151

مکالمہ اور ڈی بیٹ

اردو زبان و ادب سے وابستہ نیو یارک کے ارباب قلم اور اصحاب دانش متنوع موضوعات پر علمی گفتگو کیلئے باقاعدگی سے ادبی نشستوں کااہتمام کرتے رہتے ہیں ان محافل میں شاعری‘ افسانے ‘ ناول اور تنقید سے لیکر زندگی اور ادب کے تعلق کے بارے میں دلچسپ اور فکر انگیز گفتگو ہوتی ہے معاملات فکرو فن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ انحراف و اجتہاد و اختلاف میں پنپتے ہیں ظرف و نظر کے اس منطقے میں ارباب بصیرت کبھی کبھار لکیر کی دوسری طرف بھی چلے جاتے ہیں اس جولانگاہ میں دیکھتے ہی دیکھتے چنگاری الاؤ میں بدل جاتی ہے چند روز پہلے سخن وروں کی محفل میں ایک تڑاکا ہوا‘صاحبان فکر کا مباحثہ سخن فہمی اور سخن سنجی کی چھتنار چھاؤں سے نکل کر تصادم کی دھوپ میں آ کھڑا ہوا‘پتہ چلا کہ مرحلہ ہائے شوق موجہ گل والی گذر گاہ خیال کو چھوڑ کر تھانہ کچہری کی حدود میں داخل ہو گئے ہیں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے محترم دوست ‘ شاعر ‘ ادیب اور محقق واصف حسین صاحب کی نئی تصنیف ’’لااکراہ‘‘ کی تقریب رونمائی کا اہتمام حلقہ ارباب ذوق(رجسٹرڈ) نیو یارک نے سترہ مارچ کی شام کو کیاتھامیرا عمل دخل اسمیں اسلئے تھا کہ صاحب تصنیف نے مجھے چار مارچ کو اپنی ادبی کاوش پر ایک تنقیدی مضمون لکھنے کی دعوت دی تھی‘ یہ میرے لئے اعزاز کی بات تھی اسکے بعد 186 صفحات پر مشتمل ’’لا اکراہ‘‘ کے بغور مطالعے کے بعد میں نے چند اوراق بے وقعت مرتب کر لئے تھے پندرہ مارچ کی شام تک ایک عدد پراناڈرائی کلین شدہ سوٹ بھی الماری میں ہمارا منتظر تھا اور ایک نئی میڈ ان بنگلہ دیش قمیض بھی ہم نے درجن بھر کامن پن نکلوانے اور سلوٹیں سلجھانے کیلئے گھر والی کے حوالے کر دی تھی‘ اگلی صبح ہم آئینے سے بہت دور کھڑے ہو کر باآواز بلند تنقیدی مضمون کو پڑھ کر اسکی ٹائمنگ کر رہے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی دوسری طرف ہمارے عزیز دوست واصف حسین صاحب تھے خلاف توقع کچھ ناراض لگ رہے تھے انہوں نے اطلاع دی کہ وہ اتوار کی ادبی نشست میں شرکت کیلئے نہیں جا رہے اور اس محفل سے لاتعلقی کا اعلان انہوں نے اسی روز یعنی ہفتے کی صبح فیس بک پر کر دیا تھا‘ اسکی وجہ یہ بتائی گئی کہ حلقے والے انکی کتاب کو آڑے ہاتھوں لینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ایک ایسے شخص کو بھی مدعو کیا گیا ہے جو انتہا پسند ہے ہم نے معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی فیصلہ ہو چکا تھا اور پتھر پر لکیر تھا فون بند کرتے ہی نگاہ اپنے اوراق بے وقعت پر پڑی وہ ہمارا منہ چڑا رہے تھے چراغ‘ دےئے اور دیپ سب بجھ گئے‘ اسی مایوسی کے عالم میں ہم نے حلقے کے روح رواں طاہر خان صاحب کو فون کیا پتہ چلا کہ انکے کہنے پر چند احباب واصف صاحب کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے تھے‘ طاہر خان نے کہا کہ اس تقریب میں صاحب تصنیف میرے مہمان ہوں گے اور انکا احترام سب پر لازم ہو گا‘ میں نے انکی یہ یقین دہانی واصف صاحب تک پہنچا دی مگر وہ نہ مانے۔

