166

ہیروعمران خان اورمیلہ چراغاں

مقبولیت نعمت ہوتی ہے‘ مقبول لوگ ہیرو ہوتے ہیں‘ عوام ان سے محبت کرتے ہیں مگر ضروری نہیں ان میں دانائی‘ برداشت اور قوم کی قیادت کی خدادادصلاحیتیں بھی ہوں‘عمران خان ہی نہیں بہت سے دیگر مقبول افراد اپنی مقبولیت اور عوام کی محبت سے یہ اندازہ لگابیٹھے کہ اب شاید سیاست میں بھی وہ اسی مقبولیت کی سیڑھی پر پاؤں رکھ کر قبولیت کا درجہ حاصل کرلیں گے مگر کئی اداکار فنکار اورکرکٹر پارلیمنٹ تک پہنچ کر بھی قومی سطح کی رہنمائی کا درجہ حاصل نہیں کرسکے۔ عمران خان کسی حد تک واحد مثال ہیں کہ انہیں وزارت عظمیٰ تک کا موقع نصیب ہوا‘ ان کی جدوجہد بھی بے مثال رہی مگر لیڈرز والی وہ خوبیاں جو قیادت کیلئے نہایت ضروری خیال کی جاتی ہیں‘ وہ کرکٹ کی حد تک رہیں‘کرکٹ میں چند کھلاریوں کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے مگر لیڈر ساری قوم کا رہنماہوتا ہے‘ بلاشبہ عمران ہمدرد‘ مخلص‘ان تھک اور نہایت پراعتماد شخصیت ہیں وہ عام لوگوں کیلئے کچھ کرکے ملک کو بہت اونچا لے جانے کے خواب رکھتے ہیں مگر اقتدار کی کرسی ایسی جگہ ہوتی ہے کہ اس تک کوئی صحیح بات پہنچانا نہایت دشوار ہوتا ہے تاوقتیکہ بندہ لیڈر نہ ہو‘ اس کا ہاتھ عوام الناس کی نبض پر ہو اسکی کئی آنکھیں ہوں اسکا جاسوسی کا نظام بہت اعلیٰ سطح کا ہو‘ اب دنیا بدل چکی ہے بادشاہوں کی طرح جاسوس رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی جو ’حقیقت حال‘ اپنے بادشاہ تک پہنچایا کرتے تھے۔ آج تو تھوڑا سا وقت نکال لیا جائے تو سوشل میڈیا زبان خلق اور نقارہ بنا ہوا ہے‘ عمران خان کو ناکام کرنیوالے باہر سے نہیں آئیں گے۔

بلکہ اسکے اردگرد کے لوگ ہیں جو جیلسی میں اسے کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے‘اس تک حالات کی حقیقی تصویر پہنچنے نہیں دیتے‘ وہ تو پہلے ہی کانوں کے کچے ہیں۔لیڈر تووہ ہوتا ہے کہ وہ جب سٹیج پر کھڑا ہو تو اس کے پیچھے کھڑے ہونے کی کسی کی جرات نہ ہو‘ اس کا رعب اور دبدبہ سب سے پہلے اپنی ٹیم پرہوتا ہے‘یہاں توکیمرے کی بھوک ختم ہونے کا نام نہیں لیتی‘پی ٹی آئی کے آپس کے لوگ لڑ رہے ہیں اور عمران صاحب کسی کو روکنے اور چھوڑنے کا رسک نہیں لیتے۔ حضور والا! آپ سمجھتے تھے کہ ملک کا خزانہ خالی ہے اور حکومت بنانا کانٹوں کا تاج ہے تو نہ لیتے یہ چانس بیٹھتے اپوزیشن میں۔ مگر آپ تو ہر صورت اس کرسی تک پہنچنا چاہتے تھے‘اب ان کانٹوں بھرے راستے پر سفر دشوار تو ہے‘ کس کس کو آپ راضی کریں گے‘ میڈیا کے وہ لوگ جو آپ کیلئے نیک تمنائیں رکھتے تھے اب تو وہ بھی مایوس ہوگئے ہیں ‘ اصل میں تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے آپ نے آج تک نہ توکوئی سرکاری ملازمت کی نہ چھوٹی موٹی وزارت کی کٹھالی سے گزرے‘ سو پہلے دن سے اب تک ہر روز ابھی سیکھنے کے مراحل میں ہیں‘ اس زبوں حالی میں قوم آپکے سیکھنے کے مرحلے تک انتظار نہیں کرسکتی‘آپکو ہوم ورک کرنا چاہئے تھا‘حالات تو آپکے سامنے تھے آپ اپنے ساتھ ایسی ماہرین کی ٹیم تیار رکھتے جو ان مسائل سے آپ کو نکالنے کی کوشش کرتی‘اب تو ہر جگہ آپ انہی لوگوں کو لگا رہے ہیں جو پہلے بھی اسی نظام کا حصہ رہے ہیں‘ بھلا آپ کوکامیاب کیوں ہونے دیں گے۔

