227

آزادی کی شمع کو جلائے رکھا

برصغیرپاک وہند کی تاریخ بہادری‘ شجاعت اور ہمت حوصلہ رکھنے والے لوگوں سے بھری پڑی ہے‘ انگریزوں نے جس طرح سازش کے تحت کشمیر کے مسئلے کو آنیوالے مسلمان اور ہندو نسلوں کیلئے متنازعہ بناکر اپنی دیرینہ دشمنی کا بدلہ لیا ‘ اسی طرح جب تک وہ ہندوستان پر راج کرتے رہے تواپنے دور حکمرانی میں کروڑوں لوگوں کو سزاؤں‘ قیدوبند اور غربت کے خوف میں مبتلا کرکے اپنے خزانے بھرتے رہے‘کسی بھی قوم کو جہالت اور غربت میں دھکیل کر ان پر حکومت کرو یہ آسان فارمولا ماضی میں ہرجگہ ملتا ہے‘ آج بھی وہی اقوام ذلیل وخوار ہیں جو جاہل ہیں ‘غریب ہیں اور اللہ نے ان پر ایسے نالائق حکمران مسلط کردیئے ہیں جوپاتال میں اپنے ہی لوگوں کو دھکیلنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں‘برصغیر میں ان بہادر آدمیوں کیساتھ کئی ایسی بہادر خواتین کا بھی ذکر آتاہے جنہوں نے انگریزوں کیخلاف آگے بڑھ کر مخالفت کا قدم اٹھایااور ضرورت پڑنے پر میدان جنگ میں بھی حصہ لیا‘ہندوستان کی فلم انڈسٹری نے ایسی کئی بہادر ہندو خواتین پر فلمیں بناکر عوام کو انکے کام سے آگہی دی ہے‘ محمدی خانم بھی ایسی ہی ایک خاتون تھی وہ ہندوستان کی مشہور زمانہ ریاست اودھ میں پیدا ہوئی‘اسکے والدین سید تھے لیکن بہت غریب تھے‘ اودھ کا شہر فیض آباد بہت مشہور شہر ہے اردو ادب کا ایک بہت مشہور اور جیتا جاگتا کردار امراؤجان ادا کا بھی اسی شہر سے تعلق تھا۔

محمدی خانم اپنی غربت کے باوجود کسی طرح نوابوں کے خاندانوں میں پہنچ گئی‘نواب آف اودھ واجد علی شاہ نے اس کیساتھ شادی کرلی اور اب اسکو بیگم نواب کا لقب مل گیا‘اودھ کے نوابین کا ٹھاٹ بھاٹ لکھنؤ اور پورے ہندوستان میں قابل دیدہوا کرتا تھا‘ یہ کوئی زیادہ دور کا زمانہ نہیں ہے انیسویں صدی کاو سط ہے‘بیگم نواب واجد علی شاہ کو اللہ تعالیٰ اولاد نرینہ سے نوازتا ہے تو اسکو حضرت محل کا خطاب مل جاتا ہے اور آنے والی تمام عمر میں وہ حضرت محل کے نام سے ہی جانی پہچانی جاتی ہے‘ اپنی خوبصورتی اور دل کشی سے اس کو پری بھی کہا جاتا تھا‘انگریز کی نظر ہر اس ریاست پر ہوتی تھی جہاں ہیرے جواہرات اور دولت کے انبار کی اسکو بھنک پڑجاتی تھی‘نواب واجد علی شاہ کی ریاست اود ھ بھی انہی میں سے ایک تھی‘ انگریزوں نے نواب واجد علی شاہ کو اپنی ریاست اور مال ودولت ان کے حوالے کرنے کا پیغام بھیجا‘ہندوستان کی بدقسمتی اس لحاظ سے عروج پرتھی کہ نوابین عیش وعشرت کے دلدادہ تالی بجاکر نوکروں کی قطاروں سے کام کروانے کے عادی تھے‘ بہادری انکے قریب بھی نہیں پھٹکی تھی‘نواب واجد علی شاہ انگریزوں کا یہ پیغام سن کر دل ہی ہار بیٹھا حالانکہ اسکی ریاست کے پاس جنگجو سپاہی بڑی تعداد میں موجود تھے‘ نواب واجد علی شاہ نے انگریزوں کے سامنے سرکو جھکادیا اور اسکو کلکتہ کے کسی گھر میں جلاوطن کرکے پہنچا دیاگیا۔

