195

مغرب میں تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا حق ہے

سردی برف اور جمود تومغربی ملکوں کا حسن ہے کرسمس سفید نہ ہو تواس بات کا انہیں افسوس رہتا ہے‘ اگرچہ اس دفعہ دسمبر میں کرسمس سبز ہی تھی لیکن نیا سال شروع ہوتے ہی جنوری میں ایسی کڑاکے کی سردی پڑی اور آسمان نے اتنی برف برسائی کہ کینیڈینز کے تمام دن سفید ہوگئے اور پھر سونے پر سہاگہ کہ برفانی بارشFreezing Rain کئی دن تک جاری رہی‘ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ ہفتوں پہلے شہریوں اور انتظامیہ کیلئے وارننگ جاری ہوجاتی ہے ٹورنٹو کا میئر توسڑکوں پر ہی گھومتا رہتا ہے‘لوگوں کے مسائل جاننا انکو حل کرنا اسکا مطمح نظر ہوتا ہے‘ کبھی برف کے کھیل کے میدان میں کھلاڑی بچوں کیساتھ ان ہی کی طرح جرابیں پہن کر خیر سگالی کررہا ہے‘کبھی برف ہٹانے کی گاڑیوں کا معائنہ کررہا ہے‘ مغرب کی ترقی کا راز ڈھونڈیں تو وہ جا بجا نظر آتا ہے لوگوں کو ووٹ کی طاقت کا اندازہ ہے کبھی اپنے طاقتور ووٹ کو غلط آدمی کے انتخاب میں ضائع نہیں کرتے اور جو لوگ اس طاقت کے ذریعے آتے ہیں پھر وہ عوام کے اندر ہی رہ کر مسائل کے انبار کو بتدریج کم کرتے نظر آتے ہیں‘ کوئی بڑا افسر ہے نہ کوئی چھوٹا افسر۔جیسے مشین کا چھوٹا بڑا ہرپرزہ اہم ہوتا ہے اسی طرح یہاں صفائی کرنیوالا بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے جتنا کسی محکمے کا ڈائریکٹر جنرل ہوتا ہے۔

کام کرنا کوئی عار ہی نہیں ہے چھوٹے سے چھوٹے کام کو قابل عزت سمجھا جاتاہے‘یہاں کوئی کسی کو جمعدار‘نائی قصائی‘دکاندار کہہ کر نہیں بلاتا‘ ہر پیشے کی تکریم ہے اسلئے نہایت تعلیم یافتہ لوگ بھی یہاں کام کرنے کو برا نہیں سمجھتے ‘کیونکہ معاوضے اچھے ہیں اور پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دینے کا قانون ہے‘جان مال عزت محفوظ ہے‘ آپکے ایک فون کال پر حکومت کی پوری مشینری آپکی مدد کرنے کیلئے آپکے دروازے پر موجود ہوتی ہے‘ یہ درست ہے کہ مشرق اور مغرب کا کلچر فرق ہے‘ مسلمان اور غیر مسلمان کے رسم ورواج الگ ہیں‘ یہ تو فیصلوں اور عمل پر منحصر ہے کہ آپ یہاں اپنے خاندان کیلئے کیسی زندگی منتخب کرتے ہیں‘ایسے کون سے راستے اور اس پر چلنے کے اصول متعین کرتے ہیں کہ جن پر آپکا مذہب‘ ثقافت بھی متاثر نہ ہو اور مغرب بھی آپکو قبول کرتا جائے‘ٹورنٹو کی ایک ہائی رائز بلڈنگ میں جانے کا اتفاق ہوا ایسا لگا ابھی ابھی اس بلڈنگ کا افتتاح ہوا ہے‘ حالانکہ اس کو بنے ہوئے 20سال ہوچکے ہیں‘ فرش چمک رہا ہے ‘کھونے کھدروں سے مہک اٹھ رہی ہے‘ قالین‘سیڑھیاں‘ریلنگ‘برآمدہ کاش کہیں کوئی تنکا ہی پڑا ہوا نظر آجائے‘ باہر منفی چالیس سردی ہے‘ برف کے پہاڑ بنے ہوئے ہیں جوتا گندہ نہیں ہے‘ سینکڑوں لوگ اس ایک بلڈنگ کے 500/600فلیٹس میں رہتے ہیں‘ چاروں طرف دروازے‘ لفٹ موجود ہیں‘ آگ بجھانے کے آلات لگے ہوئے ہیں۔

انتظامیہ موجود ہے سکیورٹی کے وسیع تر انتظامات موجود ہیں‘ لفٹ کی چیکنگ کے طریقے موجود ہیں‘ ایک منٹ میں کئی سو لوگ ان لفٹوں کو استعمال کررہے ہیں ‘کوئی اوپر جارہا ہے‘کوئی نیچے آرہا ہے‘ بوڑھے ‘بیمار‘ بچے ہر ایک کیلئے اسکے جسمانی لحاظ سے آسانیاں بھری پڑی ہیں‘بے اختیار ’۔واہ‘ کہنے کو دل چاہتا ہے پانچ چھ سو گھروں کی 600گاڑیوں یا 1200 گاڑیوں کی پارکنگ اسی 35,30منزلہ بلڈنگ کے تہہ خانوں میں واقع ہے‘ جہاں روشنی ہوا دھوپ کے انتظامات کئے گئے ہیں‘ فائربریگیڈ کی گاڑیوں کیلئے الگ رستے موجود ہیں اور ایسی ہائی رائز یا اونچی عمارتوں سے ٹورنٹو اور کینیڈا کے تمام شہر بھرے پڑے ہیں‘ ہر ایک کے انتظامات دیکھنے کے لائق ہیں‘کچھ تو ہے جو ان لوگوں کو ہم سے الگ بناتاہے‘ یہاں سرخ بسیں نہیں چلتیں ہواؤں میں سڑکیں موجود نہیں ہیں زمین پر ہی ٹرانسپورٹ کا نتظام ایسی خوبصورت آرام دہ بسوں سے بنایا ہوا ہے کہ وہ لوگ جنکے پاس ذاتی گاڑیاں نہیں ہیں یا وہ استعمال نہیں کرتے انکو راحت محسوس ہوتی ہے جب وہ ان میں بیٹھتے ہیں‘ وقت کی پابندی اتنی کہ بس کے آنے پر آپ اپنی گھڑی کا وقت ملالیں سرکاری سکول میں ایک ایوارڈ کی تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا سکول میں داخل ہوئی تو فریموں میں جڑے ہوئے بچوں کے گروپ فوٹوز‘ لاتعداد‘پیتل کی تختیوں پر بچوں کے نام ہر سو دیواروں پرآراستہ نظر آئے۔

