352

طورخم بارڈر 24گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ

پشاور۔ صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے پراپرٹی ٹیکس اور پروفیشنل ٹیکس سمیت دیگر صوبائی ٹیکسز کو ضم کرکے ایک ٹیکس وصول کرنے اور ٹیکس نظام کو آسان بنانے کے لئے سمیتEase of Doing Business پر کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کمیٹی میں سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے نمائندگی لی جائے گی اور ان کی مشاورت سے کاروبار میں آسانیاں اور سہولیات کی فراہمی کیلئے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔ 

افغانستان کے ساتھ باہمی تجارت کے فروغ کیلئے طورخم بارڈر 24گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اب افغانستان کی جانب سے بھی مثبت ردعمل ہونا چاہئے ۔خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی کو ریلیف دینے کے لئے اقدامات اٹھائیں گے۔ حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ کیلئے 16 انچ کی مخصوص گیس پائپ لائن صوبائی فنڈز سے بچھائی گئی ۔ صوبے کی صنعتوں اور کاروبار کا فروغ حکومت کی ترجیح ہے ۔ آرٹیکل 158 پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے صوبے کی صنعتوں کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فیض محمد فیضی کی سربراہی میں سرحد چیمبر میں منعقد ہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر غضنفر بلور ٗ سرحد چیمبر کے سابق صدور ریاض ارشد ٗ حاجی محمد افضل ٗ ملک نیاز احمد ٗ سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر انجینئر سعد خان زاہد ٗ نائب صدر حارث مفتی ٗ انڈسٹریلسٹ ایسوسی ایشن حیات آباد کے صدر زرک خان ٗ وویمن چیمبر کی صدر عذرا جمشید ٗ نائب صدر آفشین ملک ٗ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین ملک نیازمحمد اعوان ٗملک عمران اسحق ٗ نثاراللہ خان ٗ حاجی آفتاب اقبال ٗ احسان اللہ ٗ محمد شفیق آفریدی ٗ شاہد حسین ٗ سہیل جاوید ٗ اکبر شیراز ٗ مبارک بیگم اورمحمد شفیق ٗ ندیم رؤف ٗشجاع محمد ٗ ٗ محمد اقبال ٗ شہریار لودھی ٗ عابد اللہ خان یوسفزئی ٗ صدر گل ٗسہیل رؤف ٗ ملک کامران اسحق ٗعبدالجلیل جان ٗ فضل واحد ٗسید جواد علی کاظمی ٗ خیبر چیمبر کے صدر کرنل (ر) صدیق آفریدی ٗ فیض رسولسمیت صنعت و تجارت کے شعبے سے وابستہ کاروباری افراد کثیر تعداد میں موجود تھے۔سرحد چیمبر کے صدر فیض محمد فیضی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی اور انتہاء پسندی سے متاثرہ صوبے کی بزنس کمیونٹی کووفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ریلیف دینے کی ضرورت پر زور دیا ۔

انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے منی بجٹ میں فائلرز پر عائد تین فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے اور صوبائی حکومت کی جانب سے سرحد چیمبر کی سفارش پر صوبے کی صنعتوں کو ویلنگ چارجز پرسستی بجلی کی فراہمی کے اقدامات کو سراہا ۔ انہوں نے بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے سے متاثرہ پشاور شہر کے تاجروں اور صنعتکاروں کو مقامی ٹیکسزمیں تین سال کی چھوٹ دینے کا خصوصی مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کی وجہ سے پشاور شہر میں کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ویژن کو بھی سراہا اور کہا کہ اس حوالے سے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جو سرحد چیمبر کی مشاورت سے سفارشات مرتب کرے ۔

انہوں نے قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں چھوٹ اور قبائلی علاقوں کیلئے مراعاتی پیکیج پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم انہوں نے حکومت سے کہا کہ ایسے اقدامات نہ اٹھائے جائیں جس سے قبائلی علاقوں سے ملحقہ علاقوں کی صنعتیں اور کاروبار متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ گیس میں خود کفیل صوبہ خیبر پختونخوا کی صنعتوں کو آر ایل این جی کنکشنز دینے کے اقدام پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبے کی صنعتوں کو آر ایل این جی کی کنکشنز کی فراہمی آرٹیکل 158 کی خلاف ورزی ہے ۔