193

ٹرمپ کی صدارت‘ ایک نیا موڑ

بائیس ماہ پہلے ہاؤس اور سینٹ نے متفقہ طور پر خصوصی تفتیش کاررابرٹ مولر کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ اس بات کا کھوج لگائیں کہ 2016 کے الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ اور انکے مشیروں نے روس کی حکومت سے ساز باز کر کے انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونیکی کوشش تو نہیں کی تھی انکے ذمے دوسرا کام یہ لگایا گیاکہ وہ یہ تحقیقات بھی کریں کہ صدر ٹرمپ نے انصاف کے حصول کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کا جرم تو نہیں کیا اسے Obstruction of Justice کہتے ہیں اس الزام کی زد میں آ کر1974 میں رچرڈنکسن کو صدارت سے استعفیٰ دینا پڑا تھا اور 1999میں ایک طویل اور رسوا کن مواخذے کے بعد بل کلنٹن سینٹ میں ڈیموکریٹ کی اکثریت ہونے کی وجہ سے بمشکل تمام اپنی صدارت بچانے میں کامیاب ہوئے تھے‘ یہ دونوں الزامات ثابت کرنا ایک بہت بڑا چیلنج تھانکسن اور کلنٹن کے مواخذے کے دوران امریکہ کی جو جگ ہنسائی ہوئی اور امریکی عوام جس ذہنی اذیت اور خلفشار کا شکار ہوئے اسکے بعدعام تاثر یہی تھا کہ آئندہ اس مہم جوئی سے گریز کیا جائیگا مگر 2016کی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے اتنے سکینڈل سامنے آئے اور ولادیمیر پیوٹن کیساتھ انکی دوستی اور ماسکو میں ٹرمپ ٹاور بنانے کی اتنی خبریں ایک سال تک میڈیاپر گردش کرتی رہیں کہ انہیں قالین تلے سرکانا ممکن نہ رہا‘ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی صرف ڈیموکریٹک پارٹی اور لبرل میڈیا کیلئے ہی نا قابل برداشت نہ تھی‘ یہ واشنگٹن اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی پریشان کن تھی‘ صدر ٹرمپ ایک ایسے دشمن ملک کیساتھ دوستی کی پینگیں بڑھا رہے تھے جو سرد جنگ کے اڑتالیس برس کے دوران امریکی خفیہ ایجنسیوں کا بد ترین دشمن رہا تھا‘ یوں بیس جنوری 2017کو وائٹ ہاؤس میں عنان اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی صدر ٹرمپ ایک چو مکھی جنگ شروع کر چکے تھے۔

گذشتہ دو برس میں امریکہ کے بائیں بازو کے میڈیااور ڈیپ سٹیٹ نے اسطرح خم ٹھونک کراور کندھے سے کندھا ملا کر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف محاذ آرائی کی کہ اتوار چوبیس مارچ کی شام رابرٹ مولر رپورٹ کے مندرجات سامنے آنے سے پہلے ہی امریکی عوام کی اکثریت اپنے صدر سے متنفر نہ سہی تو بیزار ضرور ہو چکی تھی‘ یہ دستاویز تین سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور اٹارنی جنرل ولیم بار نے اسے چار صفحات میں سمیٹ کر ایک خط کی صورت میں ہاؤس اور سینٹ کو بھجوایاہے‘اس خط میں لکھا ہے کہ Special Prosecutor رابرٹ مولر کو ایسے شواہد نہیں ملے جن سے یہ ثابت ہوتاہو کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور انکی انتخابی مہم کے اراکین نے روس کی حکومت کیساتھ مل کر 2016 کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی دوسرا الزام جوObstruction of Justice سے متعلق تھا اور جس نے اس فیصلے کی راہ ہموار کرنا تھی کہ صدر ٹرمپ کا مواخذہ کیا جائے یا نہیں اس سے رابرٹ مولر صاف طور پر دامن بچا گئے ہیں‘ انہوں نے کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے والے مقولے کے مصداق یہ فیصلہ کرنے سے پہلو تہی کر لی‘رابرٹ مولر2000 سے 2010 تک جارج بش اور باراک اوباما کی صدارتوں میں ایف بی آئی کے سربراہ رہ چکے ہیں‘امریکہ میں ایسے افراد بہت کم ہیں جنہیں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کا مکمل اعتماد حاصل ہو‘۔

