281

چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے

موسم ایک بار پھر بھیگ گیا ہے،لیکن یہ بارشیں بہار کی نوید ساتھ لے کر آئی ہیں اس لئے ملول دلوں میں بھی کچھ کچھ گدگدی سی ہو نے لگی ہے ۔سوئی ہوئی خواہشیں اور تمنائیں پھر سے انگڑائی لینے لگی ہیں اْن چہروں پر بھی بہار کی بھیگی ہوا نے امید کی نئی کونپلیں کھلا دی ہیں جن کے بارے میں کبھی شکیب جلالی نے بڑی دلسوزی سے کہا تھا۔

رہتے ہیں کچھ ملول سے چہرے پڑوس میں
اتنا نہ تیز کیجئے ڈھولک کی تھاپ کو

اور اب پرندے بھی اپنے پروں میں خود کو سمیٹ کر کسی درخت کی گھنی شاخوں میں سہمے ہوئے بیٹھنے کی بجائے ، بھیگے ہوئے اس موسم کا مزہ لے رہے ہیں اور چہچہاتے ہوئے شاخ شاخ اڑتے پھر رہے ہیں۔پرندوں کا مزاج فروری کے مہینے میں ذرا سنجیدہ اور دھیرج والا ہوتا ہے،مگر مارچ کے موسم میں ان کا مزاج بہت شوخ اور کھلنڈر ا سا ہو جاتا ہے، ان کی چہچہاہٹ میں ایک سر خوشی اور سر شاری پیدا ہو جاتی ہے۔ کیونکہ فروری میں انہیں اپنے اپنے ساتھی کا صرف پیار ہی نہیں اعتماد بھی حاصل ہو چکا ہوتا ہے یوں سمجھ لیجئے کہ مارچ کا موسم پرندوں کے لئے ہنی مون کا زمانہ ہے ۔ اور یہی وہ بھیگا بھیگا ساموسم ہے جب کانوں میں میر ؔ کا شعر سرگوشی کرنے لگتا ہے۔۔۔۔ چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے ۔۔۔ پات ہرے ہیں پھول کھلے ہیں کم کم باد و باراں ہے اور اس خوشگوار موسم میں اطراف کی کچھ اچھی خبریں یہ بھی ہیں ان دنوں کم و بیش ہر محاذ پر موسم معتدل اور خوشگوار ہو چلا ہے، اور ابھی بارشوں کے بعد جب موسم کھل جائے گا تو بہت کچھ صاف واضح اور دور تک نظر آنے لگے گا۔

ہر چند ، ایسا تو نہیں کہ سرحدوں پر کشیدگی ختم ہو گئی ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ کچھ دن پہلے والی شدت میں بہت کمی آ گئی ہے، چہروں پر تناؤ بھی اب کم ہو رہا ہے، لہجے میں کرختگی تو اب بھی ہے مگر وحشت کے آثارکچھ کم ہونا شروع ہو گئے ہیں، یہ بدلاؤ اندر کی آواز کے سبب ہوا ہے یا پھر کہیں باہر سے دباؤ کے کارن پیدا ہوا ہے مگر ا س کی بہت سی جانی انجانی وجوہات ہیں، جن میں سے کچھ تو صاف نظر آتی ہیں اور کچھ غیر محسوس طریقہ سے کار فرما ہیں ، جو مزید کچھ گرد بیٹھنے کے بعد دِ کھنے لگیں گی۔ بھلا ہو سوشل میڈیا کا جو آن کی آن بہت سی الجھنوں کو میز پر ر کھ دیتا ہے جو اگر فوری طور پر نہ بھی سلجھیں تو ان پر بات ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ تب ہی جاننے والے بتا دیتے ہیں کہ حماقت سے شروع ہونے والی جنگ ہلاکت پر ختم ہوتی ہے پھر شعر کی حساس دنیا سے بھی کچھ ایسی ہی آوازیں اٹھنے لگتی ہیں جو اسی سوشل میڈیا کی وساطت سے وسعت پکڑ کر یہاں وہاں کی سماعتوں میں شعور کا ادراک پھونک دیتی ہیں، تازہ آوازوہاں سے اٹھی ہے جہاں سے سرحدوں کی کشیدگی کو بوجوہ ہوا دی گئی تھی،یہ آواز راحت اندوری کی ہے۔

