350

نیادور؟

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ملائیشیا‘ انڈونیشیا اور بھارت کے دورے پر نکلے ہیں اور اس سفر کے دوران انکا پہلا سٹاپ پاکستان ہے ۔ پی ٹی آئی حکومت کے ایک ہینڈ آؤٹ کے مطابق چھ بلین امریکی ڈالر اور قبل ازیں مؤخر کی گئی تیل سے متعلقہ سہولیات کی فراہمی کے علاوہ شہزادہ محمد بن سلمان اب کھیل و ثقافت‘ میڈیا‘اندرونی سلامتی‘ قابل تجدید توانائی‘ پیٹرو کیمیکلز‘ بجلی اور معاشیات کے شعبے میں بھی کئی بلین ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری کا اعلان کریں گے۔ حکومت کا خیال یہ ہے کہ یہ انعام پاکستان کو اسلئے دیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ سال اکتوبر میں محمد بن سلمان کی جانب سے ریاض میں منعقد کی گئی عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں بنفس نفیس شرکت کی تھی۔ کئی ایک مغربی لیڈروں نے جمال خشوگی کے قتل کے واقعے کی بنیاد پر اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ مقامی میڈیا کی توجہ زیادہ تر محمد بن سلمان کیساتھ آنیوالے سکیورٹی آلات کی بڑی مقدار اور سکیورٹی اہلکاروں کی پوری فوج پر مرکوز ہے‘ اس دورے کے مقصد کے بارے میں بات چیت کوئی نہیں کر رہا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک نئے دور کے آغاز کی بات کر رہے ہیں۔وزیر خارجہ کا ایسا کہنا اہم ہے کیونکہ تاریخی طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اچھے ہی رہے ہیں لیکن ان میں خرابی اس وقت آئی جب اپریل سن دو ہزار پندرہ میں پاکستانی پارلیمنٹ نے یمن میں سعودی قیادت میں شروع کی جانیوالی فوجی مہم کیلئے ہتھیار اور جنگی جہاز فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس مخالفت میں پی ٹی آئی آگے تھی کیونکہ اس وقت وہ میاں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف تھی اور قطعی یہ نہیں چاہتی تھی کہ اس امداد کے ملنے کے بعد صلے کے طور پر سعودی عرب نواز شریف کو سہارا دینے کی کوئی کوشش کرے۔قارئین کو یہ بھی یاد ہو گا کہ اس وقت متحدہ عرب امارات کے ایک وزیر نے سعودی عرب کے گماشتے کا کردار ادا کرتے ہوئے کافی شدید ردعمل کا اظہار بھی کیا تھا لیکن اب وہی متحدہ عرب امارات ہے کہ جسکی جانب سے ایک بہت بڑی رقم تیل سے متعلقہ سہولیات کیلئے فراہم کی گئی ہے‘شاہ محمود قریشی صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ انکی حکومت یمن کے حوالے سے سعودیوں کو کسی قسم کی فوجی معاونت کی فراہمی کا ارادہ نہیں رکھتی ہے‘سوال پھر یہ اٹھتا ہے کہ وہ کونسی چیز ہے کہ جو ان دونوں ممالک کو قریب لانے کا سبب بن رہی ہے؟ سعودی عرب میں محمد بن سلمان کے سیاسی و اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عملدرآمد جاری تھا کہ اس دوران ان پر قاتلانہ حملے کی خبر آئی اور اس کے بعد جمال خشوگی والا معاملہ اٹھا جسکی وجہ سے عالمی سطح پر انکی شہرت اور ساکھ کو نہایت نقصان پہنچا اور مغربی دنیا میں تو وہ بالکل تن تنہا رہ گئے۔ مغربی ممالک کی جانب سے جب پابندیوں کی باتیں ہوئیں اورامریکی کانگرس میں انکی مخالفت ہونے لگی توسعودی ولی عہد نے اپنے میڈیائی گماشتوں کے ذریعے سعودی عرب کی جانب سے ممکنہ جوابی اقدامات کی فہرست پیش کر دی۔سعودی عرب شام کی جنگ میں کافی ملوث ہے اور اس جنگ سے جب صدر ٹرمپ نے امریکی علیحدگی کا اعلان کیا تو سعودی عرب کو احساس ہوا کہ سکیورٹی کے حوالے سے مغرب پر انحصار اور مغربی معیشتوں میں سرمایہ کاری اب ختم ہو جانی چاہئے۔