رابرٹ مولر کی شاندار خدمات اور بے داغ کردار انہیں ہر قسم کی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ سے بلند رکھے ہوئے ہے انکی مرتب کردہ رپورٹ اب تک صرف چار صفحات کے ایک ایسے خلاصے کی صورت میں سامنے آئی ہے جسے ڈیموکریٹک پارٹی اور لبرل میڈیا نے یہ کہہ کر شرف قبولیت نہیں بخشا کہ وہ اپنا فیصلہ پوری رپورٹ پڑھنے کے بعد ہی دیں گے اور یہ بھی کہ یہ خلاصہ ایک ایسے اٹارنی جنرل نے لکھا ہے جسے صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص مفادات کے پیش نظر اس عہدے پردو ماہ پہلے تعینات کیا تھا اور جوبادشاہ سے زیادہ بادشاہ کا وفادار ہونے کی شہرت رکھتا ہے‘ ولیم بار کا متنازع ہونا ایک حقیقت سہی مگر رابرٹ مولر کی رپورٹ کا وہ جملہ جو انہوں نے حصول انصاف کے راستے میں صدر ٹرمپ کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بارے میں لکھا ہے وہ ڈیموکریٹس کیلئے قطعاً حوصلہ افزا نہیں ہے‘ رابرٹ مولر نے نہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین بلکہ انکے حمایتیوں کو بھی اس ایک جملے کی مار دیکر حیران و پریشان کر دیا ہے "While this report does not conclude that the President committed a crime, it also does not exonerate him." یعنی یہ رپورٹ اس نتیجے تک نہیں پہنچی کہ صدر نے کوئی جرم کیا ہے مگر یہ اسے بری الذمہ بھی قرار نہیں دے رہی‘ یہ جملہ اسوقت تک مبہم اور ادھورا رہیگا جب تک پوری رپورٹ پڑھ کراسے سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی اسوقت تک اس شعر سے کچھ رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے

عالی شعر ہو یا افسانہ یا چاہت کا تانا بانا
لطف ادھورا رہ جاتا ہے پوری بات بتا دینے سے
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ کچھ اس طرح کی بات ہو جسکا ذکر جمیل الدین عالی نے یوں کیا ہے
طلسم عکس و صدا سے نکلے تو دل نے جانا
یہ حرف کچھ کہہ رہے ہیں عرض ہنر سے آگے

حرف اور عرض ہنر کی چھیڑ چھاڑ اپنی جگہ اس رپورٹ کے بارے میں ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ مکمل صورت میں کبھی بھی منظر عام پر نہیں آئے گی اسکی وجہ یہ ہے کہ اسمیں کئی باتیں ایسی ہیں جنکا قومی سلامتی کے امور سے تعلق ہے اور کئی ایسی بھی ہیں جنہیں صدر ٹرمپExecutive Privilegeیاسربراہی استثنیٰ استعمال کرکے حذف کر سکتے ہیں‘اٹارنی جنرل نے اگر چہ کہ یہ کہہ دیا ہے وہ اس رپورٹ کے بیشتر حصے وسط اپریل تک صدر ٹرمپ کوبجھوانے سے پہلے ہی کانگرس کو پیش کر دیں گے مگر ولیم بار کیونکہ صدر ٹرمپ کے نہایت وفادار ہونے کی شہرت رکھتے ہیں اسلئے وہ خود بھی اپنے باس کو بچانے کیلئے نقصان دہ جملے حذف کر سکتے ہیں۔

وہ ایسا اگر نہ بھی کریں تب بھی مواخذے کے امکانات معدوم ہوچکے ہیں رابرٹ مولرنے ڈیموکریٹس کو وہ ہتھیار نہیں دیا جس سے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت پر ایک کاری ضرب لگا سکتے تھے مگر اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ راوی نے چین لکھ دیا ہے اس رپورٹ کے سامنے آنے سے پہلے ہی بائیں بازو کے دانشوریہ کہہ رہے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر اتنے الزامات لگے ہوئے ہیں اور اسوقت بھی مختلف عدالتوں میں ان پر اتنے مقدمات چل رہے ہیں کہ رابرٹ مولر اگر مکمل طور پر انکے حق میں فیصلہ دے بھی دیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑیگا ماہرین کی رائے میں صدر ٹرمپ جب تک صدر ہیں عدالتی کاروائیوں کو نظر انداز کر سکتے ہیں مگر وائٹ ہاؤس سے رخصتی کے بعد انہیں باقی کی ساری زندگی عدالتوں کا سامنا کرنا پڑیگا ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی ہو مگر فی الحال وائٹ ہاؤس میں نہ صرف یہ کہ جشن کا سماں ہے بلکہ صدر ٹرمپ ان دشمنوں کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی دھمکی بھی دے رہے ہیں جنہوں نے دو سال تک انہیں اور پوری قوم کوا ذیت میں مبتلا کئے رکھا‘رابرٹ مولر نے بائیس ماہ میں لگ بھگ پچیس ملین ڈالر کے خرچ سے جو رپورٹ تیار کی اسمیں انہوں نے دوٹوک بات کرنے سے کیوں گریز کیا اسکا جواب انہوں نے خود تو نہیں دیا مگر انکے ایک رفیق کار نے کہا ہے کہ تفتیش کار کا کام تفتیش کرنا ہوتا ہے فیصلہ کرنا نہیں ہوتا‘کاری وار کرنے سے گریز کی حکمت کو عالی صاحب نے یوں برتا ہے ۔
شہر میں چاہے سو ترمیم ضروری ہو
شہر پناہ پہ ضرب لگانا ٹھیک نہیں