112

ملکی معیشت اور 20ارب روپے کا عندیہ

وفاق کی جانب سے پن بجلی منافع کی مد میں مرکز کے ذمے خیبر پختونخوا کے واجبات میں سے 20ارب روپے جاری کئے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے‘ وزیراعلیٰ محمود خان کا کہنا ہے کہ ہم نے وفاق سے صوبے کے واجبات ہر مہینے ادا کرنے کا کہا ہے‘ دریں اثناء وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ذمے قرضہ 6سے 30ہزار ارب تک پہنچ گیا ہے‘ وزیراعظم یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ریونیو کا ذمہ دار ادارہ ایف بی آر اگر ٹھیک نہ ہوا تو نیا ادارہ بنایاجائیگا‘وزیراعظم کی زیر صدارت گزشتہ روز ہونیوالے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ٹیکس اصلاحات پر غور بھی کیاگیا‘جہاں تک بات خیبرپختونخوا کوپن بجلی منافع کی مد میں ادائیگی اور واجبات کی کلیئرنس سے متعلق ہے تو اسے قابل اطمینان ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور بلاشبہ وزیراعلیٰ نے اس مقصد کیلئے کوشش کی ہے‘ اب اگر وفاق صوبے کے مطالبہ کومدنظر رکھتے ہوئے خیبرپختونخوا کے حالات کے تناظر میں یہ ماہانہ ادائیگی یقینی بنادیتا ہے تو صوبے کی اکانومی پر اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔

صوبائی حکومت کیلئے ضروری ہے کہ وہ واجبات ملنے پر ان کے استعمال سے متعلق حکمت عملی طے کرے اور نئے منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے‘ صوبے کی معیشت سے متعلق وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا بھی اگلے پانچ سال میں ٹیکس کلچر کو بدلنے اور اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہیں‘دریں اثناء صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی 20ارب روپے کے قریب کے 29ترقیاتی منصوبوں کی منظوری بھی دیتی ہے‘ وفاقی کابینہ ایف بی آر کو کارکردگی بہتر بنانے کا کہتی ہے تو صوبے میں ٹیکس اصلاحات کاعندیہ دیا جارہا ہے‘ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وطن عزیز کو معیشت کے حوالے سے بے شمار چیلنجوں کا سامنا ہے‘ پرانے قرضوں کی اقساط چکانے کیلئے نئے قرضوں کی سیریز چل رہی ہے‘ ہر حکومت کے دور میں اس کے ذمہ داری اپنے سے پہلے کے حکمرانوں پر ڈالنے اور خود اپنے ٹینور میں یہ حجم بڑھانا ایک روایت بن چکا ہے‘ اس کے ساتھ ذمہ دار دفاتر کی بدانتظامی بہت سارے امور کو بری طرح متاثر کررہی ہے‘ کیا ہی بہتر ہو کہ مرکز اور صوبے مل کر ٹیکس نظام کا بھرپور جائزہ لیں‘ٹیکس نیٹ میں توسیع کیساتھ بعض سیکٹرز پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کی جائے‘ٹیکس وصولی کے سسٹم کو جدید سہولیات سے آراستہ کیاجائے اور دفاتر کی بدانتظامی پر قابو پایاجائے۔

گھی‘ خوردنی تیل کا معیار؟

ذمہ دار سرکاری اداروں کی جانب سے صوبائی دارالحکومت سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں کھانے پینے کی اشیاء چیک ہونے سے متعلق خبریں ملتی رہتی ہیں‘ سرکاری اداروں کی کاروائی اپنے محدود وسائل اورمین پاور کیساتھ صرف بعض معروف بازاروں تک محدود رہتی ہے‘قیمتوں‘ معیار اور اوزان وپیمائش کی روزانہ اور مستقل بنیادوں پر جانچ پڑتال کا کوئی موثر نظام موجود ہی نہیں‘اس وقت گلی محلوں اور سڑکوں کے کنارے کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کی بھرمار ہے‘ یہاں نہ کوئی نرخ نامہ ہے نہ ہی اشیاء کا معیار چیک کرنے کاکوئی انتظام‘ یہاں گھی اور خوردنی تیل کی کوالٹی کی جانچ پرکھ انتہائی ضروری ہے‘ مضر صحت اور بار بار گرم کرکے استعمال ہونیوالا گھی اور تیل صحت کے لئے کس قدر مضر ہے‘ اس کا اندازہ محکمہ صحت وخوراک کے ذمہ داروں کو بخوبی ہوسکتا ہے‘اس کے لئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