163

اصلی امریکہ

چند روز پہلے ممتاز کالم نگار پال کروگ مین نے لکھا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ بنانا نہایت مشکل کام ہے نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونیوالے اس کالم میں کروگ مین نے مثالیں دیکر یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ دیہاتی علاقوں کو اقتصادی طور پر فعال بنانے کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں‘امریکہ کے دیہاتی علاقوں کی پسماندگی کے بارے میں انکا کہنا ہے There are powerful forces behind the relative and in some cases absolute decline of rural America یعنی دیہاتی امریکہ کے جزوی اور بعض جگہوں پر مکمل انحطاط کے پیچھے طاقتور تاریخی قوتیں کار فرما ہیں ان قوتوں کو کیسے مخالف سمت میں موڑا جا سکتا ہے اسکے بارے میں انکا کہنا ہے کہ The truth is that nobody knows how to reverse those forces یعنی سچ یہ ہے کہ کسی کو یہ معلوم نہیں کہ کیسے ان قوتوں کو پلٹا جائے کروگ مین نے لکھا ہے کہ امریکہ سمیت بہت سے ممالک نے اپنے پسماندہ علاقوں کو ترقی کی دوڑ میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے مگر کسی نمایاں کامیابی کو ڈھونڈھنا مشکل ہے جنوبی اٹلی کی مثال دیتے ہوئے نوبل انعام یافتہ کالم نگار نے لکھا ہے کہ کئی عشروں سے اس علاقے کو مین سٹریم میں لانے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کئے جا رہے ہیں مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا اسی طرح سابقہ مشرقی جرمنی میں دیوار برلن کے گرنے کے بعد گذشتہ تین عشروں میں1.7کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے مگر یہ علاقہ کسی بھی صورت باقی کے ملک کے برابر تو کیا اسکے قریب بھی نہیں آ رہاکروگ مین کا کہنا ہے کہ کم و بیش یہی حال دیہاتی امریکہ کا بھی ہے انہوں نے سوال کیا ہے کہWhat is the matter with rural America انکی رائے میں اسکا جواب یہ ہے کہ بڑے شہر ہر جگہ اقتصادی ترقی کا مقناطیس ہوتے ہیں ان میں تاجر اور سرمایہ کار ہر وقت سرمایہ کاری کیلئے تیار ہوتے ہیں۔

انہیں یقین ہوتا ہے کہ لاکھوں لوگوں کے جدید اربن سینٹر میں لگایا جانیوالا سرمایہ بہت جلد دگنا ہو جائیگا ان شہروں میں تجربہ کار اور ہنر مند کارکنوں کی کمی نہیں ہوتی سمجھدار حکومتیں ہر لحظہ کاروباری طبقے کی حوصلہ افزائی کرنے اور انہیں مراعات دینے پر آمادہ رہتی ہیں یہ حکومتیں جانتی ہیں کہ ملک میں اگر کاروبار ترقی کریگا تو لوگوں کو ملازمتیں اور حکومت کو ٹیکس ملے گا کروگ مین کی رائے میں دیہاتی علاقوں کی پسماندگی کی اصل وجہGravitational pull of the big cities ہے یعنی بڑے شہروں کی وہ تجاذبی قوت جو ہر کار آمد چیز کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے ‘کالم نگار کا کہنا ہے کہ کئی امریکی حکومتوں نے کاروباری طبقے کو اچھی خاصی رعایتیں دیکردیہاتی علاقوں میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی مگر یہ رسک لینے پر بہت کم لوگ آمادہ ہوئے۔پال کروگ مین کے اس کالم کا بیک گراؤنڈ یہ ہے کہ انکی اپنے ہمسایہ کالم نگار ڈیوڈ بروکس کیساتھ یہ بحث چل رہی ہے کہ شہری اور دیہاتی امریکہ میں سے کونسا اصلی امریکہ ہے ڈیوڈ بروکس جو شہرت اور مقبولیت میں کروگ مین سے چند قدم آگے ہیں کا کہنا ہے کہ دیہاتی امریکہ ہی اصلی امریکہ ہے بروکس نے کئی کالموں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دیہاتی امریکہ اخلاقی طور پر بھی شہری امریکہ سے برتر ہے ۔

