338

خیبر پختونخوا اسمبلی میں خواتین پر تشدد کیخلاف بل پیش

پشاور۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں خواتین پر گھریلو تشدد کے خلاف بل پیش کردیا گیا۔خواتین کو گھریلو تشدد سے محفوظ رکھنے اور صوبائی وزرا کی رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش کے اخراجات کو 5 سے بڑھا کر 10 لاکھ کرنے کے بل بھی خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش کردیئے گئے۔پیر کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی عنایت اللہ خان نے کہا کہ خواتین پر گھریلو تشدد سے بچانے کا بل اہم اورحساس ہے جسے جلد بازی میں پاس نہ کریں۔

جے یو آئی(ف)کے مولانا لطف الرحمن نے کہا کہ پنجاب میں یہ بل منظور ہونے کے بعد پھرواپس ہوا اس لئے خیبر پختونخوا اسمبلی میں اس بل کو پہلے کمیٹی میں بھیجا جائے۔صوبائی وزیرقانون سلطان محمد خان نے کہا کہ ہم جلد بازی میں بل پاس نہیں کریں گے۔ سب ارکان اس پر بحث کریں اور مناسب ترامیم لائیں۔ خواتین ارکان اس بل میں خصوصی دلچسپی لیں۔

پیپلز پارٹی کی خاتون رکن اسمبلی نگہت اورکزئی نے کہا کہ بل ایوان کے بجائے کمیٹی کو بھیجا جائے۔قانونی مسودہ کے مطابق تشدد کے مرتکب شوہر کو تین ماہ قید اور 30 ہزارروپے جرمانے کی سزا ہوگی۔ شوہر پر جھوٹا الزام لگانے والی بیوی کے لیے بھی پچاس ہزارجرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔بل کے مطابق گھریلو ناچاقی کی صورت میں شوہر کو ہی بیوی کی سلامتی کی ضمانت دینی ہوگی۔ تشدد روکنے کے لیے حکومتی سطح پر ٹول فری نمبر، پناہ گاہیں۔

ضلعی کمیٹیاں بنائی جائیں گی، سزایافتہ شوہر کو بیوی سے کسی قسم کا رابطہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔علاوہ ازیں وزرا کی رہائش گاہوں کی تزئین وآرائش کے اخراجات بڑھانے کا بل بھی صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جس کے خلاف اپوزیشن ارکان نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