282

این ایف سی ایوارڈ اور خیبرپختونخوا

وطن عزیز میں وسائل کی تقسیم کیلئے نئے تشکیل شدہ 9ویں قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس گزشتہ روز وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت منعقد ہوا‘ اجلاس میں وسائل کی ڈسٹری بیوشن کیلئے 6گروپ تشکیل دیدیئے گئے‘ وزیرخزانہ اسد عمر اس بات کی یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ صوبوں کا شیئر کم نہیں کیاجائیگا اور یہ کہ صوبوں کے حصے کو دستور کی گارنٹی حاصل ہے‘ اجلاس کی کاروائی سے متعلق مہیا تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا اور دوسرے صوبوں نے شیئر کم کرنے کی کھل کر مخالفت کی‘ اجلاس میں پن بجلی منافع کی اے جی این قاضی فارمولے کے تحت ادائیگی کا کیس بھی اٹھایاگیا جبکہ قبائلی اضلاع کیلئے تین فیصد اضافی فنڈز مختص کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا‘ کمیشن کا اگلا اجلاس اب 6ہفتے بعد ہوگا‘ بعد از خرابی بسیار سہی قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس منعقد ہوجانا قابل اطمینان ہے‘ اس پلیٹ فارم پر ہر ایک کو اپنا موقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے‘ جہاں تک معاملہ خیبر پختونخوا کا ہے تو اس صوبے کا جغرافیہ افغانستان پر روسی یلغار سے لیکر آج تک کے حالات‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس صوبے کی فرنٹ لائن پوزیشن اور اب نئے قبائلی اضلاع کا قیام خصوصی غور کا متقاضی ہے‘ خیبرپختونخوا کی معیشت عرصے سے متاثر چلی آرہی ہے‘ یہاں امن وامان کی صورتحال کے باعث سینکڑوں کارخانوں کو تالے لگ چکے ہیں۔

لوگ ماضی قریب میں اپنا سرمایہ دوسرے صوبوں کو منتقل کرتے رہے‘ اتنی تشویشناک حالت میں بھی اس صوبے کے پن بجلی منافع کی مد میں اربوں روپے وفاق کے پاس واجب الادا چلے آرہے ہیں‘ اعلیٰ سطح پر معاملات طے ہوجانے کے باوجود صوبے کو ہائیڈل پاور جنریشن کے منافع کی اقساط کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ جس کا اثر صوبے کے ریونیو اور اخراجات پر براہ راست مرتب ہوتاہے‘ اس سب کیساتھ ایک بڑے فیصلے کے نتیجے میں قبائلی اضلاع کے قیام کیساتھ یہاں کا انتظام وانصرام چلانے کیلئے صوبے کو وسائل کی اشد ضرورت ہے‘ این ایف سی ایوارڈمیں برسرزمین حقائق کی روشنی میں خیبرپختونخوا کے مسائل کومدنظر رکھتے ہوئے ایوارڈ میں شیئر کیساتھ ساتھ صوبے میں ا نفراسٹرکچر کی بہتری اور دوسرے ترقیاتی کاموں کیلئے خصوصی پیکج بھی ضروری ہے‘ اس میں صوبائی دارالحکومت کا حلیہ درست کرنے کیلئے بھی اقدامات ناگزیر ہیں‘ جن پر صوبائی فنانس کمیشن کے پلیٹ فارم پر بھی بات ہوسکتی ہے جو گزشتہ روز تشکیل دیدیا گیا ہے۔

چیک اینڈ بیلنس کا دائرہ

صوبائی دارالحکومت میں ذمہ دار اداروں کی جانب سے بڑے بڑے ہوٹلوں اور سٹورز پر چھاپے مارنے اور قاعدے قانون کے مطابق کاروائی کی خبریں روزانہ جاری ہوتی رہتی ہیں‘ چیک اینڈ بیلنس جس لیول پر بھی ہو‘ قابل اطمینان ہی ہے‘ تاہم اس کے دائرہ کار کو گلی محلوں کی سطح پر وسیع کرنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیاجاسکتا‘ اس وقت پشاور سمیت پورے صوبے میں خوراک کی اشیاء میں ملاوٹ اور معیار کو چیک کرنے کیساتھ نرخوں پر نظر رکھنا ضروری ہے‘ چھوٹے ہوٹلوں اور چھابڑیوں پر فروخت ہونے والی چیزیں کتنے معیار کی حامل ہیں اور غریب محنت کش جو اکثر دوپہر کا کھانا یہاں کھاتے ہیں‘ انہیں کھانے کو کیا اور کتنے میں ملتا ہے‘ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے‘ دیکھنا یہ بھی چاہئے کہ ان غریبوں کیلئے روٹین سے کم وزن روٹی کیوں خریدی جاتی ہے جو ان کوپورے پیسوں پر فروخت ہوتی ہے۔