190

گریباں چاک

چن آغاپرائمری سکول میں میرے کلاس فیلو تھے۔ اللہ نے خداداد ذہن دیا ہوا تھا‘لیکن بس ایک خامی تھی کہ وہ نچلا نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ روزانہ اساتذہ سے مار کھاتا۔ ردعمل کے طور پر اب وہ ہردوسرے دن سکول سے غیر حاضر ہوتا‘اس کی ماں پوچھنے آتی تو اساتذہ انہیں بھی برا بھلا کہہ کر واپس کردیتے۔ کئی بار اس کی ماں اسے قبرستان سے لے کر آئی کہ وہ واحد جگہ تھی جہاں وہ بیٹھ کر سکون سے دو لمحے گزار سکتا تھا۔ کچھ ہی عرصے میں جب میں ہائی سکول میںآیا تو وہ منظر سے غائب ہوگیا۔ میرے ڈاکٹر بننے کے بعد ایک دفعہ محلے میں ملا تو نہایت کمزور پڑ گیا تھا اور بتایا کہ بمشکل میٹرک کرسکا تھا اور اب کسی سرکاری دفتر میں کلرک کے طور پر کام کررہا تھا۔ میں بڑی گرمجوشی سے ملا اور درخواست کی کہ کبھی کبھی ملا کرے ۔ تاہم وہ نہ تو اپنا پتہ دے سکا اور نہ باقاعدہ ملنے کی کوئی صورت نکل سکی۔ابھی ایک دو سال قبل ایک دن لاٹھی کے سہارے کلینک میں آیا ‘بالکل سو سالہ بوڑھا لگ رہا تھا۔ ایک پاؤں سے معذور ہوچکا تھا۔ ساری عمر شادی ہی نہیں کی تھی اور اب اکیلے ہی زندگی گھسیٹ رہا تھا۔میں اب جب ماضی کے اپنے پرائمری سکول کے وقتوں کا سوچتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ بہت سے طلبہ روزانہ مار کھانے کی وجہ سے سکول چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ان بچوں کی اب تشخیص ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ذہنی اور نفسیاتی طور پر ایک گرہ پائی جاتی ہے۔ ان کو کئی گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بعض بچے ہوتے ہیں جو چند لمحے سے زیادہ اپنی توجہ مرکوز نہیں کرسکتے اور اسی لئے وہ کسی کھیل میں بھی بہت جلد بور ہوجاتے ہیں اور کھلونے توڑنا شروع کردیتے ہیں۔ بعض بچے حروف کو نہیں سمجھ سکتے۔ بعض تصاویر کو نہیں سمجھ سکتے۔ بعض تو بول ہی نہیں سکتے۔ اور بعض تو ایسے معذور ہوجاتے ہیں جیسے ان کو فالج ہوا ہو۔ اس قسم کے تمام بچوں کی کیفیت کو اب مختلف نام دےئے گئے ہیں جس میں’ سیکھنے کی معذوری‘ نفسیاتی معذوری ‘اعصابی کمزوری‘ وغیرہ شامل ہیں۔ تشخیص سے قطع نظر ‘یہ بچے نہ صرف شدید جذباتی طوفان سے گزرتے ہیں بلکہ اپنا مدعا بھی نہیں بیان کرسکتے۔

