618

صنفی فرق یاتعصب

گزشتہ ہفتہ خاصا مصروف رہا۔ کہیں ورکشاپ کیلئے تیاری کرنی پڑی اور کہیں ریسرچ پر سیمینار اور سب کیلئے کچھ لکھت پڑھت بھی کرنی پڑتی تھی۔ اتنے میں سب لایم آرگنائزیشن کی چیئر پرسن کی طرف سے دعوت نامہ آیا کہ بچوں کی نگہداشت پر سیمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کروں۔ اس سے قبل میرا ایک کالم اسی موضوع پر شائع ہوا تھا اور انہوں نے اسی موضوع کو سامنے رکھا ہوا تھا۔ نیکی اور پوچھ پوچھ۔ تاہم میں نے ان سے درخواست کی کہ تلاوت کاشرف مجھے بخشا جائے۔ وقت پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ سول سوسائٹی کے ہر شعبے کے لوگ موجود تھے۔ تعلیم کے پروفیسروں سے لے کر خواتین پولیس افسران اور وکیلوں سے لے کر ججوں تک نے وقت نکال کر تقریب کو رونق بخشی تھی۔ تقریب کی گرمی اس لحاظ سے بھی محسوس کی جارہی تھی کہ ابھی قصور جیسے واقعات کی بازگشت تازہ تھی۔میں نے سورۃ بقرہ کی 222 ویں آیت سے شروع کی جس کی ابتداء یوں ہے کہ’ (اے نبی ؐ) لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں‘۔ تلاوت پوری کرنے کے بعد میں نے ترجمہ سنایا اور پھر سامعین سے پوچھا کہ آپ اپنے بچوں کو دوسرا پارہ کس عمر میں پڑھاتے ہیں۔ یہی سات آٹھ سال کی عمر میں نا۔ اس پر دوتین حضرات بول اٹھے کہ ہم ترجمے سے تھوڑی پڑھاتے ہیں۔ میں نے مسکرا کر کہا کہ عرب بچوں کو تو ترجمے کی ضرورت نہیں ہوتی، پھر ان کو کیسے سمجھائیں گے۔ گویا قرآن میں دوسرے پارے میں جسم میں بلوغت کے آثار اور ان کے مسائل پر روشنی ڈالی جاتی ہے‘ اسکو انگریزی میں سیکس ایجوکیشن کہتے ہیں‘ پھر بھی یہ نام سن کر ہمارے بال کیوں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مجموعی طور پر تقریب بڑی دلچسپ رہی اگرچہ چند ایک مقررین نے موضوع سے ہٹ کر سڑکوں اور ٹریفک ، جیسے مسائل کو نشانہ تنقید بنانے کی کوشش کی۔تقریب کی نمایاں کامیابی یہ تھی کہ اس میں علماء بھی شامل رہے اور بالآخر اس بات پر متفق ہوئے کہ بچوں کو بلوغت کی تبدیلیوں کے بارے میں بلوغت سے پہلے پہلے بتانا چاہئے۔تقریب میں اور بھی معززین اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اور حضرات نے اپنی اپنی رائے دی۔

میں نے ایک بات نوٹ کی کہ سبھی لوگ اپنی بچیوں کے بارے میں بہت فکرمند ہیں اور ہر کوئی لڑکیوں کی حفاظت ‘ ان کی تربیت اور تعلیم کے بارے میں نت نئی تجاویز دے رہا تھا جبکہ معاشرے کی دوسری ذمہ داریوں کو نظر انداز کیا جارہا تھا۔ بالآخر مجھ سے رہا نہ گیا اور کہہ اُٹھا کہ ہم میں سے ہر شخص اپنی اپنی بیٹیوں کو دوسروں کے بیٹوں سے بچانے کی کوشش کررہا ہے تاہم اپنے اپنے بیٹوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟اس وقت معاشرے کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو اپنے ہی گھروں میں کمتر مخلوق سمجھا جاتا ہے۔بیٹی بڑی ہو یا چھوٹی‘ اسے اپنے بھائی کیلئے چائے بنانی پڑتی ہے۔ ان کے کپڑے استری کرنے پڑتے ہیں۔ ان کو سامنے رکھے کولر سے گلاس میں پانی بھی بہن ہی پلائے گی۔ گھروں میں ایک قانون بناہوا ہے کہ گھر کے کام صرف خواتین ہی کے فرائض میں شامل ہیں۔ ایک طرف ہم اپنے آپ کو سچے مسلمان سمجھتے ہیں اور حضرت محمد ؐ کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں اور دوسری طرف اسوہِ رسول سے بالکل مختلف رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ رسول کریم ؐاپنے کپڑے خود مرمت کرتے تھے۔ اپنے جوتے خود گانٹتے تھے۔ نہ کبھی بیٹی سے کام کروایا نہ بیبیوں کو کسی قسم کی تکلیف دی۔ سنت سے ظاہر ہے کہ بیوی پر شوہر کے حقوق اسکے امانتوں کی حفاظت اور بچو ں کی تربیت تک محدود ہیں حتیٰ کہ بیوی کی کمائی پر بھی شوہر کا کوئی حق نہیں۔اسی طرح بچوں میں لڑکے اور لڑکی کی تفریق ہی ساری معاشرتی برائیوں کی جڑ ہے‘ ۔

اگر ہم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی ایک ہی طرح سے تربیت کریں گے اور بیٹوں کے دماغ میں عملی طور پر بٹھادیں کہ ان کو بہنوں پر کوئی فوقیت حاصل نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہی آج کے لڑکے کل کے ذمہ دار مرد بن کر عورت کو اپنے برابر سمجھیں‘ اس زمانے میں بیٹوں کی تربیت اسلئے بھی زیادہ اہم ہوگئی ہے کہ ان کو دوسرے ممالک تعلیم اور روزگار کیلئے جانا پڑتا ہے۔ وہاں نہ ان کو کوئی بہن ملنی ہے جو ان کیلئے گول روٹی بنائے اور نہ کوئی بیوی ایسی ملنی ہے جو اسکو سامنے پڑے کولر سے پانی پلا کردے۔ ان کو اپنے کپڑے بھی خود ہی استری کرنے پڑیں گے اور پیاز ٹماٹر بھی خود کاٹنا پڑیں گے۔ اس لئے بہت ضروری ہے کہ اپنے بیٹوں کو ناشتہ بنانا، کھانا پکانا، چائے بنانا اور کپڑے دھونا ابھی سے سکھادیا جائے‘ اگر گھر کے تمام افراد ایک دوسرے کے ساتھ اسی طرح تعاون کرتے رہیں کہ کھانے کے بعد ہر شخص اپنی اپنی پلیٹ کم از کم خود دھولیا کرے۔ بیٹوں سے بھی کبھی کبھی پونچا لگالیا کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ لڑکے بالے ان کاموں کو اپنی توہین سمجھیں۔ کم از کم ان کے کمروں کی صفائی ان کی ذمہ داری ہونی چاہئے۔ گھر کے دوسرے کاموں میں بھی ان کو ضرور شامل کیجئے گا۔ اس سے نہ صرف اپنے گھر میں صنف کی برابری کا احساس بڑھے گا بلکہ آگے جاکر وہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو بھی یہی عزت دیں گے اور اپنے بیٹوں کو بھی اسی نہج پر تربیت دے سکیں گے۔ اسی طرح کبھی بچوں کے سامنے اپنی بیوی کو کمتر نہ سمجھئے گا ورنہ بچوں میں یہی قباحت آئے گی۔