138

وزیراعظم‘ وزیراعلیٰ کے احکامات

وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ایک ہی روز مارکیٹ میں قیمتوں کے کنٹرول اور ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کئے ہیں‘ وزیراعظم نے ملک میں ادویات کی سابقہ قیمتیں صرف 72گھنٹے میں بحال کرنے کا حکم بھی دیا ہے‘ خیبرپختونخوا میں قیمتوں میں خودساختہ اضافے اور ملاوٹ کے خاتمے کیلئے جرمانے کیساتھ قید کی سزا بھی دینے کا فیصلہ کیاگیا ہے جس کیلئے قانون سازی کی جائیگی‘ وطن عزیز کی معیشت کو درپیش چیلنج ایک حقیقت ہیں‘ کھربوں روپے کے بیرونی قرضے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ اصل زر تو اپنی جگہ رہا سود کی رقم ادا کرنے کیلئے بھی نئے قرضے لینے پڑ رہے ہیں‘گردشی قرضوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہی رہی ہے‘ سرکاری اداروں کے اندر ڈسپلن کا فقدان عام ہے کل کے منافع بخش قومی ادارے آج قومی خزانے کیلئے بوجھ بن چکے ہیں اداروں کی دھڑا دھڑافروخت بھی ریکارڈ پر ہے‘ توانائی بحران کے خاتمے سے متعلق مختلف دعوؤں کے باوجود بجلی اور گیس کی قلت سے متعلق موسموں کیساتھ شہریوں کی شکایات اسی طرح ہیں‘ معاشی بدحالی اور بدانتظامی نے عام شہری کو بری طرح متاثر کیا ‘ یہ شہری اپنے یوٹیلٹی بل بھی قرض دینے والے عالمی اداروں کی ڈکٹیشن کے مطابق ادا کرتا ہے‘ اس شہری کو بنیادی سہولیات کے حصول میں بھی دشواریوں کا سامنا ہے‘ اس شہری کو ہر وہ ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے جو حکومت سرمایہ کار پر لگاتی ہے‘ یہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں سے ہر مہینے دو دو بار بھی متاثر ہوا ہے‘ اس سب کیساتھ انتہائی مشکلات میں کچن کا خرچ چلانے والے غریب اور متوسط طبقے کا یہ شہری روزمرہ استعمال کی اشیاء خریدنے کیلئے مارکیٹ میں انتہائی گرانی کے ہاتھوں سخت پریشان ہے۔

اسے مہنگائی کیساتھ ملاوٹ کے حوالے سے صحت اور زندگی سے متعلق خطرات کا سامنا بھی ہے‘ علاج کے حوالے سے انتہائی مشکلات سے دوچار اس شہری کیلئے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ سراسر زیادتی کے مترادف ہی تھا‘ سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے گزشتہ دنوں ہونیوالے اجلاس میں دوائی کی تیاری پر اٹھنے والے اخراجات اور مارکیٹ میں صارف سے وصول ہونیوالی رقم سے متعلق انکشاف انتہائی حیران کن تھا‘ دوائی مہنگی ہونے کیساتھ غیر معیاری ہونے کی شکایت اپنی جگہ تشویشناک ہے‘ پریشان کن بات یہ بھی ہے کہ بعض ڈاکٹر ایسی ادویات تجویز کرتے ہیں جو ان کے کلینکس کے آس پاس ہی فروخت ہوتی ہیں اور ان کی مینو فیکچرنگ کمپنیاں بھی عجیب وغریب ہوتی ہیں‘ ادویہ سازی کے بعض اداروں کی جانب سے دوا ئیں تجویز کرنیوالوں کیلئے تحائف اور مراعات سے متعلق باتیں اب عام ہیں‘ ادویات کی قیمتوں اور مارکیٹ کنٹرول سے متعلق وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اعلانات قابل اطمینان ہیں تاہم ان کا ثمر آور ہونا اس بات سے مشروط ہے کہ ان پر عمل درآمد سے متعلق حکمت عملی بھی واضح کی جائے‘ یہ طے کیاجائے کہ آپریشن کون کرے گا اور اوورسائٹ کاکام کس ادارے کے پاس ہوگا‘ اس حقیقت سے کس طرح انحراف کیاجاسکتا ہے کہ کسی ایک ادارے کے پاس گلی محلے کی سطح پر جاکر چیکنگ کا کوئی انتظام نہیں‘ اس مقصد کے لئے اضلاع اور تحصیل کی سطح پر انتظامیہ کو مختلف سٹیک ہولڈراداروں کے وسائل یکجا کرنا ہوں گے‘ ان کو مطلوبہ افرادی قوت دینا ہوگی‘ انہیں تحفظ کیساتھ موقع پر فیصلے کے اختیارات دینا ہوں گے‘ بصورت دیگر چند چھاپے کسی مسئلے کا حل نہیں۔