سوچ کی اس تبدیلی کا اظہار روس کے ان متواتر دوروں سے بھی ہوتا ہے جن میں روس کے جدید S-400 اینٹی ایئر کرافٹ میزائل ڈیفنس سسٹم اور اسی بلین ڈالر ز کی لاگت میں سولہ جوہری ری ایکٹرزکے حصول کے بارے میں بات چیت کی گئی ۔ اس ڈیفنس سسٹم میں یورنییئم کی افزونی اور استعمال شدہ ایندھن کی ری پروسسنگ کے حوالے سے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔روس کا ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ آئل ریفائننگ ، پیٹرو کیمیکلز ، گیس کیمیکلز اور آئل فیلڈ سروسز کے بارے میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے‘ جواباً سعودی کمپنیاں روس کے انفراسٹرکچر‘ ذراعت‘ ہائی ٹیک‘ توانائی‘کان کنی اورایل این جی کے شعبوں میں پندرہ بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کے معاہدے کر رہی ہیں۔ محمد بن سلمان نے ریاض میں "Davos in the Desert" کے نام سے جو کانفرنس کروائی تھی اس میں مغربی ممالک کی کمپنیوں کے سی ای اوز زیادہ تر غیر حاضر ہی رہے تھے جبکہ روس سے چالیس افراد پر مشتمل وفد شامل ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس کانفرنس کے دوران محمد بن سلمان نے یہ بات کہی تھی کہ ’’اب ہم جان گئے ہیں کہ ہمارے بہترین دوست اور بد ترین دشمن کون ہیں۔‘‘یہی وجہ ہے کہ اب سعودی ولی عہد اپنی سلطنت کے اقتصادی اور عسکری مفادات کی وسعت کیلئے غیر مغربی ذرائع کو تاک رہے ہیں کہ جہاں فائدے کے امکانات بھی روشن ترہیں‘انکا حالیہ دورہ اس سلسلے کی کاوشوں کی ایک کڑی ہے‘دلچسپ بات یہ ہے کہ روس میں سعودی عرب کے سرمایہ کاری کی منصوبے تقریباً ویسے ہیں کہ جو اسکی جانب سے پاکستان کیلئے تجویز کئے گئے ہیں‘پاکستان اور سعودی عرب دونوں ہی چاہ بہار پورٹ پراجیکٹ کی ناکامی چاہتے ہیں ‘سعودی عرب کی خواہش یہ ہے کہ تیل کی برآمد کی ایرانی استعداد کی بیخ کنی کی جائے جبکہ پاکستان نہیں چاہتا کہ بھارت کو افغانستان تک براہ راست رسائی حاصل رہے۔

گوادر میں سعودی آئل ریفائنری اور سپلائی پائپ لائنز کیلئے فراہم کئے گئے سرمائے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو تیل کیلئے ایرانی انحصار اور گیس کیلئے قطر پر انحصار سے آزاد کر کے سعودی عرب پر منحصر کیا جائے۔امکان یہ ہے کہ جنگی جہازوں اور میزائلوں کی برآمد کیساتھ ساتھ جدید اسلحے ‘ ٹیکنالوجی اور تربیت کی فراہمی کی تیاری بھی کی جا رہی ہے‘اسکے علاوہ پی ٹی آئی حکومت کے استحکام کو یقینی بنانے کے کی غرض سے نواز شریف کیساتھ اسٹیبلشمنٹ کی مجوزہ سیاسی ڈیل کی نک سک درست کرنے کیلئے بھی اسلام آباد میں محمد بن سلمان کی موجودگی کا فائدہ اٹھایا جائیگا‘پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے مجوزہ شعبوں میں سے ایک شعبہ میڈیا اور کلچر کا بھی ہے‘ہم دیکھ رہے ہیں کہ سعودی عرب کے موجودہ اور گزشتہ سفراء نے مقامی پریس میں اپنی آراء کا اظہار شروع کر دیا ہے۔مغربی میڈیا کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان کے میڈیائی عزائم عالمگیرہوتے جا رہے ہیں‘انکا مقصد بھی سکیورٹی اور جواز کا حصول ہی ہے‘ وزیراطلاعات فوادچوہدری نے سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے نئے قوانین لانے کی دھمکی دی ہے‘گویاآئے دن جو لوگ غائب کئے جا رہے ہیں‘ناقدین کیخلاف جو پولیس کیس قائم کئے جا رہے ہیں‘ٹی وی چینلوں کو’’کر، نہ کر‘‘ کی جو فہرستیں فراہم کی جاتی ہیں‘ اشتہاری مہمات کے حوالے سے جو امتیازی پالیسیاں روا رکھی گئی ہیں اور برانگیختہ کرنیوالوں کو بلاک کرنے کیلئے کیبل ڈسٹری بیوٹرز پر جو مسلسل دباؤ رہتا ہے تو کیا یہ ساری باتیں اظہار کی آزادی پر پابندیوں میں شمار نہیں ہوتیں؟۔