389

بیرون ملک گمنامی کی زندگی گزارنے والے مقبول پاکستانی فنکار

قدرت نے پاکستانی فنکاروں کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے جو اپنی جاندار اداکاری کے باعث نا صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک مقیم لوگوں کے دلوں میں بھی بستے ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنے ان بے پناہ صلاحیتوں کے حامل فنکاروں کو وہ عزت نہ دے سکے جن کے وہ حقدار ہیں۔

عاشرعظیم

نوے کی دہائی کے مقبول ترین ڈرامے’’دھواں‘‘ سے کون واقف نہیں اُس وقت اِس ڈرامے نے نا صرف مقبولیت کے ریکارڈ توڑے تھے بلکہ ڈرامے میں موجود ہر کردار کو انفرادی مقبولیت اور پہچان حاصل ہوئی تھی۔ ڈرامے کے مصنف و مرکزی اداکار عاشر عظیم اپنی جاندار اداکاری کے باعث آج بھی لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ قدرت نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے لیکن آج ہم ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کی شوبز کے لیے خدمات کو فراموش کرچکے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شوبز انڈسٹری میں آج انہیں بے تحاشا کام ملتا لیکن وہ آج کینیڈا میں گمنامی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ چند برس قبل انہوں نے پاکستانی سیاست  میں موجود کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے فلم’’مالک‘‘بنائی لیکن حکومت کی جانب سے نا صرف ان کی فلم پر پابندی عائد کردی گئی بلکہ ان پر زمین بھی تنگ کردی گئی۔ عاشر عظیم کینیڈا میں گمنامی کی زندگی گزارتے ہوئے ٹرک چلاکر گزر بسر کررہے ہیں۔

پاپ گلوکار عالمگیر

گلوکار عالمگیر کو پاکستانی پاپ میوزک کا عملبردار بھی کہاجاتاہے، عالمگیر اپنے منفرد گیتوں اور انداز کی وجہ سے ملک کے پہلے پاپ گلوکار بن کر ابھرے۔ انہوں نے امریکا اور یورپ سمیت متعدد ممالک میں کئی کامیاب شوز کیے، امریکا اوربرطانیہ میں انہیں بہت پزیرائی ملی۔

عالمگیر گزشتہ کئی برسوں سے امریکا میں قیام پزیر ہیں۔ انہوں نے ابتدا میں پاکستانی گیتوں کے ساتھ، ہندوستانی گلوکاروں اور ایلوس پریسلے کے گیت گا کر شہرت حاصل کی، بعد ازاں انہوں نے اپنے گیت بھی گانے شروع کیے۔ ان کے مشہور گیتوں میں ’دیکھا نہ تھا کبھی ہم نے یہ سما‘، ’میں ہوں البیلا راہی‘،’میں نے تمہاری گاگر سے کبھی پانی پیاتھا یاد کرو‘،’دیکھ تیرا کیارنگ کردیا ہے‘وغیرہ شامل ہیں۔

کیپٹن عبداللہ محمود

نوے کی دہائی کے مقبول ترین ڈراما سیریل ’’الفا براوو چارلی‘‘ میں کیپٹن کاشف کرمانی کا کردار نبھانے والے کیپٹن عبداللہ محمود نے اپنے کردار سے پاکستانیوں کے دل میں جگہ بنالی تھی۔ پاک فوج کے تعاون سے تیار کیے جانے والے ڈرامے میں تین دوستوں کی کہانی بیان کی گئی تھی جس میں ایک کیپٹن کاشف کرمانی(کیپٹن عبداللہ محمود )بھی شامل تھے۔ کیپٹن کاشف کا کردار حقیقت میں لیفٹینینٹ کرنل ریٹائرڈ ظفر عباسی سے متاثر ہوکر لکھا گیا تھا۔ کیپٹن عبداللہ نے پاک فوج سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد بیرون ملک مقیم ہونے کو ترجیح دی اور وہ اب بھی وہیں ہیں تاہم ان کے مداح آج بھی انہیں بے حد یاد کرتے ہیں۔

شہنازخواجہ

پاکستان کے مقبول ترین ڈراما سیریل ’’الفا براوو چارلی‘‘ کی مرکزی اداکارہ شہناز خواجہ نے اپنے وقت میں بہت عروج حاصل کیا تاہم شادی کے بعد وہ امریکا منتقل ہوگئیں جہاں انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ اداکارہ شہناز کی کچھ عرصہ قبل تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں جن میں انہیں پہچاننا بہت مشکل ہے۔ اداکارہ شہناز میں وقت کے ساتھ بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے۔

تحسین جاوید

گلوکار تحسین جاوید بھی اپنے زمانے کے مقبول ترین گلوکار تھے، تاہم وہ بھی دیگر فنکاروں کی طرح امریکا منتقل ہوگئے اور وہیں رہائش پزیر ہیں لیکن وہ اکثروبیشتر پاکستان آتے رہتے ہیں۔ تحسین جاوید کے مقبول گیتوں میں اداکار جاوید شیخ اورنیلی پر فلمایا گیا گانا ’دل ہوگیا ہے تیرا دیوانہ‘ آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔ مداحوں کو تحسین جاوید کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے۔

سہیل رانا

پاکستان کے مایا ناز میوزک کمپوزر سہیل رانا کو فلم انڈسٹری میں لیجنڈ اداکار وحید مراد نے متعارف کروایا تھا۔ پاکستان کی پلاٹینئم جوبلی فلم ’’ارمان‘‘ کی موسیقی بھی سہیل رانا نے دی تھی جب کہ فلم کا مقبول ترین گیت ’’اکیلے نہ جانا‘‘ آج بھی دہائیاں گزرنے کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہے۔ فلم ’’ارمان‘‘ اور’’دوراہا‘‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔ ایک انٹرویو کے دوران سہیل رعنا نے پاکستانی فلمی صنعت کے زوال کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے ذہنوں میں اپنے کام کو لے کر تکبر آگیا تھا جو ہماری انڈسٹری کے زوال کی وجہ بنا۔ سہیل رعنا نے ٹی وی پر بچوں کا میوزک پروگرام بھی شروع کیا جس نے شہرت کی نئی بلندیوں کو چھوا۔

پاکستانی فلمی صنعت کو بے شمار لازوال گیت دینے والے لیجنڈ موسیقار سہیل رانا نوے کی دہائی میں کینیڈا منتقل ہوگئے۔ انہوں نے کینیڈا منتقل ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے کینیڈ امنتقل ہونے کا فیصلہ کیا، لیکن جب بھی پاکستان مجھے بلائے گا میں واپس ضرور آؤں گا۔ سہیل رانا نے فلم انڈسٹری کوچھوڑنے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا فلمی صنعت کو خیرباد کہنے پر انہیں پچھتاوا ہوتا ہے کیونکہ فلم ایک آرٹ ہے جہاں آپ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