214

چین کا بھارتی وزیراعظم کے متنازع سرحدی علاقے کے دورے پر احتجاج

چین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے سرحدی علاقے ارونچل پردیش کا دورہ کرنے پر احتجاج کیا ہے، یہ علاوہ دونوں ممالک کے درمیان متنازع تصور کیا جاتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہوا چوئینگ نے ایک جاری بیان میں کہا کہ 'چینی حکومت نے کبھی بھی نام نہاد ارونچل پردیش کو تسلیم نہیں کیا اور متعدد مرتبہ مذکورہ علاقے میں بھارتی رہنماؤں کے دوروں کی مخالفت کی ہے'۔

انہوں نے نریندر مودی کے متنازع دورے کے کچھ گھنٹے بعد جاری بیان میں کہا کہ 'چین، بھارت پر زور دیتا ہے کہ وہ کسی قسم کی جارحیت سے باز رہے جو کسی تنازع کا باعث ہوسکتی یا سرحدی معاملات پر اثر انداز ہوسکتی'۔

نریندر مودی نے مذکورہ دورے کے دوران متنازع علاقے میں 2 ایئرپورٹس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات 1962 میں ہونے والی کشیدگی کے بعد سے خراب ہیں، اس کشدگی کے دوران دونوں ممالک نے ارونچل پردیش کے مقام پر جنگ بھی کی تھی جبکہ اس علاقے پر مختصر وقت کے لیے چینی افواج نے قبضہ حاصل کرلیا تھا۔

یہ تنازع تا حال برقرار ہے، بھارت ارونچل پردیش کو اپنی شمالی ریاست تصور کرتا ہے جبکہ چین اس 90 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے کو اپنی حدود تصور کرتا ہے۔

دوسری جانب بھارت کی وزارت خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'انڈیا کی قیادت مختلف موقع پر ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح ارونچل پردیش کا دورہ بھی کرتی ہے جبکہ متعدد موقع پر اس علاقے پر اپنی پوزیشن کے حوالے سے چین کو بتایا جاتا رہا ہے'۔

یاد رہے کہ 2017 میں جنوبی ایشیا کے دونوں بڑے ممالک کے درمیان اس وقت بھوٹان کے علاقے میں کشیدگی کا آغاز ہوا تھا جب بھارتی فوج نے اس علاقے میں چینی فوج کی جانب سے زیر تعمیر سڑک کی تعمیرات کو روکنے کے لیے اپنی افواج یہاں بھیجی تھیں۔

دونوں ممالک کی افواج میں 2 ماہ تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد بھارت اور چین نے اپریل میں اپنی فوجیں واپس بلا لی تھیں اور دونوں ممالک کی قیادت نے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ملاقات بھی کی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہوا چوئینگ نے ایک جاری بیان میں کہا کہ 'چینی حکومت نے کبھی بھی نام نہاد ارونچل پردیش کو تسلیم نہیں کیا اور متعدد مرتبہ مذکورہ علاقے میں بھارتی رہنماؤں کے دوروں کی مخالفت کی ہے'۔

انہوں نے نریندر مودی کے متنازع دورے کے کچھ گھنٹے بعد جاری بیان میں کہا کہ 'چین، بھارت پر زور دیتا ہے کہ وہ کسی قسم کی جارحیت سے باز رہے جو کسی تنازع کا باعث ہوسکتی یا سرحدی معاملات پر اثر انداز ہوسکتی'۔

نریندر مودی نے مذکورہ دورے کے دوران متنازع علاقے میں 2 ایئرپورٹس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات 1962 میں ہونے والی کشیدگی کے بعد سے خراب ہیں، اس کشدگی کے دوران دونوں ممالک نے ارونچل پردیش کے مقام پر جنگ بھی کی تھی جبکہ اس علاقے پر مختصر وقت کے لیے چینی افواج نے قبضہ حاصل کرلیا تھا۔

یہ تنازع تا حال برقرار ہے، بھارت ارونچل پردیش کو اپنی شمالی ریاست تصور کرتا ہے جبکہ چین اس 90 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے کو اپنی حدود تصور کرتا ہے۔

دوسری جانب بھارت کی وزارت خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'انڈیا کی قیادت مختلف موقع پر ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح ارونچل پردیش کا دورہ بھی کرتی ہے جبکہ متعدد موقع پر اس علاقے پر اپنی پوزیشن کے حوالے سے چین کو بتایا جاتا رہا ہے'۔

یاد رہے کہ 2017 میں جنوبی ایشیا کے دونوں بڑے ممالک کے درمیان اس وقت بھوٹان کے علاقے میں کشیدگی کا آغاز ہوا تھا جب بھارتی فوج نے اس علاقے میں چینی فوج کی جانب سے زیر تعمیر سڑک کی تعمیرات کو روکنے کے لیے اپنی افواج یہاں بھیجی تھیں۔

دونوں ممالک کی افواج میں 2 ماہ تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد بھارت اور چین نے اپریل میں اپنی فوجیں واپس بلا لی تھیں اور دونوں ممالک کی قیادت نے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ملاقات بھی کی تھی۔