرتی ہی کیا ہیں تو ان کو ڈپریشن نہ ہوتو کیا ہو۔ تاہم اب جب خواتین باہر کام پر بھی جاتی ہیں‘ مردوں کی طرح ڈیوٹی بھی دیتی ہیں اور اپنی جسمانی طاقت سے زیادہ کام بھی کرتی ہیں‘پھر بھی ان سے گھریلو ڈیوٹیوں میں کوئی رعایت نہیں کی جاتی‘میں نے لیڈی ڈاکٹروں کو‘ خواتین پولیس افسروں ‘ سی ایس ایس افسروں اور ججوں کو گھر میں آکر کھانا گرم کرتے‘کپڑے استری کرتے‘ جوتے پالش کرتے اور برتن دھوتے دیکھا ہے‘۔

بہت کم ہی شوہر اور بھائی ایسے دیکھے ہیں جو بڑھ کر مدد کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے‘ حتیٰ کہ وہ بھائی اور شوہر بھی جو بے روزگار رہتے ہیں‘ سارا دن لوفری کرتے رہتے ہیں انکی بہن یا بیوی جب جاب سے آتی ہے تو پہلا کام انکااپنے نکٹو بھائی یابے روزگار شوہر کیلئے کھانا گرم کرنا یا کپڑے استری کرنا ہوتا ہے۔ ہم دن رات اسلام کی سلامتی اور دین فطرت ہونے کا راگ الاپتے رہتے ہیں تاہم جب خواتین کی بات آتی ہے تو قرآن کے غلط ترجمے کر کرکے خواتین کے کردار کو کمتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور رسول کریم ؐ کی حیات طیبہ سے کوئی سبق لینے کی کوشش نہیں کرتے‘ انہوں نے تو اپنے کپڑوں میں پیوند بھی خود لگائے بلکہ اپنے جوتے بھی خود گانٹھے۔ صحابیات کی زندگی میں بھی کبھی اس قسم کا امتیاز نہیں دیکھا بلکہ پوری اسوہ حسنہ اس بات کی گواہ ہے کہ ہمیشہ خواتین کو سہولت ہی فراہم کی‘ ایک ہم ہیں کہ ہٹے کٹے ہوکر اپنی کمزور ماؤں کو باورچی خانوں میں کھانا بناتے‘ برتن دھوتے‘کپڑے استری کرتے دیکھتے رہتے ہیں اور مجال ہے جو غیرت جوش میں آئے یا پانی کے قریب ہوتے ہوئے بھی بیوی سے گلاس میں پانی نہ طلب کریں۔

اس سلسلے میں اگر باپ اپنے بچوں کی وہ تربیت نہیں کرتا توماں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان امتیاز نہ رکھے۔ بیٹوں کو بھی کام سکھائے‘انکو بھی بہنوں کے گھر کے کام کروائیں۔ یہ سارے جینے کے راز کل انہی کے کام آئیں گے ملک سے باہر جاکر یا ہاسٹل کی زندگی میں توبہنیں کام نہیں آتیں اور بعد میں گول روٹی بنانیوالی پڑھی لکھی بیوی کی تلاش بھی نہیں ہوگی‘یہ بھی ذہن میں رہے کہ خواہ بیوی باہر کام نہ بھی کرے تو مرد کو کھلانا پلانا اسکی ذمہ داری نہیں‘ اگر وہ نباہ ہی رہی ہے تو اسکا کم از کم بدلہ یہ دیا جاسکتا ہے کہ اسکا احسان مانا جائے‘اسکی حوصلہ افزائی کی جائے اور اسکا شکریہ ادا کیا جائے‘ایک طرف تو ہم اسے صنف نازک کا خطاب دیتے ہیں اور دوسری جانب اسے ہرکولیس کے کرنے کے کام سپرد کرتے ہیں‘اگرہم نے معاشرے کے تمام افراد کو کامیاب بنانا ہے تو دونوں جنسوں کو یکساں مواقع اور آسانیاں فراہم کرنی ہونگی‘ اب تو نہ حجاب انکے کام میں رکاوٹ کا سبب ہے اور نہ جہالت۔