203

ان کا دل پاکستان میں رہ گیا ہے

پاکستان کی دکان سے گروسری خریدنے آئی تھی ارد گرد تمام گاڑیوں سے اونچی آواز میں جنگی نغموں کی آوازیں گونج رہی تھیں میرے محب وطن پاکستانی دل نے بھی خوشی کا طبل بجادیا ہمارے پیارے وطن کے بہادربیٹے نے دشمن کے دو جہازوں کو صرف20سیکنڈ میں مار گرادیا تھا اس سے پہلے کینیڈا میں پاکستان کے لوگ اس بات سے آزردہ تھے کہ بزدل دشمن رات کے اندھیرے میں وار کرنے آیا اور ہماری فضائیہ نے اسکو مارا نہیں‘دراصل کسی بھی ڈیفنس ادارے کی جنگی حکمت عملیاں اتنی پروفیشنل اور ٹیکنیکل ہوتی ہیں کہ عوام کے جذبات سے زیادہ اپنی سٹرٹیجی دیکھی جاتی ہے‘ حسن صدیقی کی بہادری کے چرچے زبان زدعام تھے پاکستانی بار بار اپنے اس فخر کو بیان کررہے تھے بات خوشی‘ فخر اور وطن کے شان بان کی تھی‘ کینیڈا میں تو گویا عید کا دن ہوگیا تھا کیسا حسین اتفاق ہے کہ حسن صدیقی نے آئی ایس پی آر کے ایک میوزیکل ترانے میں بھی ایسا ہی کردار ادا کیا تھا کہ دشمن کے دوجہاز ہوا میں ہی مار گرائے تھے اور 27 فروری کو سچ مچ یہ بات صحیح ثابت ہوگئی تھی‘ پاکستانیوں نے تمام باتوں اور گلے شکوؤں کو یکسر بھول کر فضائیہ پر پھولوں کی بارش کردی تھی‘ ہر گاڑی اور ہر گھر سے جنگی ترانوں کی آوازیں گونج رہی تھیں جیسے ہر گھر کا مکین محاذ جنگ پر تھا‘ اے میرے پیارے ملک میں تجھ پر قربان ہونے کیلئے بالکل تیار ہوں‘ ننھے منے بچے لہرا لہرا کر گا رہے تھے ’ہوا کا سپاہی ہوں‘ زندہ باد پاکستان ‘ میں نے ان ننھے سپاہیوں سے پوچھا بھئی یہ ڈانس کس خوشی میں ہورہا ہے خوشی سے اور جوش سے مجھے بتانے لگے کہ دادی ہم نے دو جہازوں کو گرا دیا ہے گویا دادی تمام واقعات سے بے خبر تھی۔

کاش یہ سب ہمیشہ پاکستان سے محبت کرتے رہیں اور پاکستان کی حفاظت کیلئے جانیں قربان کردینے کے جذبات سے سرشار رہیں‘ یہاں رہنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے دل اسی طرح وطن کیلئے دھڑکتے ہیں جیسے وہ ابھی بھی پاکستان میں بیٹھے ہوں‘صرف انکا جسم اٹھ کر دیار غیر آگیا ہے ان کا دل اور انکی روح ادھر ہی لاہور‘پشاور اور کراچی کے کمروں اور گھروں میں قید ہے‘ اسی لئے پاکستان کی خوشیوں سے انکے پاؤں تھرکنے لگتے ہیں اور پاکستان کی اداسی سے ان پر افسردگی طاری ہوجاتی ہے‘ میری ڈاکٹر سکھ کینڈین ہے جیسے ہی اس نے مجھے دیکھا بولی پلیز ذرا مجھے تفصیل سے سمجھا دو یہ ہندوستان پاکستان میں اچانک ایسا کیا مسئلہ ہوگیا ہے‘ یہاں سکھوں ہندوؤں کی تعداد ہماری آبادی سے بھی زیادہ ہے اور کینیڈین سسٹم کے ہر ہر مرحلے میں ہم سب کی ملاقات یقینی ہوتی ہے کتنے ہی دفاتر میں ہندوؤں اور پاکستانیوں میں تناؤ دیکھنے کو ملتا رہا ہے‘ میں نے اپنی ڈاکٹر کو تفصیل کیساتھ پلواما میں ہونیوالے خودکش حملے‘ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی صورتحال‘ نریندر مودی کے الیکشن جیتنے کی خواہش اور پاکستان سے لڑائی کی کوشش‘ جہازوں کے بھاگنے اور ابھی نندن کی گرفتاری کے بارے میں بتایا‘ دراصل یہاں کی زندگی اتنی مصروف ہے کہ اہم پیشوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بہت تفصیل سے خبروں سے لاعلم رہتے ہیں‘ڈاکٹر صاحبہ بھی ایسی ہی تھیں انہوں نے نریندر مودی کو برا بھلا کہا کہ سیکولر ہندوستان کا چہرہ اس شخص نے مسخ کردیا ہے میں اسلئے خوش ہوئی کہ میں نے اپنے ملک کے موقف کی حقیقی نمائندگی کردی تھی‘کینیڈامیں پاکستانیوں کے پاس ایسی کیبل دستیاب ہے جہاں بی بی سی الجزیرہ کیساتھ ساتھ کئی پاکستانی چینلز بھی دیکھے جاسکتے ہیں ۔

