228

دستار انہیں دی ہے جو سرہی نہیں رکھتے

سول ایوارڈ زکیلئے 14اگست کو اعلان کیا جاتا ہے اور پھر23مارچ کو یہ ایوارڈ تقسیم کئے جاتے ہیں اس مرتبہ جو ایوارڈ تقسیم کئے گئے ان میں ادب سے متعلق ایوارڈ آٹے میں نمک کے برابر تھے‘ بہت سے پی ٹی آئی کے کلمہ خیر کہنے اور لکھنے والے توقع کررہے تھے کہ ان میں سے بھی بعض کی خدمات پر کوئی نہ کوئی ایوارڈ ضرور ملے گا لیکن انہیں بھی مایوسی ہوئی‘ لے دے کر ایک فنکارہ مہوش حیات کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا‘ہوسکتا ہے اپنے شعبے میں اسکی پرفارمنس ایسی ہو جس پر اسے یہ تمغہ دیاگیا ہے ان دنوں سوشل میڈیا پر مہوش حیات کے ایوارڈ کی ’دھوم‘ مچی ہوئی ہے‘ فنکاروں میں بھی جیلسی ہوتی ہے جسے نہ ملے وہ ایوارڈ پانیوالے پر غم وغصہ کا اظہار بھی کرتا ہے مگر جس طرح اور جن ناموں سے مہوش سوشل میڈیا ‘خاص طور پر فیس بک پر زیر بحث ہے نہایت افسوسناک ہے‘ ایسے لگتا ہے جیسے ہمارا سب سے اہم ایشو یہی ہے‘ ایوارڈ پر ہر کوئی خوش بھی نہیں ہوتا صرف ایوارڈ حاصل کرنے والا خود کو مزید معتبر اور محترم سمجھنے لگتا ہے‘ مہوش اس حوالے سے بدقسمت ٹھہری کہ اس کو ایوارڈ کے بعد شہرت سے زیادہ رسوائی کا سامنا ہے‘ شہر ت اور رسوائی میں باریک سا فرق ہے اس ایوارڈ کو وہ سینے پر سجا کر تصویر بنوانے کی بجائے شکریئے کیساتھ واپس کردیتی تو اس کے وقار میں اضافہ ہوتا لیکن یہ تو اپنی اپنی ترجیحات ہیں یہ ہم اسلئے کہہ رہے ہیں کہ تمغے اور ایوارڈ اثرورسوخ کے بغیر کم ہی ملتے ہیں کیونکہ اوپر تک ناموں کی فائل بھیجنے والے بھی انسان ہیں اور فائل کا پیچھا کئے بغیر ایوارڈ تک رسائی کار دشوار ہے۔

ہمارے ہاں تو ایوارڈ بھیجنے والے اداروں کے افسران خود اپنا نام بھی بھیجنے سے نہیں شرماتے‘ پیپلزپارٹی کی حکومت میں تو بیوروکریسی کی اچھی خاصی تعداد بھی سول ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہی گویا جو ایوارڈ دیتے ہیں انہوں نے ایوارڈ خود اپنے نام کرلئے‘ سنا ہے اس وقت کی بیوروکریسی میں نرگسیت کچھ زیادہ تھی‘ مسلم لیگ ن کی حکومت نے بھی اپنے دھڑے کے فنکاروں‘شاعروں اور ادیبوں کو خوب نوازا‘ نوازنے میں نواز حکومت کبھی پیچھے نہیں رہی‘ نگران حکومت بھی اگست میں سول ایوارڈ کا اعلان کرنا بھول گئی‘ادھر تحریک انصاف ابھی نوازنے میں کنجوسی دکھا رہی ہے‘ اپنے لئے نرم گوشہ رکھنے والے اہل قلم اور علوم وفنون کی شخصیات کو فی الوقت اہمیت نہیں دے رہی پھر بھی جو ایوارڈآناً فاناً تقسیم کئے گئے ہیں ان میں عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی‘ سجاد علی‘ اداکارہ ریما‘ بابرہ شریف‘ شبیر جان‘ افتخار ٹھاکر اور کچھ دیگر ایوارڈ یافتگان شامل ہیں ‘اس فہرست میں ادیبوں شاعروں کو شامل نہیں کیاگیا پاکستان کے سول ایوارڈ پر ہر شعبے میں اچھی کارکردگی دکھانے والوں کا حق ہے اس کیلئے باقاعدہ ایسی کمیٹی ہو جو ہرشعبے سے ممبران پر مشتمل ہو‘ صرف آرٹس کونسلوں یا بعض علمی ادبی ثقافتی اداروں سے ارسال کی گئی فہرست کو حتمی نہ سمجھاجائے۔

ابھی کچھ روز قبل شیخوپورہ سے ایک شاعر نذرالحسن نذر سے ملاقات ہوئی تو ہم ان کی خدمات اور کارکردگی پر حیران رہ گئے نذرالحسن نذر کئی کتب کے مصنف ہیں یہی نہیں وہ فلاحی کاموں میں اپنی پہچان رکھتے ہیں‘ ہم حیران ہوئے کہ نذرالحسن نذر فری ڈسپنسری‘ فری ایمبولینس سے لے کر لاوارث لاشوں کی تدفین تک کرتے رہے اور بغیر کسی صلے کے گم شدہ بچوں کو ان کے گھروں تک پہنچانے میں مصروف رہے مگر اس دوران انکے اپنے بچے رل گئے‘ معاشرے میں فلاح ‘امن اور تعلیم کا شعور بیدار کرنے والے اس شاعر نے اپنی کتابوں کے ذریعے بھی نئی نسل کی تربیت وتہذیب کی کوشش کی‘میں سمجھتا ہوں ہمارے اداروں کو ایسے بے لوث اور اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے فنکاروں لکھاریوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے‘اکادمی ادبیات پاکستان اہل قلم کیلئے وظائف دیتی ہے انہیں خصوصی امداد سے بھی نوازتی ہے کیا ہی اچھاہو نذرالحسن نذر جیسے ادیب شاعر اور عوامی خدمت میں زندگی بسر کرنے والے بزرگ کی خدمات کو بھی اعلیٰ سطح پر سراہا جائے‘ انہیں بھی ایوارڈ سے نوازا جائے‘ ان کی زندگی آسان بنانے کے علاوہ انکے سماجی خدمات میں تجربے سے فائدہ اٹھایا جائے‘بات ایوارڈ سے شروع ہوئی ایوارڈ کی ریوڑیاں صرف اپنوں میں مت بانٹیں کچھ مستحق اور واقعتا کارکردگی دکھانے والوں کو بھی دیں تاکہ ان سول ایوارڈ کی توقیر اور بھرم قائم رہے انور جمال کا شعر یاد آرہا ہے ۔
اے قاسم اشیا تری تقسیم عجب ہے
دستار انہیں دی ہے جو سر ہی نہیں رکھتے