97

معیشت کا استحکام؟

پاکستان اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایشیاء گروپ کے درمیان مذاکرات کا شیڈول طے پاگیا ہے‘ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیموں سے متعلق ٹاسک فورس کے اعتراضات دور کردیئے گئے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ ستمبر میں پاکستان کو کلیئر کردیا جائیگا‘قرضوں کے بوجھ تلے دبی اکانومی سے متعلق حکومت کے احساس وادراک کو قابل اطمینان ضرور قرار دیا جاسکتا ہے تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے‘ بینک دولت پاکستان کا کہنا ہے کہ صرف ملکی قرضوں کا والیوم 27ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکاہے‘ بینک کا کہنا ہے کہ صرف جنوری کے مہینے میں 439ارب روپے مزید قرضہ بڑھا ہے‘ دوسری جانب دی اکانومسٹ کی رپورٹ افراط زر کی شرح بلندی پر جبکہ مہنگائی پانچ سال کے ریکارڈ توڑتی دکھاتی ہے‘ کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں پر روپے کی قدر میں کمی ایک بڑا بوجھ لیکر آئی ہے‘ اقتصادی اعشاریوں کی پریشان کن صورتحال کیساتھ بدانتظامی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ خود وزیرخزانہ اسدعمر کھلے دل کیساتھ اعتراف کررہے ہیں کہ طرز حکمرانی کے فقدان کے باعث اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے‘ پورا معاشی منظرنامہ اس بات کا متقاضی ہے کہ پرانے قرضے چکانے کیلئے مزید قرضے لینے کی جاری روایت ختم کرنے کیساتھ مسئلے کے پائیدار حل کی جانب بڑھا جائے۔

فوری اور طویل المدتی پلاننگ میں اقتصادی اعشاریوں میں بہتری کیساتھ عوامی ریلیف بھی یقینی بناناہوگی‘ اعداد وشمار پر مشتمل طرح طرح کی رپورٹس کو خوش آئند قرار دینے کیساتھ مارکیٹ کی تلخ صورتحال کو بھی ہر مرحلے پر مدنظر رکھنا ہوگا‘ اس بات کو پلے باندھنا ضروری ہے کہ معیشت کو بیرونی قرضوں کے چنگل سے نکالنے کیلئے درآمدات پر انحصار کم کرنا ہوگا‘ یہ اسی صورت ممکن ہے کہ صنعتی پیداوار بڑھائی جائے اور اس میں پیداواری اخراجات کم کئے جائیں‘ ریونیو اکھٹا کرنے کی باتیں قابل اطمینان سہی‘ وزیراعظم تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ضرورت پڑی تو ایف بی آر کی جگہ دوسرا ادارہ بنادیا جائیگا‘ تاہم دوسری طرف سمگلنگ نہ صرف صنعت کو متاثر کررہی ہے بلکہ مجموعی ملکی معیشت کو بھی بھاری نقصان کا ذریعہ بنتی جارہی ہے‘ اس مقصد کیلئے وفاق کو صوبوں کے اداروں کیساتھ مل کر حکمت عملی طے کرنا ہوگی۔

بارش پھر بھی ہوگی

ہر بارش کیساتھ درپیش صورتحال کے تناظر میں امید کی جاتی ہے کہ آئندہ بارش سے پہلے اصلاح احوال کی کوئی کوشش کرلی جائیگی‘ حالیہ بارشوں میں ناکافی اور بلاک سیوریج کے باعث جو صورتحال دیکھنے کو ملی‘ اگلی بارش سے قبل اسکے تدارک کیلئے اقدامات کااحساس ناگزیر ہے‘ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پلاسٹک شاپنگ بیگز نے سیوریج سسٹم بلاک کررکھا ہے‘ ان پر پابندی کیلئے وزیراعلیٰ کا احساس نظر آرہا ہے تاہم سیوریج لائنوں میں موجود ان بیگز کو نکال کر پانی کا بہاؤ یقینی بنانا ضروری ہے‘ آبی گزرگاہوں پر سے تجاوزات دور کرنے کیلئے کریک ڈاؤن ناگزیر ہے‘ تعمیراتی ملبے کیلئے بنے قاعدے قانون کی پابندی کو عملی صورت دینا بھی ضروری ہے‘ عمارات سے متعلق بلڈنگ کوڈ پر عمل یقینی بنانے کیلئے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کرنا بھی ناگزیر ہے‘ ٹریفک کے بہاؤ کو درست رکھنے کیلئے فول پروف پلان میں بھی بارشوں کے دوران پانی آنے پر متبادل روٹس کا تعین کیاجانا بھی ضروری ہے‘ اس سب کیلئے وزیراعلیٰ کو ایکشن پلان طلب کرنا ہوگا۔