105

بھارتی انتخابات: بیرونی مداخلت

یادش بخیر‘ گذشتہ عام انتخابات میں شکست کے بعد کانگریس کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی اجلاس میں جنرل سیکرٹری موہن پرکاش نے دعویٰ کیا تھا کہ کانگریس کی انتخابی شکست کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کا ہاتھ ہے اور یہ گٹھ جوڑ 2009ء سے جاری ہے‘ماضی میں موہن پرکاش کے اس دعوے کا مذاق اڑایا گیا لیکن رواں ہفتے شروع ہوئے مرحلہ وار بھارتی انتخابات میں اسرائیل کی دلچسپی اور مداخلت کے ناقابل تردید ثبوت و نقوش سامنے آئے ہیں ۔ نریندر مودی نے جولائی 2017ء میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا‘ جو کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا پہلا دورہ تل ابیب تھا۔ نریندر مودی اس سے پہلے بھی 2006ء میں بحیثیت وزیراعلیٰ گجرات تل ابیب کا دورہ کرچکے تھے۔ اس دورہ میں بھی نریندر مودی نے یہودی ریاست اور اس کے عوام کی بڑھ چڑھ کر تعریف و توصیف کی تھی‘ وزیراعظم کی حیثیت سے نریندر مودی نے دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کو بڑھانے پر کام کیا اور اس وقت اسرائیل بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ پاکستان کیساتھ بھارت کی حالیہ کشیدگی اور نریندر مودی کی کشمیر پالیسی پر بھی اسرائیل کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ نریندر مودی نے بالاکوٹ حملے کیلئے بالکل ویسا ہی جواز گھڑا جو اسرائیل غزہ پر حملے کیلئے گھڑتا آیا ہے یعنی دہشت گرد کیمپوں کی موجودگی کا دعویٰ۔ کشمیر کے حوالے سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اِس مرتبہ انتخابی منشور میں جو پالیسی بیان کی ہے وہ بھی فلسطینی زمینوں پر اسرائیلی قبضے کی پالیسی سے مشابہ ہے۔ انتہا پسندبھارتی جنتا پارٹی کے انتخابی منشور میں کہا گیا کہ کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کرنے اور کشمیر میں غیر کشمیریوں کو جائیداد خریدنے اور کاروبار کی اجازت کیلئے بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35اے نکال دیئے جائیں گے۔ بی جے پی کی اس پالیسی کو بھارت نواز سیاستدان فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے فلسطین سے مماثلت دی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی ایسا کریں۔

ہمیں بھارت سے آزادی کا جواز مل جائے گا۔ پاکستان کیخلاف جارحیت کیلئے بھی بھارتی فضائیہ اسرائیلی ساختہ بم اور ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے‘اسی جارحیت کو بھارت کی برتری اور کامیابی بتا کر نریندر مودی آج کل بی جے پی کیلئے ووٹ مانگ رہے ہیں! بھارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ مکمل ہوچکی ہے‘سات مراحل میں پولنگ کے بعد23مئی کو انتخابی نتائج سامنے آئیں گے تاہم چار مختلف سروے بتاتے ہیں کہ نریندر مودی دوسری مدت کے لئے وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار ہیں۔موجودہ حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی کی قیادت میں انتخابی اتحاد 272نشستیں جیت سکتا ہے‘ سال 2014ء کے عام انتخابات میں بی جے پی نے تن تنہا 282نشستیں جیتی تھیں جبکہ این ڈی اے کے ساتھ اس کی کل نشستوں کی تعداد 336 ہوگئی تھی اگرچہ 272 نشستوں کا مطلب پہلے سے کمزور حکومت ہے لیکن نریندر مودی کا دوسری بار اقتدار میں آنا خطے اور کشمیر کے لئے کیسا ہوگا؟ اس کا جواب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی کامیابی میں باآسانی تلاش کیا جاسکتا ہے! بھارت اور اسرائیل نظریاتی طور پر ایک جیسی ریاستیں نہیں لیکن ہندوتوا اور صہیونیت کا گٹھ جوڑ انہیں قریب لا رہا ہے! اسرائیلی وزیراعظم نے نئی دہلی کے دورے کے دوران ممبئی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بھارتی اور اسرائیلی دہشت گرد حملوں کا درد جانتے ہیں۔

ہم پلٹ کر حملہ کریں گے‘ ہم شکست نہیں مانیں گے۔‘ نیتن یاہو کے یہ الفاظ درحقیقت بی جے پی کی ترجمانی تھے۔ بھارت کی بی جے پی اور اسرائیل کی لیکوڈ پارٹی کی ایک مشترکہ بات یہ بھی ہے کہ معاشی اور سیاسی مسائل کو بنیاد بنانے کی بجائے دونوں جماعتیں خارجی خطرات کی دہائیاں دے کر انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔ مودی اور نیتن یاہو دشمنوں کا خوف پیدا کرکے ووٹروں کو اکٹھا کرتے ہیں اور انکا مخالف سیاستدان غدار قرار پاتا ہے۔ دونوں سیاستدانوں کا نیا دورِ حکومت صہیونیت اور ہندوتوا کو نہ صرف قریب لائے گا بلکہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی بنیاد بھی انہی نظریات پر مضبوط کرنے کی کوشش ہوگی۔ ہندو قوم پرست تاریخ کو توڑ مروڑ کر مسلمانوں کے ظلم بیان کرتے اور اسی پر اپنے نظریات استوار کرتے آئے ہیں۔ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی بھی ایسی مظلومیت پر قوم پرستی کے جذبات ابھارتی ہے۔ مودی کی دوسری مدت میں بھارت کے لبرل اور جمہوریت پسند حلقوں کی آوازیں دب جانے کا خدشہ ہے اور نریندر مودی اسرائیلی ہم منصب کی پٹاری سے مستعار لئے گئے‘ حربوں سے بالخصوص مسلمان اقلیتوں اور کشمیریوں کا جینا دوبھر کر دیں گے ‘بھارت کے عام انتخابات میں مودی کی کامیابی سے پاکستان کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوگا‘ جس کا ایک محرک اسرائیل بھی ہے‘ جو پاکستان کی جوہری صلاحیت پر نشانہ لگائے بھارت کے کندھے پر بندوق رکھے ہوئے ہے۔