سرحدوں پر بہت تناؤ ہے کیا
کچھ پتا تو کرو چناؤ ہے کیا

اور اب سب جان گئے ہیں کہ چناؤ کے موسم میں کھیلی گئی گئی یہ چال،چلنے والوں کو بہت مہنگی پڑرہی ہے۔ نہ جانے وہ کیوں بھول گئے تھے کہ اب یہ دور سوشل میڈیا کے اقتدار کا دور ہے جس کی وجہ سے درونِ خانہ جنم لینے والی سا زشیں بے نقاب ہونے میں ذرا دیر نہیں لیتیں،بلکہ وہ بہت سی باتیں جو نیوز چینلز پر بتائی اور سجائی جاتی ہیں اور جوغیر محسوس طریقے سے اپنے دیکھنے سننے والوں کو ایک خاص سمت میں لے کر جاتی رہیں ہیں ان پر یقین لانے کیلئے کل تک آنکھیں بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی مگر پھر پتا چلا کہ یہ بھی ذاتی مفاد کا ایک بھیانک کھیل تھا جوز یادہ دیر تک دیکھنے اور سننے والوں کو اپنا طرفدار نہ رکھ سکا‘در اصل یہ جولائیوٹاک شوزہوتے ہیں ان کے درمیان ایک وقفہ لیا جاتا ہے جسے عرف عام میں کمرشل بریک کہتے ہیں ، یار لوگوں کی سادہ لوحی دیکھیں کہ وہ دیر تک یہی سمجھتے رہے کہ یہ ا ن چینلز پر چلنے والے اشتہارات کیلئے وقفہ کیا جاتا ہے مگر پھر سوشل میڈیانے یہ راز بھی کھولا کہ یہ وقفہ صرف میڈیا ہاؤسز کیلئے کمرشل بریک نہیں ہے یہ ان میں سے کچھ شوز کے میزبانوں کیلئے بھی (اچھا خاصا)کمرشل بریک ہے کیونکہ اسی وقفے میں ان میز بانوں کو ’’ بعض زعما ‘‘ کی طرف سے بالواسطہ یا بلا واسطہ ٹیلفون آجاتے ہیں‘ بات چیت ہو تی ہیں ہدایات دی اور لی جاتی ہیں اسلئے بریک سے واپس آتے ہی اکثر میزبانوں کے موڈ کا موسم بدل چکا ہو تا ہے بلکہ ایسا بھی ہوتاہے کہ اخلاقیات کا درس دینے والے آف دی کیمرہ اچھے بھلے وضع دار شرکا سے وہ گفتگو کرتے ہیں کہ چیخیں نکل جاتی ہیں‘ اسلئے اب ہر شخص محتاط ہو گیا ہے کچھ دن پہلے تک ان خبروں کو بہت ہوا دی گئی تھی لیکن اب اس محاذ پر بھی سکون اور خاموشی ہے۔

ادب کا تو بہار کے موسم سے بہت قریب کا رشتہ ہے اس لئے اس شعبے سے جڑے ہوئے لوگ بھی ان بھیگے بھاگے موسم میں خاصے مصروف ہیں اور بہانے بہانے مل بیٹھنے کا ڈول ڈال رہے ہیں، سیاسی محاذ پر بھی مفاہمت اور رواداری کی ہوائیں چل رہیں ہیں ، کچھ دن پہلے والے مخالفت کا سا جوش و خروش ابھی کم کم ہی دکھتا ہے۔ یار لوگ تھک گئے ہیں ، یا روا روی کی ہوا کو غیر ذمہ دارانہ رویے اور بیانات سے گدلا کرنے والے کا حال دیکھ کر سنبھل گئے ہیں ،یا پھر’ تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی ‘ ، پرانے حریف اچھے حلیف بننے کیلئے ہوا کا رخ دیکھ رہے ہیں، کل تک جس اسیر کی بیماری کا چٹکیوں اور چٹکلوں میں ذکر ہو تا تھا‘ اب انکے علاج کے لئے خصوصی ہدایات دی جارہی ہیں اور اس بھیگے موسم میں بیمار کی عیادت کے لئے بھی پرانے حریف بھی خیر سگالی کی چادر اوڑھے پہنچ رہے ہیں ‘ اب معلوم نہیں کہ اس عیادت سے بیمار اسیر کے چہرے پر غالب کی طرح رونق آتی ہے یا پھر بہار کی بارشوں میں بیمار اسیر، میر کی طرح ایک مضمحل مسکراہٹ سے کہہ اٹھتے ہیں
حال بد گفتنی نہیں میرا
تم نے پوچھا تو مہربانی کی