102

پن بجلی منافع

خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق کے ذمے پن بجلی منافع کے بقایا جات کی وصولی کیلئے حکمت عملی مزید موثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے‘اس مقصد کیلئے اپنی ٹیم کو متحرک کرنے کیساتھ وزیراعلیٰ محمود خان خود بھی وفاقی حکومت سے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے‘مہیا اعداد وشمار کے مطابق خیبر پختونخوا کے پن بجلی منافع بقایا جات کی مد میں وفاق کے ذمے65 ارب روپے واجب الادا تھے مسلسل رابطوں کے نتیجے میں صوبے کو 20 ارب ر وپے ادا کردئیے گئے جبکہ 45 ارب روپے اب بھی بقایا جات کی مد میں واجب الادا ہیں‘ایک ایسے وقت میں جب امن وامان کی صورتحال کے نتیجے میں صوبے کی انتہائی متاثر معیشت کی بحالی کا کام ہو رہا ہے پن بجلی بقایا جات کی مد میں رقم کیلئے رابطے ضروری ہیں‘رقم کی بروقت ادائیگی اس لئے بھی ناگزیر ہے کہ صوبائی حکومت کو صوبے کا حصہ بننے والے قبائلی اضلاع میں تعمیر وترقی کے بہت سارے امور یکسو کرنے ہیں‘صوبے کا اپنا انفراسٹرکچر بہتر بنانا ہے جبکہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی منصوبہ بندی بھی کرنی ہے‘خیبر پختونخوا کا جغرافیائی محل وقوع اور بندرگاہ سے دوری پہلے ہی صنعتی وتجارتی سرگرمیوں پر اپنا اثر ڈالے ہوئے تھی‘افغانستان میں روسی فوج کے داخل ہونے کیساتھ اس صوبے کو لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرنا پڑی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کو فرنٹ لائن صوبے کا نام دیاگیا‘ امن وامان کی صورتحال نے صوبے کی اکانومی کو اس طرح متاثر کیا کہ پوری پوری صنعتی بستیوں کو تالے لگ گئے اب جبکہ اصلاح احوال کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تو صوبے کو پن بجلی بقایا جات کے ساتھ تعمیر وترقی کیلئے خصوصی پیکیج بھی ملنا چاہئے‘یہاں کی صنعت کو مراعات ملنی چاہئیں‘ ساتھ ہی صوبے میں پیدا ہونے والی گیس کے صوبے میں صنعتی استعمال سے متعلق معاملات طے کئے جانا بھی ناگزیر ہے‘ ضروری یہ بھی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں شیئر سے متعلق فیصلہ بھی کیا جائے‘ اس سارے منظر نامے میں صوبے کے دارالحکومت میں بڑھتی آبادی‘ نقل مکانی کے رجحان اور افغان مہاجرین کے باعث انفراسٹرکچر پر بڑھتے بوجھ کا احساس بھی ناگزیر ہے‘ یہاں شہریوں کو بنیادی سہولیات کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا ہے‘ خدمات کے اداروں کے وسائل اور افرادی قوت ضرورت کے مقابلے میں کم نظر آرہی ہے اس مقصد کے لئے بھی وفاق اور صوبے کی سطح پر اقدامات ناگزیر ہیں۔

گرانی میں 1.16 فیصد اضافہ؟


شماریات کا ادارہ اپنی رپورٹ میں بتا رہا ہے کہ رواں ماہ مہنگائی میں 1.16 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ حساس اعشاریوں میں1.12 فیصد کی شرح سے اضافہ ریکارڈ ہوا ہے‘ادارہ یہ بھی بتارہا ہے ضرورت کی24 اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہیں‘ادارہ شماریات کی رپورٹ اپنی جگہ اوپن مارکیٹ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے جہاں گرانی کیساتھ ملاوٹ اور ناقص معیار کی اشیاء ضروریہ کی فروخت عام ہے‘عالمی منڈی کی کساد بازاری اپنی جگہ ملک کی معیشت کے تناظر میں مہنگائی اپنی جگہ عالمی اداروں کی ڈکٹیشن پر ہونیوالے فیصلے بھی اپنی جگہ عوام کی ریلیف کیلئے مارکیٹ کنٹرول کی خاطر اقدامات تو انتظامی نوعیت کے ہیں جن پر توجہ ضروری ہے‘ اس مقصد کیلئے نہ صرف اداروں کو ہدایات جاری کرنا ناگزیر ہے بلکہ ان کی کارکردگی پر مسلسل چیک بھی کرنا ہوگا جس کیلئے مانیٹرنگ سسٹم ضروری ہے۔