207

حکومت کا نوٹس؟

خیبرپختونخواحکومت نے میڈیکل کے تدریسی اداروں سمیت صوبے کے تمام ہسپتالوں میں تعینات عملے کی جانب سے اوقات کار کی پابندی نہ کئے جانے کا سخت نوٹس لیا ہے‘ مہیا تفصیلات کے مطابق اس ضمن میں رپورٹ بھی طلب کرلی گئی ہے جس کی روشنی میں سخت کاروائی کا امکان بھی ہے‘ صوبائی حکومت کا نوٹس قابل اطمینان ضرور ہے تاہم علاج گاہوں میں اتنے بڑے بگاڑ کو سنوارنے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے‘ خیبرپختونخوا میں برسراقتدار حکومت کے پہلے دور میں ہیلتھ سیکٹر کیلئے بے شمار اصلاحات متعارف کروائی گئیں‘ یہ سلسلہ موجودہ دور میں بھی اسی طرح جاری ہے اور حکومت صحت کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل کئے ہوئے ہے‘ اس سیکٹر کیلئے فراخدلی کیساتھ فنڈ بھی جاری کئے‘ہسپتالوں میں اختیارات اور ڈسپلن کے حوالے سے بہت سارے تجربات بھی کئے گئے‘ اداروں کے نام بھی تبدیل ہوئے‘ ان تجربات کا سلسلہ ہنوز جاری بھی ہے‘ اس سب کے باوجود مریضوں کی مشکلات اپنی جگہ برقرار ہیں بلکہ وقت کیساتھ ان میں اضافہ بھی ہو رہا ہے‘ اس کی ایک وجہ رش کا بڑھ جانا بھی ضرور ہے‘ کم وسائل پر زیادہ دباؤ بھی ہے‘ افرادی قوت کی کمی بھی ہے ۔

تاہم بدانتظامی اور نگرانی کے کڑے نظام کا فقدان بھی ہے جو خود وزیراعلیٰ محمود خان نے اپنے اچانک دوروں کے دوران نوٹ بھی کیا‘اس وقت اصلاحات کے جاری سلسلے کو کامیاب بنانے کیلئے آن سپاٹ جائزے کیلئے فول پروف نظام کی ضرورت ہے‘ ہسپتالوں کے دروازوں پر ٹرالی اور وہیل چیئر سے لیکر وارڈوں میں خدمات تک کے مراحل جب کوئی ذمہ دار اپنے اچانک دوروں میں دیکھے گا تو یقیناًمہیا وسائل اور افرادی قوت کیساتھ بھی اصلاح احوال کا کوئی نہ کوئی حل ضرور سامنے آئے گا‘ جب کوئی ذمہ دار ہسپتالوں کے سالڈ ویسٹ کو جو بعض کیسوں میں مضر صحت بھی ہے‘ کھلا پڑا اپنی آنکھوں سے دیکھے گا تو یقیناًاس کو ٹھکانے لگانے کیلئے اقدامات بھی تجویز کرے گا‘ جب وہ ہاتھ میں پرچی لئے ایک سے دوسرے کمرے کا چکر کاٹنے والے کراہتے مریض کو دیکھے گا تو یقیناًحکام سے اس پر بات بھی ہوگی‘ حکومت کو اس شعبے میں اپنے متعدد اقدامات ثمر آور بنانے کیلئے نگرانی کا موثر نظام طے کرنا چاہئے جبکہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کیلئے خصوصی کاؤنٹر ہسپتالوں کے اندر بنانا ضروری ہیں جن کے عملے کو بہتر رویے اور فوری کاروائی کا پابند بھی بنانا ہوگا‘ بصورت دیگر عام شہری کیلئے سب اقدامات اور فنڈز کا اجراء کوئی معنی نہیں رکھے گا۔

پشاور کے مسائل

صوبائی دارالحکومت کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ماسٹر پلان کی تیاری کا حکم قابل اطمینان ہے‘ وزیراعلیٰ کا اس ضمن میں احساس وادراک شہریوں کیلئے طمانیت کا باعث ہے‘ پشاور میں منعقدہ اجلاس کے اندر جن شعبوں سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں اور جو اہداف مقرر کئے گئے ہیں ان پر عمل درآمد میں وقت ضرور لگے گا‘ اس وقت ضرورت بعض فوری نوعیت کے اقدامات کی ہے جن میں صفائی کیلئے ایک بڑی مہم چلانا ‘ سیوریج سسٹم کو کلیئر کرنا‘ ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کیلئے روٹس کے تعین ‘ ٹریفک عملے کی تعداد میں اضافہ‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے پائپوں کی تبدیلی بھی شامل ہے‘ 100نئے پارک بنانے کا فیصلہ بہت اچھا ضرور ہے تاہم پہلے سے موجود باغات اور پارکوں کی حالت ایک ہفتے کی ڈیڈلائن سے بہتر بنائی جاسکتی ہے جس سے فوری تبدیلی کا خوشگوار احساس ہوگا۔