246

نفرتوں کا کھیل اور نئی نسل

سیاسی کشیدگی میں بتدریج کمی آرہی ہیں اوربعض اہم معاملات بہتر ہوتے جا رہے ہیں تاہم معاشرتی اور نفسیاتی مسائل بوجوہ خطرناک حد تک بڑھتے جارہے ہیں اور بعض حلقے کوشش کر رہے ہیں کہ بعض واقعات‘ سانحات اور فیصلوں کی آڑ میں عوام خصوصاً نئی نسل میں بے چینی کو ہوا دی جائے اور ان کو تعلیم کی حصول کی بجائے سیاسی معاملات میں پرتشدد طریقوں کیساتھ گھسیٹا جائے‘ یہ کوشش بھی تیزی سے جاری ہے کہ نسل پرستی اور قوم پرستی کے نام پر نفرتوں اور فاصلوں میں اضافہ کیا جائے اور جذباتی نوجوانوں کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے‘ کوشش کی جارہی ہے کہ سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے عوام خصوصاً نئی نسل کو اپنے ملک اور اداروں سے متنفر کرکے ان کو مزاحمت کی راہ پر ڈالا جائے اور بعض واقعات کو بنیاد بناکر یہ تاثر دیاجائے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے علاوہ لسانی بنیادوں پر بعض قومیتوں کیساتھ جان بوجھ کر زیادتی کی جا رہی ہے‘ بعض واقعات افسوسناک بھی ہوتے ہیں ا ور اداروں کی کارکردگی بھی قابل گرفت رہتی ہے جس کا تدارک ہونا چاہیے اور کسی کیساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے تاہم ان کی آڑ میں لوگوں کو مزاحمت‘ بدکلامی اور منفی طرز عمل پر اکسانے پر مبنی رویوں کو کسی بھی طور قابل تعریف نہیں کہا جاسکتا‘ ماضی کے واقعات اور تلخیوں کو بنیاد بناکر منافرت اور کشیدگی کو ہوا دینے کا جو سلسلہ پاکستان بالخصوص پشتون بیلٹ میں چل پڑا ہے اسکے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اسکا سب سے بڑا نقصان ان لوگوں کو ہوگا جو کہ منفی پروپیگنڈے کے ذریعے بعض واقعات کی آڑ میں دوسروں کے جذبات استعمال کرکے سیاسی سکورنگ میں مصروف عمل ہیں۔

کوئی بھی معاشرہ‘ کوئی بھی قانون‘ کوئی بھی نظام یا کوئی بھی ملک آئیڈیل نہیں ہوتا‘ نقائص‘ کمزوریاں‘ زیادتیاں اور امتیازی سلوک انسانی فطرت کے علاوہ ہر نظام کے فطری عوامل ہیں اور بہتری کی گنجائش ترقی یافتہ اور مہذب اقوام ممالک میں بھی ہوتی ہے مگر ہم اصلاح عامہ کی بجائے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور ایسا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سب کچھ برا ہی ہو رہا ہے اور سب برائیوں کی ذمہ دار ریاست ہے‘ نام و مفاد سوشل میڈیا کے ذریعے بعض پڑھے لکھے لوگ ذاتی اور سیاسی حملوں کے علاوہ مذہب‘ دوسری قومیتوں اور اہم شخصیات کیخلاف نازیبا الفاظ کا جو بے دریغ استعمال کر رہے ہیں وہ معاشرے کیلئے زہر قاتل ہے‘ کھلے عام کردارکشی‘ الزامات اور دوسروں کی تذلیل پر مبنی رویہ دو طرفہ منافرت اور قومیتوں کی دوریوں کا سبب بنتاجا رہا ہے اور اس رویے یا شغل کا خطرناک پہلو اب یہ سامنے آرہا ہے کہ پشتون خواتین کو بھی اظہار آزادی اور سیاسی جذبات ابھارنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اظہار رائے اور انسانی حقوق کے نام پر ایک ایسی ’’آزادی‘‘ متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی ہماری اقدار اور روایات میں سرے سے گنجائش ہی نہیں ہے‘ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ وہ حلقے کرتے دکھائی دے رہے ہیں جو کہ خود کو پشتو نولی کے علمبردار کہہ رہے ہیں۔

شیشے کے گھروں میں بیٹھے بعض مغرب زدہ لوگ سوشل میڈیا کا سہارا لیکر نئی نسل کے جذبات سے کھیلنے کے شوق میں بنیادی اخلاقی اقدار کا بھی خیال نہیں رکھتے اور بعض ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن کو عام اور نجی محافل میں بھی انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے‘ عدم تشدد کا نام لیکر تشدد اور منافرت پھیلانے کی پوری مہم جوئی جاری ہے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ ایک مخصوص سیاسی سرکل میں نئی نسل کو منافرت کے علاوہ معاشرے‘ ریاست اور اپنی اقدار کے خلاف مزاحمت کی کھلے عام ترغیب دی جاتی ہے اور اس مہم جوئی میں کسی کو بھی معاف نہیں کیا جا رہا ہے یہ صورتحال شاید کہ ریاست کیلئے پریشان کن نہ ہو کیونکہ جدید دور کی ریاستیں بہت طاقتور ہوا کرتی ہیں تاہم اس صورتحال نے معاشرے میں منفی رجحانات کی بنیادیں ضرور رکھی ہیں اور اس مہم جوئی نے اب بعض لوگوں کیلئے ایک فیشن کی شکل اختیار کرلی ہے‘ خوابوں میں رہنے والے عناصرنئی نسل کو سہانے مستقبل کے سرابوں کے ذریعے تشدد پر اکسا کر ان کی مستقبل سے کھیل رہے ہیں‘ ایسے میں والدین‘ اساتذہ‘ حقیقی دانشوروں‘ سیاسی اکابرین اور متعلقہ اداروں پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نئی نسل کو اس صورتحال سے نکالنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے اور ریاستی سطح پر بھی اظہار رائے اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی مہم جوئی کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے۔