ان دنوں جب بھی آپس میں پاکستان کے لوگ ملتے ہیں ان میڈیا چینلز کی خبروں کے حوالے سے شدومد سے ذکر ہوتا ہے کہیں پرائم منسٹر کی تقریر پر بحث ہورہی ہوتی ہے اور کہیں پرائم منسٹر کے بھارت کے پائلٹ کو جلد رہا کرنے کے بارے میں بے دریغ تبصرے جاری ہوتے ہیں‘ مجھے بھی ایک غصے سے بھری ہوئی آواز ٹیلی فون پر سننے کو ملی کہ آخر پاکستان نے ایسا کیوں کیا‘ اتنا جلدی تو ہمسائے کو برتن بھی واپس نہیں کئے جاتے ‘یہی تو وقت تھا کہ بھارت کو مزہ چکھایا جاتا‘میں نے جواب میں معاف کردینے‘ امن وامان قائم رکھنے‘ جنگ کی صورت میں پاکستان کی معیشت تباہ ہونے اور بیگناہ لوگوں کے مرجانے کے بارے میں تفصیل دینا چاہی لیکن پاکستان کے چاہنے والے یہ سب ترجیحات سننے کے روادار نہیں ہوئے‘ ایک غم کے یہ وہی ابھی نندن تھا جو اپنی انڈیا کی ایک ڈاکومنٹری میں بھی ایسا ہی پائلٹ ثابت ہوا تھا جو دشمن ملک یعنی پاکستان پر حملہ کرنے آتا ہے اور پکڑا جاتا ہے اور پاکستان اسکو جنگی قیدی بنالیتا ہے‘ میں حیران تو اس بات سے ہوئی کہ دو ملکوں کی فضائیہ نے امن کی حالت میں ویڈیوز بنائیں اور دونوں کے کردار بھی وہی تھے حسن صدیقی اور ابھی نندن اور جنگ کی صورت میں یہی دونوں کردار ان ویڈیوز کے مطابق ہی اپناکردار ادا کرگئے‘ کچھ باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہوتی ہیں مجھے اپنے بچپن کے دنوں کا جوش وخروش یاد آگیا جب1965ء کی جنگ میں اپنی گلی کے باہر چھوٹی چھوٹی دکانوں پر رکھے ٹرانسسٹروں سے آنیوالی ایوب خان کی تقریرکے ساتھ لوگوں کے دل بھی دھڑکتے تھے‘ کیسا جذبہ تھا کیسی بہادری تھی‘ دشمن اپنے جہاز پشاور تک لے آیا تھا نواں کلی گاؤں ان دنوں بہت مشہور ہوگیا تھا جہاں کے بہادر شہریوں نے چھتوں پر چڑھ کر ہندوستان کے ان جہازوں پر فائرنگ کی تھی‘ بلیک آؤٹ کی وہ راتیں کبھی نہیں بھولتیں جب لوگ جذبوں کیساتھ ساتھ خوفزدہ بھی رہتے تھے۔

ہر روز ہی صدر پاکستان صرف پانچ منٹ کی تقریر کرکے عوام کو جنگ کی صورتحال سے باخبر رکھتے اور سترہ دن میں پاکستان نے دشمن ملک کے ہوش وحواس ختم کردیئے لیکن جنگیں ہر دو ملکوں کیلئے تباہی ہی لے کر آتی ہیں‘ان دنوں آج کی تاریخ کے مطابق آگ اگلنے والا میڈیا موجود نہیں تھا ریڈیو پاکستان نے اپنی نظریاتی سرحدوں کیساتھ ایسی جنگ لڑی جوکسی بھی ذی شعور ملک وقوم سے صدیوں تک بھلائی نہیں جاسکے گی‘ آج ہندوستان کے انتہائی نان پروفیشنل غیر ذمہ دارانہ کوریج کو دیکھ کر اور سن کر حیرت ہوتی ہے‘ وہی میڈیا جو نریندر مودی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اسکی سوچ اورذہنیت کو لفظوں کی زبان دے رہا تھا اپنے پائلٹ کی واہگہ کے راستے واپسی اور اسکے پاکستانی فوج کے قبضے کے دوران بنائی گئی ویڈیو کے بارے میں اپنے عوام کی منتیں کررہا تھا کہ اس ویڈیو کو شیئر نہ کریں‘ ڈیلیٹ کردیں تاکہ ہندوستان کی 30لاکھ فوج کا مورال زوال پذیر نہ ہو یعنی ہم نے ہماری فوج نے ہماری حکومت نے نہ صرف سفارتی سطح پر کامیابی حاصل کی اور محاذ جنگ پر اپنا علم بلند کیا بلکہ ابلاغیاتی جنگ بھی فخر کے ساتھ جیت لی تھی اور انکے مہنگے ترین ہتھیار اور فوج کے اعلیٰ ترین رینک رکھنے والے اتنے کمزور اور بھربھرے ہیں کہ ابھی نندن کی ویڈیودیکھ کرہمت ہارجائیں گے ظاہر ہے ہندوستان کی قوم کیلئے یہ شرم کی باتیں ہیں جو ہر وقت اپنے ہمسایہ ممالک کو غرا غرا کر ڈراتا رہتا ہے۔