اس موضوع پر انکے لکھے ہوئے تازہ کالم کے ذکر سے پہلے ہم انیس مارچ کے نیو یارک ٹائمز میں لکھے ہوئے پال کروگ مین کے کالم کی یہ سطور دیکھتے ہیں انکا کہنا ہے کہ دیہاتی علاقوں میں اربوں ڈالر کی بے نتیجہ سرمایہ کاری کے بعد یہ کہا جا سکتاہے کہ Rural areas and small towns are not the real America, somehow morally superior to the rest of us یعنی دیہاتی علاقے اور چھوٹے شہر اصلی امریکہ نہیں ہیں اور نہ ہی یہ اخلاقی طور پر باقی کے لوگوں سے بہتر ہیں‘دیہاتی امریکہ کے بارے میں کروگ مین نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہی وہ علاقے ہیں جنہوں نے ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ جیسا صدر دیا ہے انکے اس کالم کا عنوان ہے Getting real about Rural America اسکے جواب میں بائیس مارچ کے اخبار میں ڈیوڈ بروکس نے جو کالم لکھا ہے اسکا عنوان ہے What Rural America has to teach usیہ کالم بروکس نے ایک دور دراز کی وسط مغربی ریاست Nebraska کے ایک قصبےMcCook سے بھیجا ہے کالم نگار نے لکھا ہے ’’ میں نے پچھلا پورا ہفتہ نبراسکا کے دیہات میں گزارا ہے یہ لوگ دولتمند نہیں ہیںیہاں کے سکولوں میں آدھے سے زیادہ بچے اپنے والدین کی کم آمدنی کی وجہ سے فری لنچ لیتے ہیں مگر یہ بچے اپنے مستقبل سے پر امید ہیں اور انکی ذہنیت مفلوک الحال بچوں والی نہیں ہے‘ امریکہ کی پچاس ریاستوں میں بیروز گاری کی فہرست میں نبراسکا کا نمبر چھٹا ہے یہاں لوگ چھوٹی بڑی کوئی ملازمت کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے‘یہاں کے سکولوں سے کامیاب ہونیوالے طالبعلموں کی تعداد اٹھانوے فیصد ہے جرائم اتنے کم ہیں کہ لوگوں کی اکثریت اپنے مکانوں اور گاڑیوں کو تالے نہیں لگاتی‘ یہاں اکثر گھرانوں میں ہمیں پرانا خاندانی نظام پھلتا پھولتا نظر آتا ہے‘‘ بروکس نے لکھا ہے’’ ایک عورت نے مجھے بتایا کہ وہ گھر واپس پہنچی تو اسنے دیکھا کہ بتی جل رہی ہے اسنے سوچا کہ اسکا خاوند واپس آیا ہو گا مگر اسے پتہ چلا کہ پلمبر اسکے ٹب کی ڈرین کھولنے کیلئے آیا تھااور کام ختم کر کے چلا گیاہے‘ اس عورت نے مجھے یہ بھی بتایا کہ جب اسکی گاڑی کو مرمت کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ مکینک کو فون پر اطلاع دے دیتی ہے اور ایک بلینک چیک دستخط کر کے گاڑی کی سیٹ پر چھوڑ دیتی ہے مکینک وقت ملنے پر اسکی گاڑی ورکشاپ میں لیجاتا ہے اور اسے ٹھیک کر کے واپس گیراج میں چھوڑ جاتا ہے اسکے بعد میں وقت ملنے پر اپنا بینک اکاؤنٹ انٹر نیٹ پرچیک کرتی ہوں تو مجھے مکینک سے کوئی شکایت نہیں ہوتی ‘‘ ڈیوڈ بروکس نے لکھا ہے کہ McCook میں 7700 افراد رہتے ہیں‘ یہاں ایک روٹری کلب بھی ہے‘ کسانوں کی ایک تنظیم بھی ہے۔

یہاں ہر سال ایک بڑا میوزک فیسٹیول اور ایک Story telling festival بھی ہوتا ہے‘ یہاں چرچ ‘ لائبریریاں اور میوزیم بھی ہیں‘یہاں اس علاقے میں ایوارڈ جیتنے والی James Beard بیکری بھی ہے اورایک ایسی کافی شاپ بھی جہاں ریٹائرڈ لوگ خوش گپیاں کرتے ہیں ‘‘ڈیوڈ بروکس نے لکھا ہے کہ اسکی ملاقات Ronda Graff نامی ایک خاتون سے ہوئی اسکے سات بچے ہیں وہ یہاں کے ایک مقامی اخبار کی رپورٹرہے ‘ گاؤں کے بچوں کو تیراکی سکھاتی ہے ‘ سکول والے اسے کبھی کبھار پڑھانے اور سکول کی بس چلانے کیلئے بھی بلا لیتے ہیں‘ وہ ایک شیلٹر ہوم میں بھی پارٹ ٹائم ملازمت کرتی ہے کمیونٹی سروس میں پیش پیش رہتی ہے اور گاؤں میں بننے والی ہر نئی تنظیم کی ممبر بن جاتی ہے‘ Rondaکے علاوہ اور بھی کئی عورتیں ہیں جو اس طرح کی مصروف زندگی گزار رہی ہیں ‘‘ ڈیوڈ بروکس نے لکھا ہے کہ ان سب باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں سب لوگ خوشحال ہیں۔

یہاں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو مشکل سے گزر بسرکرتے ہیں بروکس کی رائے میں اس دیہاتی معاشرے کے تاروپود Ronda جیسی خواتین نے بکھرنے سے بچائے ہوئے ہیں اور ان دیہاتی معاشروں کے توانا ہونے کی ایک وجہ کھیتوں میں مل جل کر لوگوں کا ایک ٹیم کی صورت میں کام کرنا ہے Farm life inculcates amazing work ethics یعنی کھیتوں کا کام ایک حیران کن ضابطہ ٗ اخلاق سکھاتاہے یہ رویے آگے چل کر معاشرتی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں کئی لوگوں نے بروکس کو بتایا کہ انکی خواہش ہے کہ وہ اپنے گاؤں کو اس حالت سے بہتر بنا دیں جس میں انہوں نے اسے پایا تھا یہ لوگ ہمیشہ یہ سوچتے ہیں کہ انکا کام انکے گاؤں کیلئے نقصان کا باعث تو نہیں بنے گا بروکس نے کالم کا اختتام اس جملے پر کیا ہے کہ میں نے جب ان سے یہ کہا کہ شہروں کے لوگ اس انداز سے نہیں سوچتے تو وہ خالی نظروں سے مجھے دیکھنے لگے جیسے کہہ رہے ہوں کہ میری بات انکی سمجھ میں نہیں آئی۔