داخلے پر ہی ایک آفس بنا ہوا ہے بچے کسی طور پر لیٹ آئے یا فون کرنا چاہے یا کوئی ضرورت آگے بڑھ کر اسکی مدد کیلئے سٹاف چاق وچوبند تیا رکھڑا ہے ایک طرف بیشمار جیکٹ‘ ٹوپیاں‘دستانے‘ مفلر میزوں پر پڑے نظر آئے یہ وہ سامان ہے جو طالبعلم بھول گئے تھے یا ان سے جلدی میں رہ گیاتھا بغیر کسی نگرانی کے موجود ہے‘ اپنا سامان طالبعلم کو نظر آگیا ہے توو اپس لے لیں نہ کوئی چوری کرنے کا سوچتا ہے نہ ہی اس سامان کو مفت میں استعمال کرنے کا خیال کرتا ہے‘ ایک اور جگہ بیشمار کھانے پینے کا بندڈبوں بوتلوں میں سامان نظر آیا یہ وہ اشیاء ہیں جو طالبعلموں کے والدین نے عطیہ کی ہیں ‘فوڈ بینک کیلئے‘سکول انتظامیہ ان کو بچوں کی طرف سے تحفہ کے طور پر غریب اور نادار لوگوں کو اس طرح دیگی کہ واقعی میں بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کی خیرات کا پتہ بھی نہ چلے‘ جمنازیم میں ایوارڈ تقریب شروع ہوچکی ہے‘ چار طالب علم باری باری اس تقریب کو میزبانی بخش رہے ہیں ۔

صرف وہی والدین موجود ہیں جن کے بچوں کو انعامات ملے ہیں‘ مبادا وہ بچے اپنے والدین کے سامنے شرمندہ نہ ہو جائیں جن کو ایوارڈ نہیں ملا‘ میزبان بچے بتا رہے ہیں آج تین شعبوں میں انعامات یا ایوارڈ دیئے جائیں گے لرننگ سکلز‘ مہربانی ہمدردی اور لیڈر شپ ‘کوئی فسٹ نہیں ہے سیکنڈ نہیں ہے فیل اور پاس نہیں ہے ہاں وہ جو سیکھنے کیلئے زیادہ طاقت لگاتے ہیں اور وہ بچے جو کلاس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ہمدرد ہیں دوڑتے ہوئے کام کرتے ہیں اور وہ جن میں قائدانہ صلاحتیں ہیں‘ میں سوچتی رہی کہ ہمارے سکولوں میں تو بچے کی قائدانہ صلاحتیں اسکی دشمن بن جاتی ہیں ان کو چالاک اور مشروٹ کہہ کر ٹھکرا دیا جاتا ہے‘ ہمدردی اور خدا ترسی تو کسی کو خوبی نظر ہی نہیں آتی کوئی جتنا زیادہ حافظہ استعمال کرے وہ اتنا ہی زیادہ لائق مانا جاتا ہے‘ یہاں کے اساتذہ آسمان سے اترے ہوئے فرشتے ہیں ‘بچوں کو پیار کررہے ہیں‘ گلے لگا رہے ہیں اہمیت دے رہے ہیں بچوں کے والدین کو چہروں سے جان رہے ہیں‘ تعریف کررہے ہیں وقت کی قدر ہے تقریب ختم ہوئی اور بچے قطاروں میں اپنی ٹیچرز کے ہمراہ کلاس روم کی طرف چلے گئے‘ والدین اپنی اپنی گاڑیوں کی طرف جارہے ہیں‘ بہت خوش ‘یہ سرکاری سکولوں کا احوال ہے‘ آٹھویں جماعت تک فیل پاس کا سسٹم موجود نہیں ہے‘ سب بچے پاس ہے ہاں انکی کمزور باتوں کو تفصیل کیساتھ والدین کو بتادیا جاتا ہے نویں دسویں گیارہویں بارہویں سے امتحانات شروع ہوتے ہیں اور یونیورسٹی تک ایسے لائق ترین لوگ ہی سامنے آتے ہیں جو حکومتی مشینری کا حصہ بنتے ہیں‘ باقی بچے حکومتی نظم ونسق سنبھالنے کے اہم پرزوں کی طرح دوسری انڈسٹریز کی طرف پھیل جاتے ہیں‘ ہائی سکول تک تعلیم ہر بچے کا حق ہے اور والدین اور حکومت کا یہ فرض ہے اس فرض سے کوئی بھی منہ موڑنے کا سوچ نہیں سکتا ۔