320

لشمینیا سے متاثرہ افراد کی تعداد 28ہزار ٗ ایمرجنسی نافذ 

پشاور۔خیبر پختونخوا حکومت نے لشمینیا کے حوالے سے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے 30ہزار انجکشن مہیا کر دیئے جبکہ صوبے کے قبائلی اضلاع میں لشمینیا سے متاثرہ افراد کی تعداد 28ہزار سے تجاوز کر گئی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لشمینیا بیماری جان لیوا نہیں ہے لیکن اس سے بچاؤ بہت ضروری ہے اس بیماری کی دوائی رجسٹرڈ نہیں تھی اس لئے کیسوں میں اضافہ ہوا لیکن محکمہ صحت کی بروقت کوششوں اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے لشمینیا کے انجکشن موصول ہوگئے ہیں اور قبائلی اضلاع میں پہنچا دیئے گئے ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ نے لشمینیا کے حوالے سے ایمرجنسی ڈکلیر کردی اور محکمہ صحت خیبر پختونخوا اس بیماری پر قابو پانے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے یہ ایک قدرتی آفت ہے اور اس پر قابو کرنے کے لیے تمام سہولیات کو استعمال کیا جائے گا اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ پشاور شہر میں ہیپتھالوجی کا اسپتال تیار ہے مشینری کے لئے 2 ارب روپے مل گئے پشاور کے تمام ہسپتالوں کی کارکردگی اچھی ہے اور لیڈی ریڈنگ اسپتال کی کارکردگی باقی اسپتالوں سے بہت اچھی ہے۔

اسپتالوں میں مریضوں کے دباؤ کی وجہ سے کچھ غفلت ہو جاتی ہیں ڈاکٹروں کے تبادلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ڈومیسائل بنیادوں پر ڈاکٹروں کی تعیناتی کی جائے گیاور سسٹم کے خلاف اگر ڈاکٹر سیاہ پٹی باندھے تو کچھ نہیں کرسکتا ہے اللہ نے ڈاکٹر حضرات کو ایک بہت اعلیٰ شعبہ عطا کیا ہے اور میری تمام ڈاکٹر حضرات سے گذارش ہے کہ عوام کی خدمت کریں کیونکہ ہم سب پبلک سرونٹ ہیں صوبے کی عوام کی صحت سب سے پہلے ہے ڈسٹرکٹ اور ریجنل ہیلتھ اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس نظام کے آنے سے ضلعی اسپتالوں کا حال ٹھیک ہوجائے گا اور اتھارٹی سے سول سرونٹ کی نوکریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا میری کوشش ہے۔

نیا ایکٹ جکد پاس کیا جائیگا ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کیلئے 104 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 6ہزار 826 ملین روپے مختص تھے 104منصوبوں میں86 پرکام جاری ہے اسی طرح جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 6ہزار 299 ملین مختص تھے ان منصوبوں کیلئے 526 ملین روپے مختص ہیں ۔