269

جو ایک رسم چلی تھی مزاج پُرسی کی

اب کے موسم سرما نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے مسلسل بارشوں اور ٹھنڈی ہواؤں نے پشاور کو بھی سردی میں خوب شرابور کر دیا ہے‘ گھر سے باہر نکلنے کے لئے سو بار سوچنا پڑتا ہے‘ مگر جن علاقوں میں برفباری ہوتی ہے وہاں تو درجہ حرارت کہیں پاتال کی خبریں لا رہا ہے حالانکہ یورپ اور امریکہ میں اگر منفی پچاس ہوتو ان کو چنداں فرق نہیں پڑتا کہ گھر گرم ہوتے ہیں،باہر جانا ہو تو بھی گاڑی میں جو گیراج میں ہی جانے سے قبل گرم کر لی جاتی ہے بلکہ گاڑی گیراج سے نکال لیں تو گیراج بند کرنے کیلئے گاڑی سے باہر نہیں نکلنا پڑتا گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ریموٹ سے گیرج کا دروازہ بند کر لیا جاتا ہے‘ یہاں توگرم کمرہ سے باہر نکلو تو گھر میں سردی مزاج پوچھنے لگتی ہے اور مستقل غموں کی طرح پھر ساتھ ہی چل پڑتی ہے یعنی راجندر کرشن کی زبان میں

گھر سے چلے تھے ہم تو خو شی کی تلاش میں
غم راہ میں کھڑے تھے وہی ساتھ ہو لئے

اور جس خوشی کی تلاش میں مجھ کو گزشتہ اتوار کو گھر سے نکلنا وہ احباب کے ساتھ ملاقات سے حاصل ہونی تھی جو موسیقی کے عالمی دن کے حوالے سے اس تقریب میں اکٹھے تھے جو پشاور پریس کلب کی کلچرل کمیٹی کے دوستوں نے ترتیب دی تھی،میری کمٹمنٹ احتشام طورو اور امجد علی خادم کے ساتھ تھی مگر اس تقریب کا وقت عین نصف النہار کا رکھا گیا تھا، جس میں چھٹی کے دن کی معمولات نہ ادھر کی رہتی ہیں نہ اْدھر کی ‘سو یہی سوچا کہ آرام سے ظہر اور ظہرانے کے بعد جاؤں گا‘بارش کی آنکھ مچولی بھی جاری تھی گویا موسیقی کی نشست کے لئے ماحول خاصا ساز گار تھا‘مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ،میں گھر سے بوجوہ نہ نکل سکاجس کا قلق نہ مہمانوں کی گفتگو ختم کر سکی اور نہ ہی مالٹے اور کینو کھانے سے جن کے ساتھ میں نے پورا پورا انصاف کیا، ان پھلوں کا تقاضا ہے کہ دھوپ میں بیٹھ کر ان سے لطف لیا جائے، اور دھوپ نے کئی دنوں سے چہرہ نہیں دکھایا نہ تھا‘البتہ اس کیفیت نے ماضی کے دریچے کھول دئیے، ایک زمانے تک ریڈیو کے فنکار و صدا کار وں کو سکھایا جاتا تھا کہ ہر لفظ کو زیر زبر پیش کا خیال کرتے ہوئے وضاحت کے ساتھ ادا کریں‘ مجھے یاد ہے کہ حمید اصغر مرحوم نے ایک بار مجھے کہا تھا کہ آپ کا پروگرام کئی حوالوں سے مجھے بہت پسند ہے ، خصوصاًآپ کی الفاظ کی ادائیگی کمال ہے مگر آپ اپنا نام صحیح نہیں بتاتے میں نے کہا، نام تو میں پورا بتاتا ہوں مسکرا کر کہنے لگے کیا ؟میں نے بتا دیا تو کہنے لگے آپ کو سیّد بتانے کی بہت جلدی ہوتی ہے علی اور سید کو اپنا وقت دو‘میں نے زیر لب کہا تو پتا چلا کہ وہ سو فی صد درست کہہ رہے ہیں میں علی اور سید کو ملا کر ادا کرتا جس میں شعر کی طرح ’ی‘ گر جاتی۔

