225

اہم مسائل‘ عملی اقدامات؟

وزیراعلیٰ محمود خان نے گزشتہ چند روز میں انتہائی اہم اور بنیادی مسائل کے حل سے متعلق مختلف احکامات جاری کئے ہیں‘ بعد از خرابی بسیار سہی چیف ایگزیکٹو سیکرٹریٹ میں بنیادی مسائل سے متعلق احساس وادراک موجود پایاجارہا ہے قابل اطمینان بات یہ بھی ہے کہ اب وزیراعلیٰ کے لیول پر جاری بعض اہم ہدایات پر عمل درآمد کیلئے ٹائم لائن بھی دی جارہی ہے جس کیلئے ایک عرصے سے مسلسل نشاندہی کی جارہی تھی‘ ٹائم فریم کے نہ ہونے پر بہت سارے اہم منصوبے اور حکومتی سطح پر جاری ہونیوالی ہدایات عمل درآمد سے محروم ہی رہتی رہی ہیں‘ ٹائم لائن نہ ہونے کے باعث تاخیر کا شکار ہونیوالے منصوبوں کے باعث عوامی مشکلات کیساتھ قومی خزانے پر بھی بوجھ بڑھتا رہا ہے‘ وزیراعلیٰ نے گزشتہ روز دودھ میں ملاوٹ کیخلاف کریک ڈاؤن کا آرڈر جاری کرنے کیساتھ پشاور سمیت تمام بڑے شہروں کیلئے ماسٹر پلان بنانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے‘ دودھ اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء میں ملاوٹ اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت روکنے کیساتھ مصنوعی مہنگائی کا نوٹس وقت کا اہم تقاضا ہے‘ تاہم اس پر عملدرآمد کیلئے زمینی حقائق سے چشم پوشی پوری ایکسرسائز کو متاثر کرسکتی ہے‘۔

ٹھوس عملی اقدامات کیلئے یا تو مارکیٹ کنٹرول کا پرانا مجسٹریسی نظام دوبارہ بحال کیاجانا ضروری ہے یا پھر ذ مہ دار دفاتر کے وسائل بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی‘ یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ شہروں کے جغرافیے وسعت پاتے جارہے ہیں‘ ایسے میں کریک ڈاؤن کیلئے بڑے وسائل اور کمیونٹی کے تعاون کی ضرورت بھی ہوگی‘ جہاں تک ماسٹر پلان کا تعلق ہے تو اس کی تیاری اور عملی صورت اختیار کرنے کیلئے طویل مدت درکار ہوگی اس وقت ضرورت پشاور سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں صفائی مہم کی ہے جسکی نگرانی وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے ہو‘ اس میں سیوریج لائنیں بھی کلیئر کی جائیں تجاوزات کے خاتمے اور ٹریفک کی روانی کیلئے فوری نوعیت کے اقدامات بھی ضروری ہیں‘ خدمات کے اداروں میں سروسز کا آن سپاٹ جائزہ لینے کا سلسلہ بھی جاری رہنا چاہئے‘ صرف نئے پلان کی تیاری اور عملی صورت کا انتظار شہریوں کو درپیش مشکلات حل نہیں کرسکتا‘ ان کیلئے فوری نوعیت کے فیصلے بھی ضروری ہیں۔

کوئٹہ دھماکہ

ہزارگنجی کوئٹہ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے میں تادم تحریر شہید ہونیوالوں کی تعداد 20بتائی جارہی ہے جبکہ تقریباً 48 افراد زخمی ہیں‘زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہونے پر شہید ہونیوالوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکہ صبح سبزی منڈی میں ہوا‘کوئٹہ دھماکہ سے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے‘ وزیراعظم عمران خان سمیت متعدد وزراء اور قومی رہنماؤں کی جانب سے اس افسوسناک واقعے کی مذمت کی گئی ہے‘ واقعے سے متعلق تفصیل تو انکوائری رپورٹ آنے پر ہی سامنے آئے گی‘جس کیلئے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں‘ کوئٹہ دھماکے کیساتھ سکیورٹی انتظامات پر نظرثانی کی ضرورت بھی محسوس کی جارہی ہے‘ سکیورٹی سے متعلق ذمہ دار اداروں کی حکمت عملی میں اگر عوام کو شریک کر لیاجائے تو انتظامات کا دائرہ گلی محلے کی سطح پر پہنچ جائیگا بازاروں میں اگر تاجر تنظیموں کو تمام تر سکیورٹی معاملات پر اعتماد میں لیاجائے تو نہ صرف یہ کہ سکیورٹی اہلکاروں کو انکے کام میں معاونت ملے گی بلکہ خود تاجر مارکیٹ میں ہر ایک پر نظر بھی رکھیں گے‘ اس سب کیلئے پولیس کو ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