126

کلین اینڈ گرین پاکستان‘ انتظامی امور

وزیراعلیٰ محمود خان نے کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کی افتتاحی تقریب اور اگلے روز انتظامی امور سے متعلق اجلاس میں اہم ہدایات جاری کی ہیں‘ وزیراعلیٰ نے صوبہ بھر میں پلاسٹک شاپنگ بیگز کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان بھی کیا ہے مارکیٹ کنٹرول کے لئے دیگر اقدامات کے ساتھ دودھ میں ملاوٹ کے خلاف بھی خصوصی آپریشن کا عندیہ دیا ہے‘ وزیراعلیٰ کے اعلانات اور اقدامات بنیادی شہری مسائل سے متعلق حکومت کے احساس وادراک کے عکاس ہیں‘ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ناقص منصوبہ بندی‘ فرائض سے غفلت کے رجحان اور گڈ گورننس کے فقدان نے عام شہری کے لئے بنیادی سہولیات کی فراہمی کاپورا عمل متاثر کررکھا ہے‘ انکار اس حقیقت سے بھی ممکن نہیں کہ کسی بھی ریاست میں عام شہری بہتری اور تبدیلی کا احساس میونسپل سروسز اور بنیادی خدمات کے نظام میں اصلاح سے ہی پاتا ہے ‘اس وقت پورے ملک میں بڑھتی آبادی کے مقابلے میں خدمات کے ناکافی انتظامات اور مہیا وسائل کے استعمال میں غفلت نے شہریوں کو مشکلات کا شکار کررکھا ہے‘ ایسے میں کلین اینڈ گرین مہم اگر عملی طورپر کامیاب ہوتی ہے تو لوگوں کو ریلیف کا احساس ہوگا‘ خیبرپختونخوا میں یہ مہم اس حوالے سے زیادہ موثر ثابت ہوسکتی ہے کہ اگر پلاسٹک کے شاپنگ بیگز پر پابندی کے حوالے سے ایک موثر کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے تو نہ صرف یہ کہ ان بیگز سے انسانی صحت وزندگی کیساتھ ماحول کو درپیش خطرات کا خاتمہ ہوگا بلکہ پورے صوبے میں بلاک سیوریج سسٹم کو کلیئر کرنے میں مدد ملے گی۔

بنیادی شہری سہولیات کے فقدان کیساتھ ملک کے مجموعی اقتصادی منظرنامے میں گرانی نے اذیت ناک صورت اختیار کررکھی ہے‘گرانی کیساتھ ملاوٹ انسانی صحت اور زندگی سے جڑا ایک سنگین مسئلہ ہے‘ وزیراعلیٰ دودھ میں مضر صحت اجزاء کی ملاوٹ کے خلا ف کریک ڈاؤن کا عندیہ دے رہے ہیں‘و زیراعلیٰ کا اعلان اور رمضان سے قبل کے لئے بعض اقدامات کی ہدایت قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اس پر عمل درآمد کسی ایک دو روز کے چھاپوں سے ممکن نہیں‘اس کے لئے موثر حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی‘ ضروری ہے کہ اس میں ایک طرف سرکاری اداروں کے وسائل یکجا کئے جائیں تو دوسری جانب کمیونٹی سے بھرپور تعاون لیاجائے بصورت دیگر عملی نتائج کا حصول دشوار ہے۔

اگلی بارش کا انتظار؟

صوبے میں طوفانی بارش اور گرد آلود آندھی میں ہونے والے افسوسناک حادثات اور عوام کو پیش آنے والی مشکلات اس بات کی متقاضی ہیں کہ آئندہ اس طرح کے حالات پیش آنے کی صورت میں پیشگی انتظامات کئے جائیں‘ ہر بارش اور طوفان کے بعد درپیش مشکلات کی نشاندہی کے ساتھ یہ امید کی جاتی ہے کہ آئندہ کے لئے پیش بندی کرلی جائے گی تاہم اصلاح احوال نہ ہونے پر اگلی بارش کا انتظار کیاجاتا ہے‘ وطن عزیز کے موسم اور ان کی شدت سامنے کی بات ہے‘ پالیسی سازی اور منصوبہ بندی میں ان کو مدنظر رکھنا مسائل کے پائیدار حل کو ممکن بنا سکتا ہے‘ ہمارے ہاں سیوریج سسٹم کی کلیئر نس ہو یا پھر بجلی کے پول اور تاریں ڈالنے کا کام ‘سائن بورڈز کی ترتیب ہو یا تعمیراتی ملبے کے لئے قاعدہ‘ ان سب میں موسموں کی شدت کا احساس کیا جائے تو پیش آنے والی مشکلات کو کم کیاجاسکتا ہے۔