141

درآمدی موبائل فونز مزید مہنگے

اسلام آباد: حکومت نے درآمدی موبائل فون مزید مہنگے کر دیے،حکومت نے موبائل فونز پر 1800 سے ساڑھے 18 ہزار تک کی ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا دی۔

حکومت نے عوام کو ایک اور جھٹکا دے دیا، اسمارٹ فون کے بعد اب سستے موبائل بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہونے لگے۔ حکومت کی جانب سے آمدن میں اضافہ کے لیے موبائل فونز کی ریگولیٹری ڈیوٹی کے ڈھانچے میں پھر تبدیلی کر دی۔

اکتالیس سو روپے سے زائد والے موبائل پر اٹھارہ سو روپے، چودہ ہزارسے اٹھائیس ہزار  تک کے موبائل پر ستائیس سو روپے اور اڑتالیس ہزار تک کے موبائل فون پرچھتیس سو روپے اضافی دینا ہوں گے۔ پہلے آٹھ ہزار کے فون پر صرف دو سو پچاس روپے اور اٹھارہہزار تک کے موبائل پر پانچ سو روپے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد تھی۔ 
نئے ٹیکسز کے بعد چودہ ہزار سے اٹھائیس ہزار کے موبائل ستائیس سو روپے مہنگے ہو گئے،،اڑتالیس ہزار تک کے فون پر چھتیس سو روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔ ساڑھے انہتر ہزار تک کےموبائل کی قیمت دس ہزار پانچ سو بڑھ گئی جبکہ اس سے زائد کے فون پر اب اٹھارہ ہزار پانچ سوروپے زیادہ دینا ہوں گے۔

حکومت کی جانب سے موبائل فونز پر عائد کردہ نئے ٹیکس کے بعد 14 ہزار روپے سے 28 ہزار روپے کے موبائل اب مزید 27 سو روپے مہنگے ہو گئے ہیں۔

اسی طرح 48 ہزار روپے تک کے موبائل فونز پر 36 سو روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔ ساڑھے 69 ہزار روپے تک کے موبائل فونز کی قیمت 10 ہزار 5 سو روپے بڑھ گئی ہے جب کہ 70 ہزار روپے اور اس سے زائد کے موبائل فونز پر اب 18 ہزار 5 سو روپے زیادہ ادا کرنا ہوں گے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 18-2017 میں درآمدی موبائل کی شرح 847 ملین ڈالر سے زائد رہی، صارفین کہتے ہیں حکمران مہنگے فونز پر ٹیکس بڑھائے مگر غریبوں پر اضافی بوجھ تو نہ ڈالے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال حکومت کی جانب سے بیرون ملک سے ذاتی موبائل فون کے علاوہ موبائل فونز لانے پر ٹیکس ادا کرنے کا حکم جاری کیا چکا ہے۔

ٹیکس کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ سالانہ دو ارب ڈالر کے موبائل درآمد کیے جا رہے ہیں اس پر ٹیکس وصول نہیں کریں گے تو ملک کا نظام کیسے چلے گا۔