180

جنگی جنون اور نیوز رومز

شہرہ آفاق لبنانی سکالر خلیل جبران کے بقول تاریخ سے بے خبر لوگ جب اتفاقی طور پر حکمران بن جاتے ہیں تو وہ اقوام اور اپنے ممالک کا مستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں اور خود کو منوانے کیلئے جنگ جیسے تباہ کن ہتھیار کا استعمال ان کا حربہ قرار پاتا ہے‘14 فروری کو پلوامہ میں بھارتی فورسز کے قافلے پر جب حملہ کیا گیا تو یہ سب کو معلوم تھا کہ اب کے بار بھی بی جے پی کی قیادت پاکستان ہی کو ذمہ دار قرار دینے کا حربہ استعمال کریگی اور بھارتی حکمران اس حملے کی آڑ میں پاکستان پر حملہ آور ہوں گے‘ اس کی پاکستان کے علاوہ بھارت کے سنجیدہ حلقوں کو بھی توقع نہیں تھی‘ ایک امریکی رپورٹ کے مطابق سال 2017ء کے دوران دنیا کے77 ممالک میں دہشت گرد کاروائیاں ہوئی تھیں ان میں دنیا کے ہر خطے کے ممالک شامل تھے تاہم کسی بھی ملک نے کسی دوسرے ملک کیخلاف باقاعدہ حملے یا جنگ کا آغاز نہیں کیا‘حالت تو یہ رہی کہ گزشتہ 18 برس کے دوران افغانستان میں عوام اور افغان فورسز کے علاوہ امریکی اور نیٹو فورسز پر درجنوں حملے کرائے گئے مگر امریکہ جیسی طاقت نے اسکے باوجود پاکستان پر ایک بھی گولی نہیں چلائی کہ پاکستان پر طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی سرپرستی یا پشت پناہی کے الزامات عام سی بات ہے‘ڈرون حملوں کے بارے میں سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ بھی درپردہ پاکستان کی اجازت اور مرضی سے ہوتے ہیں۔

روس اور چین جیسے اہم ممالک میں بھی دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے مگر انہوں نے بھی کسی دوسرے ملک کو حملہ آوروں کی سرپرستی کی آڑ میں جنگ کی دھمکی نہیں دی۔ یہ طے ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے تاہم اس فارمولے پر بھارت کتنا عمل کرتا ہے اسکا اندازہ پڑوسیوں کے ساتھ اسکے تعلقات سے لگایا جاسکتا ہے‘ پاکستان پر بحث تو عام سی بات ہے مگر کیا یہ ایک حقیقت نہیں ہے کہ بھارت پاکستان کے علاوہ سری لنکا‘ نیپال‘ بنگلہ دیش‘ چین اور افغانستان میں مسلسل مداخلت کے علاوہ متعدد بار باقاعدہ فوجی مہم جوئی بھی کرتا رہا ہے۔ آج کہا جارہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہا ہے تاہم ایسا کہتے وقت یہ بھی کہنا چاہئے کہ گاندھی جی کو آزادی کے فوراً بعد پاکستان یا کسی اور نے نہیں بلکہ انتہا پسند ہندوؤں نے ہی قتل کیاتھا‘ بعد میں دو وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کو بھی ایسے ہی حملوں کا نشانہ بنایا گیا جبکہ درجنوں دیگر بھی ایسے حملوں کا نشانہ بنے‘ بھارت کے بارے میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہاں پر 17 سے 21 تک علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں جو کہ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہیں‘ایسے میں محض پاکستان یا کشمیریوں کو واقعات کا مورد الزام ٹھہرانا کہاں کا انصاف ہے‘آج جو شخص بھارت کا وزیراعظم بنا بیٹھا ہے گجرات کے انسانیت سوز واقعات کا یہ ماضی میں سرخیل اور ذمہ دار رہا ہے‘ یہی وہ شخص ہے جس کے امریکی داخلے پر امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی پاداش میں لمبے عرصے تک پابندی لگا رکھی تھی‘اسکی سیاست منافرت اور پاکستان دشمنی پر کھڑی ہے اور حالیہ کشیدگی کو بھی دوسروں کے علاوہ بھارت کے سنجیدہ حلقے اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

تاہم اب کے بار جو اجتماعی رویہ اور رسپانس سامنے آیا ہے اس نے نہ صرف بی جے پی بلکہ پورے بھارتی معاشرے کو بے نقاب کردیا ہے اور یہ دعویٰ محض پروپیگنڈہ ثابت ہورہا ہے کہ بھارت ایک سیکولر‘ ڈیموکرٹیک یافراخدل ملک ہے ‘کاسمیٹک امیج کا فارمولہ عملی صورت میں سامنے آیا ہے جبکہ رہی سہی کسر بھارتی میڈیا نے پوری کی جس نے نیوز رومز کو وار رومز میں تبدیل کرکے صحافتی ضروریات‘ تقاضوں اور ذمہ داریوں کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ نیوز کاسٹرز اور اینکرز کے علاوہ تجزیہ کاروں نے کشیدگی کو باقاعدہ جنگ میں تبدیل کرنے کی جو مہم چلائی صحافتی اور سیاسی تاریخ کے علاوہ پروپیگنڈوں کی تاریخ میں بھی اسکی مثال نہیں ملتی‘اسکے برعکس پاکستان کے عوام سیاستدانوں‘حکمرانوں اور میڈیا کا اجتماعی رویہ اور کردار خلاف توقع اتنا ذمہ دارانہ‘ میچور اور جمہوری رہا کہ عالمی ذرائع ابلاغ کے معتبر اداروں نے بھی کھل کر ان رویوں‘ بعض فیصلوں اور اقدامات پر تبصرے اور تجزئیے کرکے بھارت کی مذمت اور پاکستان کی تعریف کی‘کشیدگی کے اثرات اور نتائج جو بھی ہوں یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بھارت جو دکھانے کی کوشش کررہا ہے ویساہے نہیں۔