اس بات کو کئی دہائیاں گزر گئیں مگر اب بھی جب اپنا نام ریڈیو ٹی وی یا سٹیج پر بتانے کی ضرورت پڑتی ہے حمید اصغر مرحوم کا مہربان چہرہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے اور میں علی پر رک کر سیّد کا لفظ ادا کرتا ہوں‘ مجھے یاد ہے کہ جب اسّی کی دہائی میں ریڈیو سے ہر پروڈیوسر کو ایک ایک گھنٹہ دیا گیا تھا کہ اس میں اردو اور پاکستانی زبانوں میں لائیو شو کریں تو بہت سے پروڈیوسرز تو خود ہی شو کے اینکر بن گئے جن میں بہت کم کی پرفارمنس معیاری تھی،پھر شو بھی روایتی انداز کے تھے البتہ جو اچھے پروڈیوسر تھے وہ بھلے سے خود شو کرتے یا کسی بھی فنکار سے کرواتے ان کے شوز نئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہوتے اور سننے والوں میں مقبول بھی ہوتے ،میں بھی دوپہر دو سے تین بجے کا ایک شو کیا کرتا تھا میرے پروڈیوسر مرحوم ارشاد سواتی تھے، ایک دن وہ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے چھٹی پر تھے‘ میں شو کر رہا تھے جس میں اسی دن آسٹریلیا میں ہونے والے کرکٹ میچ کی اپ ڈیٹس دیتے ہوئے میں نے بلا کے مقبول انگریزی کے کمنٹریٹر افتخار احمد کے رواں تبصرے کی بات چھیڑی کہ انہوں نے بتایا کہ سرد ہواؤں کی وجہ سے سخت سردی ہے میں بوتھ میں اکیلا بیٹھا کمنٹری کر رہا ہوں یہاں سے مجھے میچ بھی نظر آ رہا ہے اور اپنا ساتھی کمنٹریٹر منیر حسین بھی نظر آ رہا ہے جو مجھے اکیلا چھوڑ کر دور دھوپ کے مزے لیتے ہوئے پھل کھا رہا ہے‘ میں نے مرحوم ارشاد سواتی کی طرف گفتگو کا رخ موڑتے ہوئے کہہ دیا کہ ’ یہی حال میرا ہے کہ میں اس سرد موسم میں سٹوڈیوز میں اکیلا بیٹھ کر پروگرام کر رہا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ اس وقت میرا پروڈیوسر گھر کی چھت پر دھوپ میں بیٹھ کر مالٹے کھا رہا ہو گا‘ جب پروگرام ختم ہوا اور میں نے سٹوڈیو کا دروازہ کھولا تو سامنے ہی دھیمی دھیمی مسکراہٹ اپنے معصوم چہرے پرسجائے ارشاد سواتی کھڑا تھا۔

میں نے کہا ، مجھے تو بتایا گیا تھا کہ آپ چھٹی پر ہیں‘ مصنوعی سی ناراضی سے کہنے لگے ،آپ کسی کو گھر پر چھوڑیں بھی تو،کیا مطلب؟ کہنے لگا گھر پر پروگرام سن رہا تھا تم نے میرا ذکر کیا تو مجھے لگا تم مجھے دیکھ رہے ہو میں واقعی چھت پر دھوپ میں بیٹھا مالٹے کھا رہا تھا بس تڑپ کر اٹھا اور ریڈیو آ گیا اور یہ مالٹے بھی لے آیا ہوں اب باہر لان میں بیٹھ کر کھائیں گے‘ سوچتا ہوں کیا زمانہ تھا کیسے لوگ تھے خوش رہنے کے کیا کیا بہانے تلاشتے اور تراشتے تھے‘سردیاں تو اب بھی ہیں ما لٹوں سے بازار بھی بھرے ہیں کچھ ایسے دل کے قریب ہم خیال و ہم ذوق دوست بھی ہیں جن کے ساتھ بیٹھ کر دھوپ میں ما لٹوں کے سنگ چند لمحے خوش گپیوں میں گزارنے سے بڑی لگژری شاید ہی کوئی ہو‘دو اتوار اْدھر ایک سرد ، مگر دھوپ سے بھری دوپہر کو میں جب دوست عزیز سٹی پولیس چیف قاضی جمیل الرحمن کے گھر دھوپ میں بیٹھا ان کے ساتھ رفتارِ ادب پر بات کر رہا تھا ، اور نہ جانے کتنے مالٹے ہماری گفتگو کو خوشگوار بناتے رہے، مگرسچی بات یہ ہے کہ موسم سرد ہوں یا گرم ا ب اس طرح کی مجلسی زندگی سے ہم دور بہت دور ہو گئے ہیں‘اب کہنا پڑتا ہے
جو ایک رسم چلی تھی مزاج پْرسی کی
کبھی بہت تھی مگر اب کے سال کم کم ہے