195

عالم میں انتخاب ہے یک شہر آرزو

پشاور میں قیام کے دوران میری کوشش ہوتی ہے کہ میں پرانے شہر کے مختلف علاقوں کی سیرکروں‘ مجھے پشاور چھوڑے56 سال ہوگئے ہیں لیکن اس شہر ہفت رنگ اور شہر گل فروشان کی کشش مجھے ہر سال یہاں لے آتی ہے اور شہر کی سیر کے دوران مجھے اس شہر کی قدامت‘ رسم و رواج اور شہر کے بدلتے ہوئے نقوش دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انہی بدلے ہوئے نقوش میں وہ حصار بھی ہے جس نے 60 سال پہلے تک کے شہر کو اپنے اندر سمیٹ رکھا تھا۔ فصیل گئی‘ وہ اصلی دروازے گئے لیکن پرانے شہریوں کو اب بھی معلوم ہے کہ یہ فصیل کہاں تھی۔ اسی طرح میں گنج گیٹ اوریکہ توت کے علاقے میں سیر کر رہا تھا کہ ایک نوجوان کو دکانوں کے اوپر تواڑوں (canopies) پر باجرہ ڈالتے دیکھا۔ پوچھا تو اس نے کہاکہ میں پرندوں کیلئے دانہ ڈال رہا ہوں۔ بہت حیرت ہوئی اور خوشی بھی کہ ہمارے شہر میں کئی جگہوں پر ہریالی ہوا کرتی تھی لیکن اب اینٹوں‘ سریے اور سیمنٹ کے ’’درخت‘‘ کھڑے ہوگئے ہیں آخر اس شہر میں ان پرندوں کا بھی حق ہے جو قرنوں سے یہاں رہتے آئے ہیں۔

کوشش کی کہ شہر کی دیوار کے اندرساتھ ساتھ چلتا جاؤں۔ خیال تھا کہ یہ راستہ مجھے آسیہ تک پہنچا دے گا لیکن محلہ جٹاں سے آگے نکلا تو ایک مکان راستہ روکے کھڑا تھا‘ ایک وقت ‘میں سن پچاس‘ ساٹھ کی دہائیوں کی بات کرر ہا ہوں، اسی راستے پر ہم ایک علاقے سے دوسرے علاقہ تک جاسکتے تھے‘ اب اس مکان کیساتھ ہی دیوار میں دکانیں اور مکانات بلکہ ایک جگہ امام بارگاہ خانصاحب حاجی ملک رحمن بھی بن گئی ہے۔ جگہ جگہ دیوار کو نقب لگا کر راستے بنا دئیے گئے ہیں‘ آخر اس مکان کے مالکوں نے راتوں رات تو عمارت کھڑی نہیں کردی اس میں ضرور لوکل گورنمنٹ کے مائی باپوں کا ہاتھ ہوگا۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ اس قسم کی رکاوٹیں غیر قانونی ہیں یا قانون کی چھوٹی سی ٹاکی سے ستر پوشی کی گئی ہے۔ یہاں مجھے گورنر افتخار حسین شاہ یادآتے ہیں جنہوں نے اپنی گورنری کے دور میں پشاور کے پرانے نقشوں کی مددسے کئی علاقوں میں سے تجاوزات ختم کر دی تھیں‘اب بھی شہر کی گلیوں میں گشت کرتے ہوئے کہیں کہیں شاہ صاحب کی کارکردگی کے آثار دیکھتا ہوں تو خوشی ہوتی ہے۔

ایک دن میں کریم پورہ اور چکا گلی کی بھول بھلیوں میں گھوم رہا تھا کہ راستہ بھول گیا اور ہشتنگری کی طرف جا نکلا۔ بازو کی ایک گلی نامانوس لگی تو ایک یخنی فروش سے پوچھا کہ آیا وہ گلی گھنٹہ گھر کی طرف جاتی ہے۔ کہنے لگا اگر آپ گھنٹہ گھر جانا چاہتے ہیں تو آگے بائیں ہاتھ کو مڑنے والی گلی لے لیں۔ پھر وہ میرے چہرے پر سوالیہ نشان دیکھ کر بولا۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ اس شہر کی گلیوں میں اجنبی اکثر راستہ بھول جاتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں کسی کو ساتھ کر دیتاہوں تاکہ وہ آپ کو صحیح راستے پر ڈال دے۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل پڑا لیکن ہنسی بھی آئی کہ میں کیسے بتاتا کہ بھائی میرے‘ میں اس شہر میں اجنبی نہیں ہوں۔ اس شہر کی مٹی میری نس نس میں سموئی ہوئی ہے کیا کروں میرے شہر کے خدوخال بدل گئے ہیں۔ میں اس بدلے ہوئے شہر میں مانوس مقامات کو ڈھونڈتاہوں تو واقعی اجنبیت کا احساس ہوتا ہے یہاں پشاور شہر پر میری متعدد کتابیں اور فصیل والے شہر کا بنایا ہوا نقشہ بھی‘ میرا ساتھ چھوڑ دیتا ہے‘ میرا عزیز دوست اور مشہور صحافی اور لکھاری خالد حسن مرحوم مجھے کہا کرتا تھا کہ شاہ جی جس شہر کی تم بات کرتے ہو وہ اب صرف تمہارے ذہن میں آباد ہے۔ میں شاید غالب کے اس شعر کی تعبیر بن گیاہوں۔

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے

بہرحال‘ پشاور پشاور ہے‘ رہاہے اور رہے گا۔ ظاہری تبدیلیوں کے باوجود اس شہر کے بازاروں اور گلی کوچوں میں ا ب بھی گزرے ہوئے وقتوں کی باز گشت سنائی دیتی ہے۔ لیکن اس کے لئے کسی حد تک تصور کی باگیں ڈھیلی کرنی پڑتی ہیں۔ احمدفراز کامشہور شعر ہے جو انہوں نے روم میں کہاتھا
روم کا حسن بہت دامن دل کھینچتا ہے
اے میری خاک پشاور تیری یاد آئی بہت