حضرت محل نے اس موقع پر نواب واجد علی شاہ کو ہمت اور بہادری کے بہت سبق پڑھائے لیکن نواب انگریزوں کے قہر اور جبر سے ڈر گیا تھا‘ نواب واجد علی شاہ کے جلا وطن ہونے کے بعد حضرت محل نے اپنی مختصر فوج کی کمان اپنے ہاتھ میں لی‘ اسوقت وہ ایک گھریلو خاتون تھی لیکن اسکی بہادری اور ہمت عروج پر تھی انگریزوں کو للکار کر اپنی ریاست سے نکل جانے کو کہا اور اپنی ریاست کی بچالیا اپنے بیٹے کو اودھ کا حکمران بنا دیا اور دوبارہ سے ریاست اودھ کا انتظام واانصرام چلانے لگی‘ 1857ء کی جنگ آزادی اس واقعے کے اگلے سال ہی برپا ہوگئی جو ہندوستان کی طرف سے انگریزوں کیخلاف لڑی جانے والی پہلی جنگ تھی‘اس جنگ آزادی میں حضرت محل بھی اپنی مختصر فوج کیساتھ لڑائی میں شریک ہوئی‘بدقسمتی سے 1857ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کو غلبہ حاصل ہوا‘کچھ تو انگریزوں کی بے پناہ فوجی قوت کچھ ہندوستان کے عوام کا اپنے ہی ہم وطنوں کیخلاف سازش کروانے کا ہتھکنڈہ اور سونے پر سہاگہ ہندوستان کے مجبور اور بے کس لوگ‘اپنی اس آزادی کے کوشش میں بھاری جانی نقصان کے ساتھ شکست کھاگئے‘ انگریزوں کو دوبارہ لکھن�ؤ کا اودھ یاد آگیا ‘انہوں نے حضرت محل کو نواب واجد علی شاہ کی طرح ہی شکست قبول کرنے کا پیغام بھیجا بہادر عورت ایک بار پھر اس قوت کیساتھ ڈٹ گئی انگریزوں کی جیت نے ان کو اب بہت جنگلی بنادیا تھا انہوں نے پوری قوت کیساتھ اودھ پر حملہ کرکے حضرت محل سے اس ریاست کو چھین لیا اور تمام دولت پر زبردستی قبضہ کرلیا۔

حضرت محل ایک ایسی مسلمان انقلابی رہنما کے طور پر سامنے آئی جس نے اپنی سلطنت بچانے کیلئے اس وقت کے انقلابیوں کیساتھ مل کر جدوجہد کی‘ ہندوستان کے ناناصاحب‘ بینی مدھو‘ کنور سنگھ‘فیروز شاہ اور شمالی ہندوستان کے کئی بہادر انقلابی رہنماؤں کیساتھ کھڑے ہوکر وطن کے دفاع کی جنگ لڑی 1858ء میں انگریز اودھ کا قبضہ اپنے ہاتھ میں لے چکے تھے اس نے انگریزوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کے ہر عمل کی مخالفت کی‘ یہ کوئی آسان بات نہیں تھی‘ انگریز جو اپنے جبر اور اپنے قہر سے ہندوستان پر قیامت بن کر حکمرانی کرتے تھے انکی مخالفت کرنا بہت بڑے دل‘شجاعت اور بہادری کی بات تھی‘ انگریزوں نے حضرت محل کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے اس کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ‘حضرت محل کیساتھ ہی سینکڑوں لوگوں کو بھی نیپال کے شہر کھٹمنڈو بھجوادیا گیا‘ انگریزوں نے غریب مقامی لوگوں کی زمینوں اور اثاثوں پر بھی قبضہ کرلیا‘ حضرت محل نیپال کے ایک صوبے ہمالیان چلی گئی‘ انگریزوں نے اسکو گزر اوقات کیلئے وظیفہ دینے کی پیشکش کی لیکن اس نے حقارت سے اس کو ٹھکرا دیا‘ اپنی باقی زندگی کے بیس سال اس نے نیپال میں گزار دیئے‘ جو زیور یا سونا وہ اپنے ساتھ لائی تھی وہ ہندوستان کے ان غریب لوگوں میں تقسیم کردیا جو انگریزوں کے ظلم وستم سے گزر کر اس کیساتھ ہی نیپال آئے تھے‘ اور خود اپنی زندگی غربت اور بے چارگی میں گزار دی‘ ہمیں ایسے کئی بہادر خواتین وحضرات کی قربانیوں کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے جنہوں نے ہندوستان میں انگریزوں کیخلاف مسلسل جدوجہدکی‘ بہادر لوگ آگے بڑھتے گئے شہید ہوتے گئے قیدوبند کی سختیاں جھیلتے رہے لیکن آزادی کی شمع کو جلائے رکھا‘ علم آگے ہی آگے پہنچاتے رہے ورنہ آج ہم وہاں ہوتے جہاں ظلم وستم بھی رونے پر مجبور ہوجاتا ہوگا‘ سلام ہے ان عظیم لوگوں پرجنہوں نے اپنی زندگیوں کو ہمارے آج کے آزاد دن کیلئے جہنم بنایااور ہمیں سچ مچ ہی جنت دے گئے ۔