106

مطالبات کی فہرستیں

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اپنے مطالبات کی فہرست پاکستان کو دیدی ہے‘ ایف اے ٹی ایف نے ملک کے تمام صرافہ بازاروں کا ریکارڈ دستاویزی صورت میں ترتیب دینے کا کہا ہے‘ سونے کی لین دین کیلئے نقدی استعمال نہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے‘ٹاسک فورس کے مطالبات کا تعلق تو گرے لسٹ سے ہے اور انکا جائزہ ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہی لیا جائیگا اس سے قبل آئی ایم ایف نئے قرضے کے اجراء کیلئے اپنے مطالبات پیش کرچکا ہے‘آئی ایم ایف کے سوالات اور مطالبات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ مانیٹری فنڈ کے سوالات اس انداز میں ہوتے ہیں جیسے کوئی رشتہ طے کر رہا ہو‘ پاکستان کو قرض دینے والوں کی جانب سے شرائط اور مطالبات کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے یہاں تک کہ یوٹیلٹی بل بھی ان مطالبات کی روشنی میں ترتیب دئیے جاتے رہے ہیں‘یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنیوالی حکومتوں میں یہ بات مشترک رہی کہ اپنے سے پہلے حکمرانوں پر قرضے بڑھانے کی ذمہ داری ڈالی جاتی رہی جبکہ حکومت چھوڑتے وقت یہ حکمران ان قرضوں کے حجم میں خود بھی اضافہ کرتے چلے گئے ٗ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے بھی نئے قرضے لینے پڑرہے ہیں ‘اکانومی کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے وقتی اقدامات تو اپنی جگہ قابل اطمینان سہی وزیر خزانہ صورتحال کی وضاحت وینٹی لیٹر اور آئی سی یو سے کرتے ہیں۔

وقت کا تقاضا یہ ہے کہ وقتی اقدامات کیساتھ اب مسئلے کے مستقل اور پائیدار حل پر زیادہ توجہ مرکوز کی جائے اب یہ روایت ختم ہونی چاہئے کہ برسراقتدار آنے پر سابقہ حکومت کے اقتصادی اعشاریے دینے کیساتھ خود اپنے دور میں قرضوں کا والیوم مزید بڑھادیا جائے‘ اسوقت ضرورت ایک جانب ریونیو کے شعبے میں اصلاحات کی ہے تودوسری طرف تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ہے‘ صورتحال کا تقاضا ہے کہ توانائی بحران کا خاتمہ کیا جائے سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگاربنایا جائے‘مصنوعات کی پروڈکشن کاسٹ کم کی جائے اورپراڈکٹس کا معیار یقینی بنایا جائے ‘اس سب کیساتھ عوام کو ریلیف دینے کیلئے مارکیٹ کنٹرول کی جائے عوام کو مہنگائی اور ملاوٹ سے نجات دلائی جائے معاشی استحکام کیلئے سیاسی استحکام پر بھی توجہ دیناہوگی تاکہ سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار بنایا جاسکے۔

سہولیات سے متعلق آگہی؟

صحت کے شعبے میں حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات اور اعلانات کیساتھ عوامی شکایات میں کمی کی بجائے اضافہ ساری ایکسر سائز کو بے ثمر کر دیتا ہے سینئر معالجین کے رخصت پر جانے ٗ بڑے شفاخانے میں ہارٹ سرجری سے متعلق مختلف رپورٹس اور ہسپتالوں میں جگہ جگہ ادائیگی کے مطالبات مریضوں میں تشویش پیدا کرتے ہیں‘ اسوقت عام آدمی کو نت نئے تجربات کی روشنی میں ہسپتالوں کے اندر فراہم ہونیوالی سہولیات سے متعلق آگہی نہیں کیا ہی بہتر ہو کہ حکومتی اقدامات کو عملی شکل دینے کیساتھ ہسپتالوں میں مؤثر انفارمیشن کاؤنٹر بنائے جائیں جہاں مریضوں کو بتایا جائے کہ انہیں کس جگہ کس طرح کی خدمات مہیا ہوں گی‘ یہ کاؤنٹر روایتی انداز کے نہ ہوں کہ جن پر آنے والوں کو صرف سمت بتادی جائے کہ آگے جائیں یا دائیں بائیں مڑیں۔ان ہی کاؤنٹرز پر شکایات کے اندراج اور ازالے کے فوری اقدامات کا انتظام بھی ضروری ہے۔