474

پاک افغان بارڈر پر پولیو قطرے پلانے کی منصوبہ بندی

پشاور۔ پولیو خاتمہ کی عالمی کوششوں اور پاکستان کے قومی ایمرجنسی ایکشن پلان میں پولیو وائرس کی ترسیل کو روکنے کے واحد مقصد کے پیش نظر، طورخم گیٹ عبور کرنے والے ہر عمر کے افراد کو پولیو قطرے پلوانے کا کام مارچ 25، 2019 سے شروع کیا جا رہا ہے۔

کوآرڈَینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر خیبرپختونخواہ کیپٹن ریٹائرڈ کامران احمد آفریدی نے کہا پاکستان افغانستان کی سرحد پر طورخم گیٹ عبور کرنے والے ہر عمر کے مسافر کو پولیو وائرس کی ترسیل کو روکنے کے مقصد سے پولیو قطرے پلوائے جائیں گے انہوں نے کہا کہ ہم پولیو خاتمے کے بہت قریب ہیں اور حکومت پاکستان اور افغانستان کے طورخم گیٹ پر ہر عمر کے مسافر کو پولیو قطرے پلوانے کے اس متفقہ فیصلے سے پولیو وائرس کی ترسیل کو روکنے میں مدد ملے گی 

انہوں نے بتایا پولیو کی بیماری زیادہ تر بچوں میں عمر بھر کی معزوری کا سبب بنتی ہے مگر بڑے پولیو وائرس کوایک علاقے سے دوسرے علاقے منتقل کرنے یا وائرس کی ترسیل کا ذریعہ بن سکتے ہیں اس لئے سرحد پار کرنے والے ہر عمر کے مسافر کو پولیو قطرے پلوانے کا فیصلہ پولیو وائرس کی روک تھام کی جانب ایک مثبت قدم ثابت ہو گااسی مقصد کیلئے طورخم پر ہر عمر کے شخص کو پولیو قطرے پلوانے کے لئے ٹرانزٹ ٹیمیں اور سوشل موبلائزر بہت جلد تعینات کر دےئے جائیں گے تاکہ مزکورہ تاریخ سے قطرے پلوانے کا کام بہتر طریقہ سے شروع کیا جا سکے ضلع خیبر میں روزانہ تقریباً 14000 مسافر سرحد پار کرتے ہیں ہر شخص کی ویکسینشن نہ صرف اس علاقہ میں بلکہ پورے خطے میں پولیو وائرس کی گردش کو روکنے کے لئے کلیدی کردار ادا کرے گی۔