697

پشاور میں غیر قانونی پانی کنکشنز کیلئے 10دن کی ڈیڈ لائن

پشاور ۔ واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید ظفر علی شاہ نے ڈبلیو ایس ایس پی کے تمام زونل منیجرز کو 10دنوں کے اندر تمام غیر قانونی طور پر لگائے گئے پانی کنکشنز کی نشاندہی کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنکشنز کی رجسٹریشن نہ کروانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جبکہ کنکشنز بھی منقطع کئے جائیں گے۔ وہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں جنرل منیجرز، زونل منیجرز اور دیگر شعبوں کے سربراہوں نے شرکت کی اور انہیں کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی۔

سید ظفر علی شاہ نے ہدایت کی کہ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کنٹونمنٹ اور ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشنز کے ساتھ ملحقہ علاقوں میں ڈبلیو ایس ایس پی حدود کا تعین کیا جائے اور وہاں ہر حالت میں صفائی اور دیگر خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، ملازمین کو یونیفارم پہننے کا پابند کیا جائے جو بھی یونیفارم نہ پہنے ان کی تنخواہ کاٹی جائے۔ محاصل کے اہداف کے حصول کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے جو بھی بل ادا نہیں کریں گے۔

ان کے خلاف لینڈ ریونیو ایکٹ اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013کے تحت کارروائی کی جائے گی کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی تین مہینوں میں محاصل کے اہداف حاصل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کے کنارے جگہ جگہ تعمیراتی ملبہ پھینکنے کی انسداد کے لئے پی ڈی اے اور ٹی ایم ایز سے رابطہ کیا جائے تاکہ ملبہ کو ہٹایا جائے جبکہ ملبہ پھینکنے والوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جائے۔

انہوں نے مانیٹرنگ موثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر صفائی ہو رہی ہے اور پھر بھی گندگی پڑی رہتی ہے ان علاقوں کے لوگوں سے رابطہ کرتے ہوئے انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے اگر پھر بھی وہ گندگی پھینکنے سے باز نہیں آتے تو مروجہ قوانین کے تحت جرمانے عائد کئے جائیں۔ انہوں نے مقررہ اہداف حاصل کرنے کی کوششیں تیز کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ زونل منیجر ماہانہ پیشرفت رپورٹ پیش کریں۔ 

انہوں نے کہا کہ تین مہینوں کے اندر نہ صرف محاصل میں خاطرخوا بہتری لانی ہے بلکہ صفائی ستھرائی کی صورتحال میں بھی واضح تبدیلی لانی ہوگی اور ان اہداف کے حصول میں کسی قسم کو کوتاہی برداشت نہی کی جائیگی۔