618

خیبر پختونخوا میں ٹوکن ٹیکس جمع کر نیوالی گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ 

پشاور۔پنجاب حکو مت نے صو بہ خیبر پختونخوا میں ٹوکن ٹیکس جمع کر نے والی گاڑیوں کو قبول کر نے سے انکار کر دیا ہے ٗاس معاملے نے صورت حال کو اس وقت مزید سنگین بنا دیا جب پنجاب پولیس اور ایکسائز کے عملے نے خیبر پختونخوا میں ٹوکن ٹیکس جمع کر نے والی گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی ٗاس صورت حال نے نہ صرف گاڑیوں کے مالکان کو پریشان کر دیا ہے بلکہ انہیں ڈبل ٹیکس دینے پڑ رہے ہیں ۔

خیبر پختونخوا حکو مت نے اس صورت حال کے پیش نظر پنجاب حکو مت کو تین صفحات پر مشتمل خط ارسال کر دیا ہے ٗجس میں اس تمام صو رت کا احاطہ کیا گیا ہے ٗ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ دوسرے صو بو ں اور اسلام آباد کی 80 فیصد گاڑیاں خیبر پختونخوا میں چل رہی ہیں ٗچونکہ ویسٹ پاکستان موٹر وہیکل آرڈیننس تمام صو بو ں پر لاگو ہو تا ہے ۔

اس لئے اس آرڈیننس کے تحت رجسٹرڈ گاڑیاں تمام صو بو ں میں قانونی حیثیت کی حامل ہیں ٗاسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑیاں اگر کوئی خیبر پختونخوا کا باشندہ خریدتا ہے تو اس کی قانونی حیثیت برقرار رہتی ہے ٗاس لئے دوسرے صو بو ں یا اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کے باشندوں کے ساتھ نامناسب رویہ نہیں ہو نا چا ہےئے ٗ آرڈیننس 1965 ء کے تحت محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسشن اس بات کا پابند ہے کہ وہ لوکل شناحت پر گاڑی تبدیل کر سکتا ہے ٗاور باقاعدہ فارم 8 پر پاکستان کے کسی بھی حصے میں ٹوکن ٹیکس جمع کرا سکتا ہے ۔

گاڑیاں موو ایبل پراپرٹی کے زمرے میں آتی ہیں ٗدوسرے یہ کہ کسی بھی صو بو ں میں داخل ہو تے وقت ان گاڑیوں سے ٹول ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جبکہ ٹو کن ٹیکس صو بائی خزانے میں جمع ہو تا ہے اور اسے مختلف تر قیاتی منصو بو ں پر خرچ کیا جاتا ہے یہ ٹیکس صرف روڈ پر خرچ نہیں ہو تے دوسری طرف ٹول ٹیکس روڈ پر خرچ ہو تا ہے ۔