اسکے بعد سترہ مارچ کو کتاب کی تقریب رونمائی منعقد ہو گئی اس میں جتنے مضامین پڑھے گئے ان میں سے کسی ایک میں بھی حرف دشنام کا شائبہ تک نہ تھا‘ واصف صاحب کے رشحات فکر کی اتنی تعریف و توصیف کی گئی کہ بعد ازاں یہ کہا گیا کہ اس کتاب میں حساس مذہبی عقائد پر مضامین تازہ کے انبار لگے ہوئے ہیں کیا انکے بارے میں کوئی سوال نہ پوچھا جا سکتا تھا سوال تو بہت تھے مگر آئینے میں بال آچکا تھا اسلئے انہیں رہنے دیا گیا‘ بات یہیں تک رہتی تو ٹھیک تھا مگر اسکے بعد واصف صاحب نے اٹھائیس مارچ کے اخبار میں ’’ ایک میلا دن‘‘ کے عنوان سے شائع ہونیوالے کالم میں حلقے والوں کی خوب خبر لی‘ کالم نگار نے قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دیتے ہوئے لکھا ’’ ہم نے ہفتے کی صبح فیس بک پر اس تقریب کی منسوخی کا اعلان کر دیااور طاہر خان کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیاجس پر موصوف نے اظہار نا پسندیدگی کیا‘‘ اسی بات کو بڑھاتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’’ اسکے بعد اخلاقیات کا تقاضا یہ تھا کہ میری جانب سے کتاب کی لانچنگ منسوخ کرنے کے بعد یہ اجلاس اس کتاب کے حوالے سے نہ ہوتا یہ ادبی بدعت ادب میں حرام ہے‘‘ اسکے جواب میں حلقے کے منتظمین کہتے ہیں کہ صاحب تصنیف نے ان سے جو کمٹمنٹ تین مارچ کو کی تھی وہ اسے یک طرفہ طور پر تقریب سے ایک روز پہلے سولہ مارچ کو کینسل کرنے کا اختیار نہ رکھتے تھے‘اس قسم کی کمٹمنٹ ہو جانے کے بعد معاملات ایک ہاتھ میں نہیں رہتے‘ مہمانوں سے شرکت کی استدعا کر دی گئی ہوتی ہے جنہیں دعوت کلام دی گئی ہوتی ہے انہوں نے مضامین تیار کر لئے ہوتے ہیں دور دراز سے بھی کچھ لوگوں کو آنا ہوتا ہے ‘صاحب تصنیف نے اگر آخری لمحے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو اسے گوارا کیا جا سکتا تھا مگر اس پر ایک اختلافی کالم لکھنا اور پرانے دوستوں کو مطعون کرنا ایک نہایت قابل افسوس عمل ہے۔

مجھے اس تنازعے پر اپنی رائے دینے کی ضرورت اسلئے محسوس ہوئی کہ میں نے ’’ لا اکراہ‘‘ کا مقدمہ خصوصی توجہ کیساتھ پڑھا تھاگیارہ صفحات پر مشتمل اس مقدمے میں واصف صاحب نے لکھا ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ’’ عام لوگ ان مسائل پر خود سوچیں اور اپنے رویوں کا جائزہ لیں اگر ان مسائل پر مکالمہ یا Debateشروع ہو تو مجھے اس سے خوشی ہوگی مکالمہ اور بحث صحت مند عمل ہے اور اس عمل کو جاری رہنا چاہئے‘ مسلمانوں میں مطالعہ سے گریز کی بناپر مکالمہ شروع نہیں ہو سکا مکالمہ جاری رہنا اس بات کی علامت ہے کہ سوچ کا عمل جاری ہے‘‘ کیا یہ حیرانگی کی بات نہیں کہ ’’ لا اکراہ‘‘ پر مکالمے اور Debate کیلئے جس محفل کا اہتمام کیا گیا اس کا اس کتاب کے مصنف نے کمٹمنٹ کرنے کے بعدنہ صرف بائیکاٹ کیا بلکہ اس مکالمے اور Debate کیخلاف ایک دھواں دھار کالم بھی لکھ دیا ۔