بدقسمتی سے بعض اساتذہ کے ہاتھ پڑجاتے ہیں تو پھر مارکھانا ان کا مقدر ہوجاتا ہے۔ کئی بچوں کے تو والدین بھی اتنے تنگ آجاتے ہیں کہ وہ ان کو نظر انداز کرنا شروع کردیتے ہیں۔ تاہم ان کے والدین کے دل پر جو گزرتی ہے اور خصوصاً مائیں ایسی اولاد کے ساتھ جیسے جیتے جی مرجاتی ہیں‘ وہ ایک الگ المیہ ہے۔ ہمارا معاشرہ بھی پتھر دل ہے اور ایسے بچوں کو تو جو نام دیتے رہتے ہیں وہ ایک الگ شرم کی بات ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ ان والدین کو بھی عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں گویا یہ اُ ن کا قصور ہو۔ایسے بچوں کیلئے اب نئی نئی تحقیقات کی بنا پر ایسے مراکز قائم ہوگئے ہیں جہاں ان کو کسی حد تک معاشرے میں بغیر کسی سہارے کے زندگی گزارنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے‘تاہم ایسے مراکز پاکستان میں کم ہی ہیں‘میرے جاننے والے ہیں جن کے دونوں بچے اسی طرح کا رجحان رکھتے ہیں‘ان کے والدین ملک چھوڑ کر کینیڈا منتقل ہوگئے ہیں اور مقصد صرف ایسے ادارے کی تلاش تھی جہاں یہ بچے سہارے کے بغیر زندگی گزار سکیں‘ ایسے ادارے کیوں پاکستان میں کم ہیں؟ اس لئے کہ ایسے اداروں کو چلانے کیلئے پہاڑ جتنا دل چاہئے ہوتا ہے۔ جو بھی ان بچوں کے ساتھ کام کرتا ہے‘ ان کے صبر اور استقامت کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ معصومہ ایک دھان پان سی لڑکی ہے لیکن اس سے توانائی پھوٹ پڑتی ہے۔ صبح سے شام تک ہر اُس جگہ پہنچ جاتی ہے جہاں لوگوں کو ایسے بچوں کے بارے روشنی ڈال سکے۔ اسلام آباد اور لاہور سے تو تربیت یافتہ ہے ہی، امریکہ سے آن لائن بھی اچھا خاصا سیکھ لیا ہے اور خدانے صلاحیت دی ہے تو ایسے ایسے بچوں کے منہ سے الفاظ نکلوائے ہیں۔

جن کو کینیڈا میں حتمی طور پر کہا گیا کہ یہ بچے ساری عمر نہیں بول سکیں گے۔ ٹاؤن میں ایک گھر کرائے پر لے کربمشکل خرچے پورے کرکے ایسے بچوں کو داخل کررہی ہے اور ان کے ساتھ ایسی محنت کرتی ہے کہ ماں باپ بھی نہ کرسکیں۔ ایسا صبر اور جذبہ میں نے دیکھا نہیں۔ میں نے پوچھا کہ اس کو ان بچوں کی تربیت میں کیا مسائل ہیں تو معلوم ہوا کہ وہی پٹھان معاشرے کا المیہ ہے۔ ’چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے‘۔ لاہور ‘ ملتان اور کراچی میں لوگ دل کھول کر ایسے کاموں کیلئے نہ صرف روپے پیسے دیتے ہیں بلکہ جاگیریں وقف کردیتے ہیں۔ ابھی ملتان ہی میں ایک شخص نے کئی ایکڑ زمین اس کام کیلئے وقف کی ہے۔ تاہم پشاور اور پختونخوا میں لوگ مساجد کی تعمیر میں تو کافی پیسہ دیں گے‘ پیشہ ور گداگروں کو بھی دل کھول کر دیں گے لیکن کسی ادارے کیلئے یہاں کے لوگوں کے صدقے خیرات ختم ہوجاتے ہیں۔بے شک شادی بیاہ‘ ختنے اور پیدائش پر ہوائی فائرنگ ہی میں ہزاروں اڑادیں لیکن کسی مستحق ادارے کو باقاعدہ بنیاد پر کوئی بھی مدد دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ پنجاب ‘ کراچی اور ملک سے باہر شاید معصومہ کو مناسب مدد مل جائے اور اس معاشرے کے بچے بڑے ہوکر مجذوب‘گونگے ‘بہرے اور ذہنی معذور بننے سے بچ جائیں تو یہ اس معاشرے کے ساتھ ایک بہت بڑی مدد ہوگی۔