آپکے اردگرد جو لوگ ہیں ان میں زیادہ تر روایتی سیاستدان ہیں جو الیکشن میں پیسہ لگاتے ہی دوگناکرنے کیلئے ہیں‘ انہیں قوم سے ہمدردی کیاہوسکتی ہے؟ سو اب قوم مہنگائی کے سیلاب سے چیخ رہی ہے ابھی مزید چیخے گی ‘آپکے وزیر خزانہ نے کانوں میں انگلیاں دے رکھی ہیں آپ ایسا نہیں کرسکتے ‘سو حالات آپکے خلاف جا رہے ہیں تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں۔ پنجاب میں بھی اگر کسی باصلاحیت شخصیت کو لگاتے تو آپ کا بوجھ تقسیم ہوجاتا۔مجھے افسوس ہے کہ بہار کے دن ہیں شہر میں ہر طرف شادابی اور پھول ہیں میلہ چراغاں کی رونقیں لگی ہوئی ہیں اور مجھے سیاست جیسے خشک موضوع پر لکھنا پڑ رہا ہے۔ چلیں ادھر سے منہ پھیرکر دوسری طرف دیکھتے ہیں۔جشن بہاراں منایا جارہا ہے اسکے باوجود کہ حکومتی خزانہ خالی ہے مگر ضلعی سطح پر بھی کچھ نہ کچھ ’جشن‘ تو ہو رہا ہے لاہور جسے پنجاب کا دل کہتے ہیں اور لاہور کا دل الحمرا آرٹس کونسل قرار دی جاتی ہے مگر اس بار الحمرا یا پنجاب آرٹس کونسل نے جشن بہاراں روایتی انداز میں نہیں منایابس گونگلوؤں سے مٹی جھاڑی ہے۔ ہم تو داد دیں گے ڈاکٹر صغرا صدف کو کہ بجٹ نہ ہونے کے باوجود بھی اس نے لاہور کی ثقافت کا چراغ بجھنے نہیں دیا‘ باقی آرٹس کونسلوں کی آمدنی بھی خوب ہے مگر فنکاروں کیلئے کوئی سامان دل بستگی نہیں‘ یہاں گورنر پنجاب چودھری سرور‘ وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود‘ سعدیہ سہیل‘ آمنہ الفت اور کئی دیگر سیاسی افراد بھی دیکھے جو اس ملک کے ٹیلنٹ کو آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ کاش وہ ان فنکاروں کیلئے بھی کچھ گزریں‘یہاں علمی ادبی ثقافتی اداروں کی سالانہ گرانٹیں بھی نہایت کم کر دی گئی ہیں کیا اس طرح خزانہ بھرا جاسکتا ہے؟ یہاں بڑے نامور فنکار موجود تھے جنہوں نے اپنی پرفارمنس سے لاہوریوں کے دل جیت لئے ‘یہ میلہ چراغاں چار دن تک جاری رہا مگر یہ میلہ پلاک تک محدود رہا‘ ہر عوامی تہوار پلاک تک دکھائی دیتا ہے‘ کاش الحمرا اور پنجاب آرٹس کو بھی کوئی صغرا صدف نصیب ہوجائے‘جو سب کو ساتھ لیکر چلے محبت‘ خلوص اور جی بسم اللہ کرتے ہوئے۔کاش !!