477

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن کا شدید احتجاج

پشاور۔خیبرپختونخوااسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے بجلی اورگیس کے ناروالوڈشیڈنگ اوروفاق کی جانب سے پن بجلی کے منافع اور بقایاجات نہ ملنے پر شدید احتجاج کیا ہے

ایم ایم اے کے مولانالطف الرحمن نے کہاکہ سابق ادوارکے برعکس موجودہ حکومت روزانہ پندرہ ارب روپے کاقرضہ لے رہی ہے بجلی اورگیس ہوتی نہیں اور جب بل آتاہے تواس میں ہزاروں روپے درج ہوتے ہیں عوام کے چمڑے کوبے دردی سے اتارنے کی کوشش کی جارہی ہے اپوزیشن لیڈر اکرم درانی نے کہاکہ خیبرپختونخوااپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کررہاہے ایم ایم اے کے دور میں وفاقی حکومت کو 110ارب روپے کے بقایاجات کیلئے منظور کیا جس میں75ارب روپے اے این پی کے دور اورباقی 35ارب روپے پرویزخٹک کے دورمیں وصول ہوئے خالص منافع کو چھ ارب سے بڑھاکر18ارب کردیا لیکن اس وقت ان تمام تروسائل کے باوجود بجٹ میں دکھائے گئے

45ارب کے بقایاجات کی وصولی کیلئے حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں جبکہ وفاق نے پن بجلی کے منافع اور بقایاجات کی ادائیگی سے بھی انکار کردیا اسکے برعکس ماضی میں صوبے کے مخالف حکومت کے باوجودوفاقی حکومتوں نے پن بجلی کے بقایاجات اور منافع کی ادائیگی کی ہے پیسکو کے پاس ٹرانسفارمراورٹرانسمیشن لائن کی مرمت کے پیسے نہیں کے پی اوجی سی ایل کی کارکردگی کے متعلق بتایاجائے کہ پانچ سالوں میں اس ادارے نے کتنی رقم کھائی ہے اور اس نے پیداوارکتنی دی ہے ،اے این پی کے سرداربابک نے کہاکہ خیبرپختونخواچارہزارمیگاواٹ بجلی پیداکررہاہے بجلی کی مد میں صوبے کے عوام سے آٹھ مختلف قسم کے ٹیکسزوصول کئے جارہے ہیں صوبائی خودمختاری کے باوجودصوبوں کو حقوق نہیں دئیے جارہے ہیں وزیراعلیٰ ایوان میں آتے نہیں کہ ان کو بتایاجائے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کابائیکاٹ کیاجائے اور وفاق سے دوٹوک بات کی جائے کہ پن بجلی کے خالص منافع اوربقایاجات کی ادائیگی کی جائے 

17محکمے رکھنے کے باوجود وزیراعلیٰ ایوان میں حاضری نہیں دیتے صوبے کے ساتھ زیادتی تو یہ ہوئی ہے کہ بجلی کے خالص منافع کے فنڈکے دو ارب روپے بلین سونامی ٹری کو دئیے گئے ،پیپلزپارٹی کے شیراعظم وزیر اور ن لیگ کے اورنگزیب نلہوٹھانے بھی پن بجلی کے بقایاجات کی عدم وصولی پر صوبائی حکومت کو شدیدتنقیدکانشانہ بنایا صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ بتایاجائے سستی بجلی دے کر وفاق سے مہنگی بجلی خریدنے کامعاہدہ کس سابق دورمیں ہواتھا اس وقت ملک پر تیس ہزار کاقرضہ کس نے چڑھایاہے

154ارب روپے کے سالانہ خسارے کاسامناہے اس صورتحال میں عوام کو کچھ قربانی دینی ہوگی خیبرپختونخوا کو بجلی کے 13فیصد حصہ دیاجارہاہے لیکن صوبے کی ٹرانسمیشن لائن اس کو اٹھانے کے قابل نہیں انہوں نے کہاکہ ریاست مدینہ کا مذاق نہ اڑایاجائے ریاست مدینہ عوام کی برابری کی سطح پر کی گئی ہے اوراس میں عوام کو انصاف ملے گا ۔